ندیم سعید بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، ملتان |  |
 |  ماضی میں بھی توہین رسالت کے ملزم جیل میں ہلاک ہوچکے ہیں۔ |
ملتان کی سنٹرل جیل میں توہینِ رسالت میں سزا یافتہ ایک قیدی مُبینہ طور پر دِل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہو گیا ہے۔ ساٹھ سالہ ادریس ربانی کے خلاف ملتان کے تھانہ ممتازآباد میں سال دو ہزارایک میں ناموسِ رسالت کی فوجداری دفعات دو سو پچانوے بی اور سی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ تیس مئی دو ہزار دو کو ایڈیشنل سیشن جج علی اکبر نے مقدمے کا فیصلہ سُناتے ہوۓ ملزم کو موت کی سزا سنائی تھی۔ ادریس ربانی تب سے سنٹرل جیل میں قید تھے جبکہ سزا کے خلاف اُن کی اپیل لاہور ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت تھی ۔ ادریس ربانی ذیا بیطس کے مریض تھےجبکہ جیل میں اُنہیں مُبینہ طور پر ہیپاٹائٹس سی کا عارضہ بھی لاحق ہو گیا۔ تین جنوری کے روز ادریس ربانی کو ملتان کے نشتر ہسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں گیارہ جنوری تک زیرِ علاج رہنے کے بعد اُنہیں واپس جیل میں بند کردیا گیا تھا جہاں حُکام کے مطابق بدھ کی شام اُنہیں دِل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ |