عقائد کی توہین کےالزام پر مقدمہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور کے نوحی علاقے فیروز والہ میں شریعت دین کی قاتل ہے کا بینر لگانے والے چھ افراد کو پولیس نے گرفتار کر کے ان کے خلاف توہین مذہبی عقائد کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ یہ لوگ رانا ٹاؤن میں ایک قبرستان میں ڈیرے ڈالے ہوۓ تھے اور کل انہوں نے مبینہ طور پر وہاں ایک بینر لگا دیا جس پر مذکورہ نعرہ درج تھا۔اس پر وہاں مقامی لوگ اکٹھے ہوگئے اور بحث و تکرار ہوئی جس کے بعد وہاں جھگڑا بھی ہوگیا۔ پولیس نے مقامی مسجد کے امام قاری غلام مصطفی کے بیان پر اقبال ملنگ سمیت چھ افراد پر مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کر لیا ہے۔ امام مسجد کا کہنا ہے ان کے کلمات بھی انتہائی قابل اعتراض ہیں اور ان کے اس رویے سے علاقے میں امن وامان کی فضا خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ تھانہ فیروزوالہ کے سب انسپکٹر محمود کا کہنا ہے کہ ان تمام افراد کاکام قبرستانوں میں بیٹھ کر بھنگ اور دیگر نشے کرنا ہے ان میں سے چار افراد تو گھروں سے بھاگے ہوۓ نوجوان ہیں اور ان کا سرغنہ اقبال ملنگ ہے اور اب گرفتاری کے بعد وہ کہتے ہیں کہ’ انہوں نے کوئی بینر نہیں لگایا تھا‘۔ پولیس کے سب انسپکٹر کا کہنا ہے کہ ان کی گرفتاری کے بعد امکان ہے کہ ان کے خلاف توہین رسالت کی دفعہ کا بھی اضافہ کر دیا جاۓ جس کی سزا موت تک ہو سکتی ہے ۔ پاکستان میں توہین رسالت کا قانون رائج ہے جس پر اقلیتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو اعتراض ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ قانون ذاتی مخالفت کے لیے استعمال کیا جاسکتاہے۔ پاکستان میں اس متنازعہ قانون کے تحت ماتحت عدالتیں متعدد افراد کو سزاۓ موت دے چکی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||