BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 29 November, 2004, 21:25 GMT 02:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’توہینِ رسالت‘ پر عمر قید، جرمانہ

News image
توہیںِ رسالت کے غلط استعمال کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں
فیصل آباد کی ایک مقامی عدالت نے جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص اقبال کو توہینِ رسالت کے الزام میں عمرقید اور دس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں ملزم کو مزید چھ ماہ قید بھگتنا ہوگی۔

اقبال کے خلاف تھانہ تھرکی والا سمندری میں اس سال تئیس مارچ کو توہین رسالت کی دفعہ دو سو پچانوے سی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

مقدمہ کے مدعی چک دو سو ستائیس گ ب کی مسجد کے امام ذوالفقار ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ ملزم نے تھانے میں آ کر ان سے مذہب پر بحث و تکرار کی اور اس دوران اس نے مسلمانوں کے نبی کی شان میں گستاخی کی۔

ملزم کے وکیل مظفر احمد نے بی بی سی ڈاٹ کام کو بتایا کہ اقبال نے ضمانت قبل از گرفتاری کروالی تھی جس کی بعد میں توسیع نہ ہو سکی اور انہیں ضمانت کی منسوخی کے بعد گرفتار کر لیا گیا تھا۔ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں دو میں سے ایک گواہ پیش ہوا۔

مظفر احمد ایڈووکیٹ نے کہا کہ انہوں نے ہائی کورٹ میں مقدمہ اس عدالت سے تبدیل کرنے کی درخواست بھی کی تھی جو سماعت کے لیے منظور نہ ہوسکی۔ پیر کو عدالت نے فیصلہ سنا دیا۔

جماعت احمدیہ کے ترجمان راشد جاوید نے کہا ہے کہ ’اقبال چار پانچ سال قبل جماعت احمدیہ میں شامل ہوئے تھے اور ان کے خاندان کے دیگر تمام افراد نے ان کی مخالفت کی تھی اور انہیں یہ گاؤں چھوڑنا پڑا تھا۔وہ شادی کرنے کے بعد بہاولنگر کے ایک چھوٹے سے قصبے میں زندگی بسر کر رہے تھے اور چار پانچ سال کے بعد اپنے گاؤں کی محبت میں لوٹے تھے کہ ان پر یہ مقدمہ بنا دیاگیا‘۔انہوں نے کہا کہ’ اقبال کی گرفتاری کے بعد اس کے گھر پہلے بچے کی پیدائش بھی ہوئی ہے‘۔

اس سال کے دوران فیصل آباد میں توہین رسالت کایہ تیسرا مقدمہ ہے جس میں عمر قید کی سزا دی گئی ہے۔ اس سے پہلے فیصل آباد میں الگ الگ مقدمات میں دو عیسائی افراد کو سزا سنائی جا چکی ہے۔

پاکستان میں توہین رسالت کا قانون رائج ہے جس کے تحت اس کے مرتکب شخص کو سزائے موت تک دی جاسکتی ہے۔ پاکستان کی ماتحت عدالتیں عام طور پر ان مقدمات میں موت تک کی سزا سناتی ہیں۔جن میں اکثر اعلی عدالتوں سے کالعدم قرار دی گئیں ہیں۔

توہین رسالت کے مقدمات میں ملوث بعض افراد کو قتل بھی کیا جا چکا ہے اور بعض کو جلاوطنی کی زندگی بسر کر نا پڑ رہی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد