قبرستان سے باہر تدفین | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی پنجاب کے شہر بہاولپور کی جیل میں انتقال کر جانے والے توہین رسالت کے ملزم چودھری بشیر کو مسلمانوں کے قبرستان میں جگہ نہیں مل سکی اور انہیں ان کے قبرستان کے باہر ان کی ذاتی اراضی پر دفن کردیا گیا۔ ستر سالہ چودھری بشیر احمد کو توہین رسالت اور مبینہ طور پر نبوت کا دعوی کرنے کے الزام میں عدالت سے سزاۓ موت ہوئی تھی لیکن کل بہاولپور کی جیل میں ان کا انتقال ہوا تو ان کے آبائی شہر بہاولنگر کے بعض مسلمان علماء نے اعلان کر دیا تھا کہ ان کی میت کو مسلمانوں کے کسی قبرستان میں دفن نہیں ہونے دیا جاۓ گا۔ آج پوسٹ مارٹم کے بعد دوپہر بارہ بجے ان کی میت بہاولنگر میں ان کے گاؤں جوڈانہ میں لائی گئی تو پولیس کی نفری ہمراہ تھی۔ ایک مقامی نامہ نگار شفیق خان نے بتایا کہ ستر سے سو کے درمیان انکے انتہائی قریبی رشتہ داروں نے نماز جنازہ ادا کی نماز جنازہ ادائیگی کے لیے مقامی امام مسجد موجود نہ تھے جس پر دوسرے گاؤں سے ایک امام مسجد کو بلایا گیا اور انہیں ان کے آبائی قبرستان کے باہر دفن کر دیا گیا تدفین کے موقع پر پولیس کی نفری میں اضافہ کر دیا گیا تھا ۔ متوفی کے بھانجے چودھری ذوالفقار نے بتایا کہ مولویوں کے شر سے بچنے کے لیے ان کی میت کو قبرستان سے باہر دفن کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا متوفی نے کوئی توہین رسالت نہیں کی تھی بلکہ انہیں ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ متوفی کے بیٹے کوایک مولوی نے دس بارہ لاکھ روپے قرض واپس کرنا تھا اور اس مقدمے میں وہی مولوی سب سے آگے تھا۔ وکیل استغاثہ طلعت محمود ککے زئی نے کہا کہ ان کے توہین رسالت پر مبنی آّڈیو کیسٹ موجود ہے اور معتبر گواہیوں کے نتیجے میں انہیں سزا ہوئی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||