BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 05 December, 2004, 07:26 GMT 12:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
توہین رسالت کا ملزم، تدفین متنازعہ

توہین رسالت کا الزام بہت سے لوگوں پر لگ چکا ہے۔
توہین رسالت کا الزام بہت سے لوگوں پر لگ چکا ہے۔
پاکستانی پنجاب کے شہر بہاولپور کی جیل میں توہین رسالت کے ایک ملزم انتقال کر گئے ہیں لیکن ان کی تدفین کا عمل متنازعہ ہوگیا ہے اور ان کے آبائی شہر بہاولنگر کے مسلمان علماء کرام نے اعلان کیا ہے کہ انہیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں ہونے دیا جائے گا۔

بہاولنگرکے نواحی علاقے جوڈانہ گاؤں کے چودھری بشیر احمد کو سزائے موت ہو چکی تھی ۔اکتوبر سن دو ہزار ایک میں ان کے آبائی شہر بہاولنگر میں ان کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ درج کرایا گیا اور انہیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

وکیل استغاثہ طلعت محمود ککے زئی نے بی بی سی کو بتایاکہ ان پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے مبینہ طور پر نبوت کا دعوی کیا تھا اور مسلمانوں کے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت عیسی علیہ سلام ،حضرت مریم اور صحابہ اکرام کی توہین پر مبنی کلمات ادا کیے تھے۔

اس کے علاوہ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے اللہ تعالی کی شان میں بھی گستاخی کی تھی۔

بہاولنگر کے ایڈیشنل سیشن جج راؤ جاوید اختر نے آٹھ اگست کو انہیں سزائے موت دی اور اب سے کوئی تین مہینے پہلے لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بہاولپور بنچ نے ان کی اپیل مسترد کر دی اور موت کی سزا برقرار رکھی تھی۔

سنیچر کو وہ بہاولپور کی کال کوٹھری میں انتقال کر گئے اور جیل حکام نے ان کی موت کو بظاہر دل کا دورہ قرار دیا ہے آج پوسٹ مارٹم کے بعد ان کی میت ان کے ورثا کے حوالے کی جاۓ گی۔

لیکن بہاولنگر میں ان کی موت کے بعد بعض مسلمان علماء نے اعلان کیا ہے کہ نہ تو ان کی نماز جنازہ پڑھائی جائے اور نہ ہی انہیں مسلمانوں کے کسی قبرستان میں دفن ہونے کی اجازت دی جاۓ گی۔

عالمی مجلس ختم نبوت بہاولنگر کے مرکزی رہنما مولانا محمد قاسم شجاع آبادی نے کہا کہ مرکزی مسجد جامعہ نادر شاہ میں انہوں نے ایک قراداد منظور کرائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چودھری بشیر کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں ہونے دیا جائے گا اور اگر انتظامیہ نے ایسی کوئی کوشش کی تو اس کا سختی سے جواب دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ان کے ورثا اگر ان کی لاش کو مسلمانوں کے کسی قبرستان میں لے آئے تو انہیں جنازے سمیت وہاں سے زبردستی نکال دیا جائے گا۔

وکیل صفائی رفیق ناصر نے کسی قسم کی بات کرنے سے انکار کردیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ ملزم کے ذہنی مریض ہونے کے طبی سرٹیفکیٹ عدالت میں داخل کرائے گئے تھے۔

ایک مقامی نامہ نگار نے امکان ظاہر کیا ہے متوفی کے ورثا ان کی تدفین ان کی آبائی اراضی میں ایک ایسی جگہ کریں گے جہاں پہلے سے کوئی قبرستان نہیں ہے۔اور ان کے ورثا آج کسی وقت ان کی میت لیکر بہاولپور سے بہاولنگر پہنچ جائیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد