BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 September, 2005, 12:56 GMT 17:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ملاقات ہوئی ہے، تسلیم نہیں کیا‘

پاکستان کا دفترِ خارجہ
جنرل پرویز مشرف کی اسرائیل کے سابق وزیر اعظم شمعون پریز سے ایک ’اتفاقی ملاقات‘ ہو چکی ہے
اسرائیل اور پاکستان کے وزرائے خارجہ نے ترکی کے شہر استنبول میں پہلی بار براہ راست بات چیت کی ہے۔

وزارت خارجہ کے سیکریٹری ریاض محمد خان نے پریس پریفبگ میں بتایا کہ اس ملاقات کا یہ مقصد ہرگز نہ لیا جائے کہ پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہے۔

ایک طرف انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی خواہش پر ہونے والی اس ملاقات سے مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے جاری بات چیت کو تقویت ملے گی جبکہ دوسری جانب انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے بارے میں پاکستان کی پالیسی تبدیل نہیں ہوگی۔

ان کے مطابق پاکستان اپنے پرانے موقف پر قائم ہے کہ القدس کو فلسطین کا دارالحکومت بنایا جائے اور جب تک ایسا نہیں ہوگا وہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے۔

ادھر پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید قصوری نے ملاقات کے بعد استنبول میں کہا ہے کہ ان کی حکومت نے بقول ان کے ’اسرائیل سے رابطہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

جبکہ ملاقات کے بعد اسرائیل کے وزیر خارجہ سلوان شیلوم نے کہا کہ ان کی حکومت مسلم دنیا سے ایک نیا رابطہ قائم کرنے کے خواہشمند ہے۔

ریاض محمد خان سے کابینہ اور پارلیمینٹ کو اعتماد میں لینے کے بارے میں کئی سوالات ہوئے جن کا وہ اطمینان بخش جواب نہیں دے پائے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اس ملاقات میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان پاکستان کے ثالثی کے کردار کے بارے میں بات نہیں ہوئی۔

البتہ انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی سے یہودی آبادکاروں کے انخلاء کے اسرائیلی قدم کا پاکستان نے خیر مقدم کیا تھا اور اس ملاقات میں ان کی ہمت افزائی کی گئی۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ دنیا کے اور ممالک نے کیا ایسا کچھ نہیں کیا تھا جو پاکستان کو کرنے کے لیے ملاقات کرنی پڑی تو سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ پاکستان کی دنیا میں اپنی اہمیت اور کردار ہے۔

ریاض محمد خان نے بتایا کہ اسرائیلی وزیر خارجہ سے خورشید محمود قصوری کی ملاقات سے قبل یعنی گزشتہ منگل کو صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف نے سعودی عرب کے بادشاہ عبداللہ اور فلسطین کے صدر محمود عباس کے علاوہ مختلف برادر اسلامی ممالک کو اعتماد میں لیا تھا۔

جب ان سے ایران کو اعتماد میں لینے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ باقی مسلمان ممالک کے نام نہیں بتانا چاہتے۔

اطلاعات کے مطابق پاکستان اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کرانے میں ترکی کے صدر نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس ملاقات کو آخری وقت تک خفیہ رکھا گیا تاکہ سخت گیر اسلامی حلقوں کے رد عمل سے ماحول خراب نہ ہو۔

جماعت اسلامی سمیت مذہبی جماعتوں نے اس ملاقات کو پاکستان کی تاریخ کا بدترین دن قرار دیتے ہوئے صدر مشرف پر فلسطینیوں کو تنہا چھوڑنے اور امریکہ کو خوش کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب حکمران مسلم لیگ اور ملک کی خاصی آبادی صدر مشرف کے اس قدم کو بہادارانہ قرار دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے دو برس قبل اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کرنے کے بارے میں ایک بحث کا آغاز بھی کیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد