 | | | پاکستان اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ |
اسرائیل اور پاکستان کے وزرائے خارجہ نے ترکی کے شہر استنبول میں پہلے باضابطہ اعلیٰ سطحی مذاکرات کئے ہیں۔ پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید قصوری نے ملاقات کے بعد کہا کہ پاکستان کی حکومت نےاسرائیل سے رابطہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اسرائیل کے وزیر خارجہ سلوان شیلوم نے کہا کہ ان کی حکومت مسلم دنیا سے ایک نیا رابطہ قائم کرنے کی خواہشمند ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق پچھلے ہفتے غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلا کے بعد پاکستان کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ بات چیت کے لیے مثبت رویہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پاکستان اور اسرائیل کے درمیان اس رابطے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا غزہ سے یہودی آباد کاروں کے انخلاء کے بعد اسرائیل کی جانب مثبت رویہ رکھنے سے خطے میں امن کی امید پیدا ہو سکتی ہے؟ کیا اسرائیل اور مسلم دنیا کے درمیان تعلقات کی بہتری میں پاکستان کوئی موثر کردار ادا کر سکتاہے؟ کیا فلسطینی حکام اور اسرائیل کے درمیان رابطے کے باوجود پاکستان کو اسرائیل سے رابطے کا آغاز نہیں کرنا چاہیے؟ اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات سے پاکستان کو کیا فوائد یا نقصانات ہو سکتے ہیں؟ اب یہ فورم بند ہو چکا ہے۔ آپ کی آراء سے ایک انتخاب نیچے درج ہے۔
محمد قیصر، کینیڈا: پاکستان کو چاہیے کہ اسرائیل کو تسلیم کرلے۔ دنیا کے تقریباً تمام مسلمان ملک پہلے ہی ایسا کر چکے ہیں۔ ہماری اسرائیل سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ ہم نے ہمیشہ فلسطین میں عرب دنیا کا ساتھ دیا ہے جبکہ انہوں نے کبھی کشمیر کے معاملے پر ہماری حمایت نہیں کی۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے بھارتی سیاست کو بھی شکست دینے میں ہمیں مدد ملے گی۔ اسرائیل اور بھارت کے درمیان دوستی پاکستان کے لیے اچھی بات نہیں ہے۔ فہیم عباس، پاکستان: پاکستان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات پہلا قدم ہے۔ اس سے پاکستان کے مسلمانوں کو بہت نقصان ہوگا اور بہت دکھ بھی ہوا۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ اس کے مفادات ہیں مگر اس میں پاکستان کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور پاکستان پر امریکی دباو نہیں ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر بنائے۔ صدر مشرف کو سوچنا چاہیے کہ اس فیصلے سے پاکستانی خوش نہیں ہیں۔ اسلام دین، متحدہ عرب امارات: بات چیت شروع کرنا بہت اچھا ہے۔ آخر وہ بھی انسان ہیں اور ہمیں دشمنوں کی تعداد کم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ شجاعت خان، پاکستان: پاکستان جو کر رہا ہے ٹھیک کر رہا ہے۔ جب خود فلسطینی ان سے بات چیت کر سکتے ہیں تو پاکستان بھی کر سکتا ہے۔ ہم تو عربوں کے غلام نہیں ہیں۔ جب اسرائیل فلسطین پر قبضہ ختم کرے گا تب تو پورے تعلقات ہونے چاہیے۔ نعیم رمضان، بیلجیم: میں مسلمان ہونے کے ناطے اسرائیل کو تو نہیں جانتا مگر یہ ضرور جانتا ہوں کہ پاکستانی ہونے کے ناطے آپ کسی عرب ملک کے ائیر پورٹ پر جائیں تو دیکھ لیں آپ کے ساتھ کیسا برتاو ہوتاگا۔۔۔آگے آگے دیکھئیے ہوتا ہے کیا! محمد عارف نظامی، پاکستان: اسرائیل پاکستان کا نہیں بلکہ بھارت کا دوست ہے۔ اگر ہم اسرائیل سے دوستی کرتے ہیں تو ہم ایران اور چین جیسے دوستوں کو بھی کھو سکتے ہیں۔ میرے خیال میں اسرائیل سے سفارتی تعلقات ابھی مناسب نہیں ہیں۔ امجد، قطر: یہ جو پاکستانی فلسطین، فلسطین کرتے رہتے ہیں۔۔۔فلسطینی پاکستانیوں سے کتنی نفرت کرتے ہیں، ان کو کیا معلوم ہے؟ زبیر امتیاز، برطانیہ: دو دل مل رہے ہیں، مگر چپکے چپکے!! ارشد خان، ملتان، پاکستان: اگر پاکستان اسرائیل کے ساتھ تعلقات چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ اسرائیل پر فلسطینی علاقوں سے نکلنے کے لیے شدید دباو ڈالے۔ مسعود سید، سعودی عرب: جو لوگ اس دوستی کی تعریف کر رہے ہیں ان کے لیے میں بس اتنا کہنا چاہوں گا کہ اللہ نے کہا ہے کہ یہودیوں کے ساتھ دوستی نہیں ہو سکتی، تو پھر وہ کون ہوتے ہیں اس کی تعریف کرنے والے؟ چاند بٹ، جرمنی: یہ ایک بہت اچھا قدم ہے۔ عرب ممالک نے تو کبھی پاکستان کی مدد نہیں کریں گے، یہ اپنی بادشاہت کو پکا کرتے رہتے ہیں اور پاکستان کے عوام کوئی اب اتنے بھی بھولے نہیں رہے کہ وہ ہر کام میں جذباتی سوچوں سے خود کو ہی مسائل میں ڈالیں۔ ہاں اس طرح پاکستان عربوں کی اور بھی اچھی طرح مدد کرسکے گا۔ شکیل خان، کینیڈا: یہ کافی کم ہے، کافی تاخیر ہوئی ہے۔ پچیس سال پہلے یہ ہونا چاہئے تھا۔ آصف نظیر، کراچی: میں اس کی قطعا حمایت نہیں کرتا کیوں کہ اسرائیل تمام مسلمانوں کا دشمن، غزہ سے اسرائیلی فوج کا انخلاء ایک چال ہے جو دکھانا چاہتا ہے کہ وہ مسلم دوست ہے اور مسلم کنٹریز کی حمایت چاہتا ہے تاکہ بعد میں مسلم ممالک پر کڑی ضرب لگا سکے۔ میں تمام پاکستانی ہم وطنوں نے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اسرائیل کی اس چال کو کامیاب نہ ہونے دیں۔ واصف پیرزادہ، امریکہ: دوستی کیجئے لیکن کسی کے خون کی قیمت پر نہیں، ورنہ بعد میں پرویز مشرف کو یہ نہ کہا جائے۔۔۔۔ (واضح نہیں) احمد جمیل، لاہور: ملاقات تو ہوئی لیکن اس میں ہوا کیا؟ اگر یہ جیسا کہ چمچے کہہ رہے ہیں جنرل مشرف کی جرات کا ایک اور ثبوت ہے تو کیا شیرون کی بھی جرات کا بھی امتحان ہے کہ وہ بھی فلسطین کو کچھ دے گا؟ سید رضوی، امریکہ: وقت آگیا ہے۔ یہ کہنے سے کہ ہم کسی ملک کو تسلیم نہیں کرتے اس ملک کی حقیقت نہیں بدل جاتی۔ اسرائیل ایک ملک کی حیثیت سے وہاں ہے، چاہے آپ مانے یا نہ مانیں۔ اور یہ کہیں جا بھی نہیں رہا ہے۔ اس لئے یہ کہتے رہنے سے کہ ہم تسلیم نہیں کرتے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اسرائیل کے پاس ٹیکنالوجی ہے جو پاکستان کے کام میں آسکتا ہے۔ پاکستان کے ڈِکٹیٹر کا یہ دوسرا بڑا سنجیدہ فیصلہ ہے۔ سمنان شیخ، فروانیہ، کویت: اسرائیل کے ساتھ تعلقات نہیں ہونا چاہئے، لیکن یہ مذاکرات کس وجہ سے ہورہے ہیں، ابھی تو کوئی بات کی وجہ نہیں ہے۔ جلال الدین خوش وقت، دمام: میرے خیال میں یہ ایک اچھا قدم ہے، پاکستان کو اب ہٹ دھرمی کی سابقہ پالیسی کو ترک کرنا ہوگا اور ٹوینٹی فرسٹ سنچری کے تقاضوں کے مطابق فیصلے کرنے ہوں گے، ہمارا اسرائیل سے کوئی تنازعہ نہیں ہے تو دشمنی کس بات کی، ہم صرف دوسروں کے لئے قربانی کا بکرا کب تک بنیں گے، ہم نے ہمیشہ فلسطین کے معاملے میں عرب ممالک کی ہمایت کی ہے مگر افسوس کی کشمیر کے معاملے میں کسی عرب ملک نے کھل کر پاکستان کی ہمایت نہیں کی۔۔۔۔ حسن عباس، پاکستان: اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے بارے میں میرا خیال صحیح نہیں ہے، میں چاہتا ہوں کہ ہماری حکومت اسرائیل کو تسلیم نہ کرے کیوں کہ یہ اسلام مخالف پالیسی ہے۔۔۔۔ فرہان مرزا، بیلجیئم: ہمیں دوسروں کے ساتھ مل کر رہنا سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اظفر صدیقی، میشیگن: پاکستان اور اسرائیل کا آپس میں کوئی جھگڑا نہیں، اس لئے ان کے درمیان کشیدگی کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ یہ نہایت اچھا قدم ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس رابطے سے پاکستان اور اسرائیل ساتھ ساتھ باقی اسلامی ممالک کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ ظہیر اقبال، فیصل آباد: یہ اچھا ہے کہ اسرائیل نے انخلاء شروع کردیا ہے۔ لیکن جیسا ہم جانتے ہیں اور دیگر لوگ بھی کہہ رہے ہیں، یہ انخلاء اسرائیل کا ٹرِک ہوسکتا ہے۔ یہ اچھا ہے کہ اسرائیل نے مسلم کمیونیٹی اور پاکستانی قیادت کے ساتھ بات چیت کی ضرورت کو سمجھا ہے۔ مہر افشان ترمزی، سعودی عرب: ہماری رائے تو بس یہ ہے کہ امام مہدی کا انتظار ہے کیوں کہ اس سے پہلے کچھ بدلنے والا نہیں۔ عمران بھٹ، لندن: خارجہ پالیسی کے معاملے میں اسرائیل کی اہمیت کو سمجھنے میں ہم نے کافی دیر کردی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم زمینی حقائق کو سمجھیں اور بغیر تاخیر کے اسرائیل کو تسلیم کرلیں۔ محمد علی، کشمیر: اسرائیل سے تعلقات بنانے میں کوئی حرض نہیں، لیکن کوئی بھی کام ہو وہ اصولوں پر کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل انتہا درجے کے بےاصول ثابت ہوا ہے، اس نے کبھی انصاف کا نہیں سوچا۔ فلسطین میں اس کا ریکارڈ۔۔۔ بابر لودھی، کراچی: میں سمجھتا ہوں کہ جب تک اسرائیل تمام مقبوضہ علاقے خالی نہیں کرتا اور انیس سو سڑھ سٹھ کی سرحد پر واپس نہیں جاتا، پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہ کرے۔ ہاں پاکستان اسرائیل اور فلسطین کے درمیان بات چیت کراسکتا ہے۔ جب فلسطین ایک آزاد ریاست بن جاتا ہے اور اسے یروشلم دارالحکومت کی حیثیت سے مل جاتا ہے تب پاکستان اسرائیل کے ساتھ دوطرفہ تعلقات قائم کرے۔ سعید احمد بیگانہ، جاپان: بات چیت ہونے میں کوئی مضائقہ نہیں بلکہ یہ ایک اچھی شروعات ہے۔ پاکستان بہتر رول ادا کرسکتا ہے اور اسرائیل بھی کشمیر کے مسئلے پر سپورٹ کرسکتا ہے۔ اب ہم ایک نئی دنیا میں قدم رکھ چکے ہیں اور اب ہمیں آگے کی طرف دیکھنا چاہئے۔ شہریار علی، شارجہ: فی زمانہ بدقسمتی سے ہم مسلمان بھی ڈبل اسٹینڈرڈ پر جیتے ہیں، ایک مذہب اور ایک دنیا داری۔ اگر بات مذہب کی ہے تو اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنا ناممکن ہے۔ اور اگر دنیاداری کے حساب سے دیکھا جائے تو بہت سے اسلامی یا عرب ممالک اسرائیل کو پہلے ہی تسلیم کرچکے ہیں اور خود فلسطین بھی کسی حد تک اسرائیل کے حدود کو تسلیم کرچکا ہے۔ اور تو اور فلسطین کے تعلقات انڈیا کے ساتھ بھی ہمیشہ اچھے رہے ہیں جب کہ خود انڈیا کشمیر میں وہی کررہا ہے جو اسرائیل فلسطین میں کررہا ہے۔۔۔۔ اعجاز شاہ، شیکاگو: ہم سب تمام سید ہیں، کچھ سید پیغمبروں کو ہلاک کررہے تھے، معصوم لوگوں کو ان کے گھروں سے باہر نکال دیا۔۔۔۔ انشاء اللہ، ڈیرہ اسماعیل خان: ہم کسی اسرائیل کو نہیں مانتے ہیں، ٹھیک ہے جب اللہ نے یہودیوں کو مسلمانوں کا دشمن کہا، تو یہ ہمارے روشن خیان کون ہیں جو ان سے دوستی کرنا چاہتے ہیں، نہ ان کا اسلام سے کوئی تعلق ہے۔۔۔ شکیل آغا خان، سعودی عرب: میں اس خبر کو سن کر خوش نہیں ہوا، کیوں کہ اسرائیل مسلم ملک نہیں ہے، اس کی پالیسی امریکہ کی طرح ہے۔۔۔ عمران اعجاز، راولپنڈی: پاکستان واحد ایٹامِک پاور ہے۔ اگر ہم نے یہی کام شروع کردیا تو باقی مسلمان ملکوں کو ہم کچھ کہنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ ہمیں ایک ذمہ دارانہ رویہ اپنانا چاہئے۔ یہ کسی بھی صورت ٹھیک نہیں ہے۔ آفتاب حسین، یو اے ای: اس میں کوئی حیرانگی والی بات نہیں، اگر ہماری حکومت اسرائیل کو تسلیم بھی کرے کیوں کہ وہ آلریڈی تسلیم شدہ ہے، مگر پس پردہ، اور پھر امریکہ خود بھی تو اسرائیل کے اشاروں پر چل رہا ہے۔ اگر پاکستان امریکہ کے بجائے ڈائیریکٹ اسرائیل کے اشاروں پر ناچے گا تو اس میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، البتہ شاید کچھ فائدہ ہو۔ علی، ٹورانٹو، کینیڈا: ہماری حکومت نے ہمیشہ امریکہ کی مانی ہے، کوئی نئی بات کریں۔ امین اللہ شاہ، پاکستان: مشرف حکومت کو پاکستانی عوام کا ڈر نہ ہوتا تو یہ پہلے دن سے ہی اسرائیل کی گود میں جا بیٹھتے کیونکہ امریکہ کی ہر بات کو من وعن تسلیم کرنا موجودہ حکومت کا شیوہ ہے اس لیے یہ کوئی غیر متوقع اقدام نہیں ہے۔ میں حیران ہوں کہ اس نیک کام میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی۔ علیم اختر، گجرات: ہم تو مشرف صاحب کو پاکستانی صدر، شوکت عزیز کو پاکستانی وزیراعظم اور خورشید قصوری کو پاکستانی وزیر خارجہ مانتے ہی نہیں پھر اسرائیل کے ساتھ ان کے تعلقات کو پاکستان کے ساتھ تعلقات کیسے مان لیں؟ انہیں کرنے دیں جو وہ کرتے ہیں۔ اسلم نجف، ابو ظہبی: اس درست قدم کا بہت عرصے سے انتظار تھا۔ میرا خیال ہے پاکستان کو اس سے بہت فائدہ پہنچے گا۔ سید رحمٰن، کینیڈا: میرا خیال ہے کہ مشرف صاحب کے باس یعنی صدر بُش کو یہ قدم پسند آئےگا کیونکہ گیارہ ستمبر کے بعد وہ ان کے احکامات بجا لاتے رہے ہیں۔ لیکن مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں اسرائیل سے بات کرتے ہوئے اور اسے تسلیم کرتے ہوئے احتیاط کرنا ہوگی۔ محمد حنیف تنولی، جاپان: جب فلسطینی جواسرائیل کے حریف ہیں اسے تسلیم کر چکے ہیں تو پاکستان کے تسلیم نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔بلکہ اس سے اسرائیل اور اسلامی ملکوں کے درمیان اچھے تعلقات قائم ہوں گےاور جو چیز بات چیت سے حل ہو سکتی ہے وہ جنگ سے نہیں ہو سکتی۔ ظفر خان، ملتان: یہ سارا کچھ امریکہ کے کہنے پر کیا گیا ہے اور یہ اسلام کے ساتھ غداری ہو گی۔ صمد، نامعلوم: امن اور محبت جہاں بھی شروع ہو اس کی حمایت کرنی چاہیے۔ آصف طاہر، فیصل آباد: پاکستان پوری دنیا میں امن اور محبت کا حامی ہے۔ ہمارا اسرائیل کے ساتھ بذات خود کوئی تنازعہ نہیں لیکن یہ اسرائیل ہی ہے جس نے فلسطین کے مظلوم مسلمانوں پر ظلم کی انتہا کی ہے۔ اگر اسرائیل مقبوضہ علاقے خالی کر دے تو اسے تسلیم کر لینا چاہیے۔ اقبال بیگ، سٹاک ہوم، سویڈن: مشرف بہت غلط آدمی ہیں۔ وہ امریکہ کو خوش کرنے کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ شہزاد خان، ایتھنز، یونان: رابطے رکھنا اچھی بات ہے اور اسرائیل کے ساتھ رابطہ رکھنے میں جب عرب ملکوں کو کوئی اعتراز نہیں تو ہمیں بھی نہیں ہونا چاہیے۔ مسائل کا حل مذاکرات سے ہوتا ہے نہ کہ کسی پر تہمت لگانے سے۔ انور خان، پاکستان: جب عرب ملکوں کے شہزادے اور حکمران اسرائیلی لڑکیوں سے شادی کر سکتے ہیں تو پاکستان کو سفارتی تعلقات بحال کرنے میں کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ یہ تو پاکستان کی ترقی کے لیے ایک نیا قدم ہوگا اگر ہمارے ملک کے مولوی اعتراض نہ کریں تو۔ ثناء خان، کراچی: یہ بہت اچھی بات ہے کہ آخر اسرائیل اور پاکستان کے رابطے شروع ہو گئے۔ اس سے دوریاں ختم ہوں گی۔ فلسطین اور اسرائیل میں جب دوستی ہو رہی ہے تو باقی اسلامی ملکوں کو بھی اسرائیل کو تسلیم کر لینا چاہیے۔ اسرائیل نے بستیاں ختم کر کے تاریخی کام کیا ہے اور مسلم دنیا کو اس کا جواب بھی مثبت انداز میں دینا چاہیے۔ پاکستان اور اسرائیل کی دوستی کے نقصانات تو کوئی نہیں۔ جب اس دنیا کے نقشے پر رہنا ہے تو دوستی کر کے ہی رہنا چاہیے۔ عامر حسین، پاکستان: میرا خیال ہے یہ درست سمت میں ایک قدم ہے۔ ہمیں دو باتیں سمجھ لینا چاہیں، ایک یہ کہ مسلم دنیا کی تمام مخالفت کے باوجود اسرائیل ایک زندہ حقیقت ہے اور ہمیں ایک آزاد فلسطینی ریاست کے ساتھ اس کے وجود کو قبول کرنا چاہیے۔ اور دوسری یہ کہ پاکستان کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ اسرائیل ہمارے ہمسائے ملک کے ساتھ ملک کر ہماری سیکورٹی اور سالمیت کے لیے خطرہ ہو سکتا ہے۔اگرچہ ہمیں پوری اسلامی دنیا کا احساس ہے لیکن ہمیں اپنی حفاظت اور ترقی کو بھی ذہن میں رکھنا ہے۔ محمد عمران، کویت: جہاں اتنا کچھ کیا ہے وہاں یہ بھی سہی! محمد فہیم خان، فیصل آباد: بالکل درست قدم ہے۔ آج نہیں تو کل ہمیں اسرائیل کو تسلیم کرنا ہی ہے لیکن پھر شاید وہ فوائد نہ حاصل ہو سکیں جو آج ہو سکتے ہیں۔ وسیم پٹھان، پاکستان: نہیں تسلیم کرنا چاہیے اسرائیل کو۔ واجد نعیم، مریدکے: یہ بالکل ناقابل قبول ہے۔ یہ مشرف حکومت کا ایک اور ’روشن خیال‘ قدم ہے۔ جب اللہ اور اس کے رسول (صلعم) نے کہہ دیا کہ یہودی تمہارے دوست نہیں ہو سکتے تو یہ کیسے سمجھ رہے ہیں کہ اسرائیل ان کا دوست ہو سکتا ہے؟ مجھے ان لوگوں پر افسوس ہے۔ میاں محمد امین، ہیوسٹن، امریکہ: یہ قدم مغربی دنیا کی آنکھوں میں اپنے آپ کو صحیح ثابت کرنے کی ایک کوشش ہے مشرف صاحب کے طرف سے۔ اور یہ بھی کہ وہ مغرب کے لیے ضروری ہیں اس لیے انہیں اقتدار میں رکھا جائے۔ |