 |  اسرائیل میں قدامت پسند یہودی |
گاڈز پیپلز فیلوشپ آف پاکستان کے ڈائریکٹر پادری بوئز فلِپس نے کراچی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستانی مسیحیوں کو اسرائیل جانے کی اجازت دی جائےتاکہ وہ اپنے عقیدے کے مطابق یروشلم میں مقاماتِ مقدسہ کی زیارت کرسکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسیحیوں کو انجیل مقدس کے مطابق انہیں دعا کے وقت اپنا رخ یروشلم کی طرف کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اسرائیل اور پاکستان کے درمیان تعلقات نہیں ہیں جس کا مطلب ہے کہ پاکستانی اسرائیل نہیں جاسکتے اور اسرائیلی پاکستان نہیں جاسکتے۔ پادری فلِپس کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان ہندوستان کو تسلیم کرسکتا ہے تو اہل کتاب اسرائیل کو تسلیم کرنے میں کیا حرض ہے؟ آج کی بدلتی ہوئی دنیا میں کیا پاکستان اور اسرائیل کو تعلقات قائم کرنے چاہئیں؟ کیا آپ پادری فلِپس کے اس نظریے سے اتفاق کرتے ہیں کہ اہل کتاب اسرائیل کو تسلیم کرنے میں کوئی حرض نہیں؟ یہ بھی لکھئے کہ کیا آپ کبھی کسی یہودی سے ملے ہیں اور آپ کو کیسا لگا؟ اب یہ فورم بند ہو چکا ہے۔ قارئین کی آراء سے ایک انتخاب یہاں دیا جا رہا ہے۔
محمد عمران، لندن: میں لندن میں کئی یہودی لوگوں کو مل چکا ہوں اور میں نے ان کو بہت اچھا پایا ہے۔ اسرائیل دنیا کے نقشے پر موجودایک حقیقت ہے اور تمام بڑے ممالک اسرائیل کو تسلیم کرتے ہیں۔ پاکستان بھارت سے تعلقات بڑھا رہا ہے جب کہ بھارت بھی اسرائیل کو تسلیم کرتا ہے۔سرفراز حسین، مکہ، سعودی عرب: اس وقت تک نہیں جب تک اسرائیل فلسطینیوں کو ان کے حقوق نہیں دے دیتا۔ بلال، سٹاک ہوم، سویڈن: یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اس لیے اسے جذبات کی نذر نہیں کرنا چاہیے۔ ملکوں کے درمیان کوئی بھی مستقل دشمن یا مستقل دوست نہیں ہوتا صرف مفادات مستقل ہوتے ہیں۔اگر حکومت سمجھتی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات بڑھانے میں کوئی فائدہ ہے تو کیوں نہیں۔مذہب کو بیچ میں نہ لائیں، یہ ڈپلومیسی کا معاملہ ہے ڈپلومیسی سے حل ہونا چاہیے۔ عبید ہدایت،بحرین: میرا نہیں خیال کہ اس میں کوئی حرج ہے۔دوسروں کے ساتھ دل سے اچھا تعلق رکھیں، یہی مذہب بھی کہتا ہے۔ اسرائیل مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں تینوں کے لیے مقدس ہے، اس لیے عیسائیوں کو وہاں جانے کی اجازت ہونا چاہیے۔ عامر مقصود، ٹورانٹو: اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مطلب ہے کہ وہ جو ظلم اور زیادتی فلسطینیوں کے ساتھ کر رہا ہے وہ جائز ہے۔ اس کا یہ مطلب یہ بھی ہو گا کہ ہم اس بات کو بھی مان رہے ہیں کہ کوئی ملک کسی دوسرے ملک پر قبضہ بھی کر لے تو جائز ہے۔ فواد احمد، لاہور: صدر مشرف کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ اگر اسرائیل فلسطینیوں کو آزادی دیتا ہے تو ہم اسے تسلیم کر لیں گے۔تو اگر اسرائیل ایسا کرتا ہے تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں۔ نتاشہ ملک، برمنگھم، برطانیہ: ہمارا اسرائیل سے کوئی جگھڑا نہیں بنتا۔ پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی بدلنا ہو گی۔ صرف ایک ملک کو تسلیم نہ کرنا کوئی اچھی بات نہیں۔ مذہب کو مذہب کی طرح لینا چاہیے اور ہمارے مذہب میں دوسروں کے مذہب کی عزت کرنے کا سبق دیا گیا ہے۔ شاہد گلزار، ڈنمارک: جی ہاں پاکستان کو چاہیے کہ اسرائیل کو تسلیم کرے۔اگر مسلمان اپنے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے جاسکتے ہیں تو عیسائیوں کو بھی یہ حق ہونا چاہیے کہ اسرائیل میں اپنے مقدس مقامات پر جا سکیں۔ہمیں شدت پسند رجحانات کو چھوڑ کر آگے بڑھنا ہوگا۔ عبدالخان، ٹورانٹو: بالکل نہیں کیونکہ یہودیوں نے ناجائز طریقے سے مشرق وسطٰی میں گھس کر وہاں کے مقامی لوگوں کو نکال باھر کیا ہے۔اسرائیل ایک دہشتگرد ملک ہے ۔ میں فلپس صاحب کو مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ وہ بی بی سی کی ایک ڈاکومنٹری ’ ففٹی ائیرز آف وار‘ دیکھیں کہ ان کو انداذہ ہو کہ کس طرح مسلمانوں کو نکال کر وہاں پر اسرائیل کی ریاست قائم کی گئی۔ علی جمشیدی، کوئٹہ، پاکستان: اسرائیل ایک غیر قانونی ریاست ہے، اس کو تسلیم کرنا دنیا میں جرم کی حوصلہ افزائی کرنے کے برابر ہے۔ امین اللہ شاہ، میانوالی، پاکستان: آج اگر پوری دنیا میں مسلمان ذلیل وخوار ہو رہے ہیں تو یہ انہی یار لوگوں کی وجہ سے ہے۔اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مطلب ہو گا ’آ بیل مجھے مار‘۔ نغمانہ نیازی، اسلام آباد: سوال یہ ہے کہ کیا یہودی بھی مسلمانوں کو تسلیم کرتے ہیں؟ وہ تو انہیں اچھوت سمجھتے ہیں۔ یہ تو آگ پانی کے ملاپ کی بات ہو گی۔ہمیں اس قسم کی فضول بحثوں میں وقت برباد نہیں کرنا چاہیے۔ جاوید اقبال ملک، چکوال: اسرائیل اور انڈیا میں بہت فرق ہے۔انڈیا کے ساتھ ہمارا زمینی تنازعہ ہےجبکہ اسرائیل کے ساتھ نظریاتی۔ ہمیں کبھی بھی اسے قبول نہیں کرنا چاہیے۔ احتشام فیصل چوہدری،شارجہ: اسرائیل کو نہ تسلیم کرنے کا سبب اہل کتاب ہونا یا نہ ہونا نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل انسانی حقوق کی شدید خلا ف ورزیوں میں ملوث ہے۔ پاکستان ایک اسرائیل کے لیے سارے عرب ممالک کے ساتھ دوستی کی قربانی نہیں دے سکتا۔ اے آر قریشی، ٹورانٹو: اب تو عرب ملکوں نے بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر لیے ہیں تو پاکستان کس بات کی ٹھیکیداری کرنا چاہتا ہے؟ احمد لطیف، ڈیٹرائیٹ سٹریٹ، کینیڈا: اگر اسرائیل کو تسلیم کر لیا جائے تو یہ اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ عمل ہوگا۔ملک کے مفاد کو سامنے رکھ کر بھی ہم ایسا کام نہیں کر سکتے۔ میں آج تک کوئی یہودی دوست نہیں بنا سکا اور نہ کسی یہودی نے یہ جان کر کہ میں مسلمان ہوں میری طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے۔ خالدگرمانی، کوٹ چھٹہ، پاکستان: کیا اسرائیل نے پاکستان کو تسلیم کیا ہے جو فلپس صاحب ہم کو مشورہ دے رہے ہیں۔اہل کتاب سے اتنے ہی تعلقات ہو سکتے ہیں جتنا ہماری کتاب کہتی ہے۔اسرائیل تو کبھی زبانی ہم پر حملے کرتا ہے اور کبھی اس کے جہاز بھارتآ جانتے ہیں ہم پر حملہ کرنے۔اسرائیل کے بارے میں تو میں یہ کہوں گا کہ ’نہ تیری دوستی اچھی نہ دشمنی‘۔ محمد علی، امریکہ: مسلمان ملکوں کو چاہیے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بدلے میں اس سے فسلطین کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کریں ۔ خالد عباسی، کراچی: اقوام متحدہ کا ایک رکن ہونے کے حوالے سے تو ہم اسرائیل کو تسلیم کر ہی رہے ہیں، براہ راست ماننے میں کیا حرج ہے؟ شرجیل امتیاز،برطانیہ: اسرائیل کو تسلیم کرنالاکھوں شہیدوں کے خون سے غداری ہے اورجہاں تک اسرائیل کا تعلق وہ دنیا میں سارے فساد کی جڑ ہے۔ قرآن میں صاف لکھا ہے کہ یہود و نصارا کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے۔ مصباح ملک، سعودی عرب: میں نے سب کی رائے پڑھی، بہت دکھ ہوا۔ زیادہ تر لوگ اسلام کو اچھی طرح نہیں جانتے۔اسرائیل کو تسلیم کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ ایک قوم کو اللہ تعالیٰ نے فساد پھیلانے والی قوم کہا ہے اور یہ کہ وہ مسلمانوں کے کبھی دوست نہیں ہو سکتے۔ تو کیا ہم اللہ اور اس کے رسول کی فرمائی ہوئی بات کو غلط ثابت کرنا چاہتے ہیں۔  | ہونا یہی ہے!  پاکستان کو اسرائیل کو تسلیم کرنا چاہیے اور اس کے ساتھ دوستانہ تعلقات بنانے چاہئیں کیونکہ آخر کا فلسطینی اور اسرائیل ایک دوسرے کو تسلیم کر لیں گے اور پھر باقی اسلامی ممالک بھی کر لیں گے۔  نثاراللہ، لندن | نثاراللہ، لندن: پاکستان کو اسرائیل کو تسلیم کرنا چاہیے اور اس کے ساتھ دوستانہ تعلقات بنانے چاہئیں کیونکہ آخر کا فلسطینی اور اسرائیل ایک دوسرے کو تسلیم کر لیں گے اور پھر باقی اسلامی ممالک بھی کر لیں گے۔ اگر ہونا یہی ہے تو اب تسلیم کرنے میں کیا حرج ہے؟
معین پنجوانی، ٹورانٹو، کینیڈا: آپ بی بی سی والے صہیونی میڈیا کی پیداوار ہیں۔ آپ کو پوچھنا چاہیے کہ کیا فلسطین پر یہودی قبضہ جائز ہے، تب آپ کو عوام کی اصل رائے کا اندازہ ہوگا۔ محمد علی، ٹورانٹو، کینیڈا: مسلمان اور یہودی دونوں ہی انتہا پسندی کا شکار ہیں اس لیےان دونوں کے درمیان کبھی مفاہمت نہیں ہو سکتی۔ محمد اقبال، کراچی: بھئی انڈیا تو انیس سو سینتالیس میں ایک ملک بن گیا تھا جبکہ اسرائیل کی بنیاد ہی چوری پر ہے۔ کوئی بھی عاقل شخص اس کو تسلیم کرنے کی مخالفت کرے گا۔ فاروق جان، نیویارک: یہ بالکل ٹھیک ہے ہم اپنے زمانے میں مسیحی ہوکر بھی مسلم بچوں کو کلمے تک پڑھاتے تھے۔ اور ٹیچر تک ہمیں کلمے شوق سے پڑھاتے تھے کہ شاید کلمہ پڑھانے سے یہ مسلمان ہوجائیں گے۔ عمران بھٹ، لندن: یہ عجیب بات ہے کہ ہم انڈیا کے ساتھ براہ راست تنازعے میں ہیں اور دوسری جانب ان سے سفارتی اور تجارتی تعلقات بھی رکھے ہوئے ہیں۔ ہمارا اسرائیل کے ساتھ کوئی زمینی تنازعہ نہیں ہے اور پھر بھی ہم اسے تسلیم نہیں کرتے۔ میرے خیال سے پاکستانی خارجہ پالیسی بنانے والوں کو ٹھیک سے سوچنے کی ضرورت ہے اور بغیر تاخیر کے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔ ظفر احمد، نیو یارک: اسرائیل ایک آزاد مملکت کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر موجود ہے۔ اس لئے ہمیں اسے تسلیم کرنا چاہئے۔۔۔ میں نیو یارک کی ایک یونیورسٹی میں ٹیچنگ اسسٹنٹ ہوں اور کافی یہودی طلباء کے ساتھ واسطہ رہتا ہے اور میرا ان کے ساتھ تجربہ اچھا ہے۔ کوثر تسنیم: اگر حضرت محمد (ص) اپنے زمانے کے یہودیوں سے ڈائیلاگ کرسکتے ہیں اور ان سے ہر طرح کے روابط رکھ سکتے ہیں تو ہمیں بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے میں کوئی خوف نہیں ہونا چاہئے۔ آخر وہ بھی انسان ہیں اور اس دنیا کا حصہ ہیں۔ علی محمد، پیرس: میرا خیال ہے کہ ہم کو اپنے ملک کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا چاہئے۔ تسلیم کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ مذہب کی بنیاد پر نہیں کرنا چاہئے۔۔۔۔ ظفر اسلام، ٹورانٹو: ہاں میں اتفاق کرتا ہوں کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرلے، اس لئے نہیں کہ وہ اہل کتاب ہیں بلکہ انسانیت کے ناطے۔ ہرشخص اور ہر قوم کو امن کے ساتھ جینے کا حق ہے، تمام انسانی حقوق کے ساتھ۔ اور اسلام ہمیں دوسروں کا دشمن ہونے کو نہیں سکھاتا بغیر کسی وجہ کے۔ دوسری جانب اسرائیل بھی قدم اٹھائے امن کی جانب اور انسانیت کے لئے محبت اور امن کا ماحول پیدا کرے اور دوسرے انسانوں کے حقوق کی عزت کرے۔ اسی طرح ہی پوری دنیا پرامن ہوسکتی ہے۔ کریم خان، میڈرِڈ: حقیقت میں مجھے یہ خارجہ پالیسیاں سمجھ میں نہیں آتیں۔ کس پیمانے پر طے کرتے ہیں؟ ۔۔۔ در حقیقت میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے حق میں ہوں، کیوں کہ انہیں الگ رکھنے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ امن رویے میں تبدیلی کےساتھ آتا ہے، میں نے بی بی سی ویب پیج پر ایک اسرائیلی ٹینیج گرل کا انٹرویو پڑھا تھا۔۔۔کہیں کے بھی اعتدال پسند لوگوں کی ہمت افزائی کرنی چاہئے، اور انتہا پسندی سے گریز کی جانی چاہئے۔۔۔۔میں اِتزھاک رابن کی موت کو یاد کرتا ہوں، وہ اسرائیل میں اعتدال پسندوں کے اچھے رہنما تھے۔ غلام مصطفیٰ بلوچ، جرمنی: جناب فلِپس صاحب پاکستان کا کوئی بھروسے نہیں، کل کو اسرائیل کو ایکسیپٹ اور فلسطینیوں کر ریجیکٹ کرلے، یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔  | سیاسی بنیادپر فیصلہ  اگر اسرائیل کو تسلیم کرنا ہے تو پھر اس کا انحصار سیاست پر کرنا چاہئے نہ کہ مذہبی رہنماؤں پر۔ دنیا بدلے یا نہ بدلے مگر اسرائیل نے دنیا کو بدل دیا ہے۔  شیریار خان، سنگاپور | شیریار خان، سنگاپور: ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی اور ہر بدلتی دنیا سچی نہیں ہوتی کہ اسے تسلیم کیا جائے۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے صرف کسی پادری فلِپس کے نظریے کی رائے کافی نہیں بلکہ مسلم عالم کی رائے جاننا بھی ضروری ہے۔ اگر مسلمان عالم بھی پادری کی بات سے اتفاق کرتے ہیں تو پھر عام آدمی کی رائے یا منظوری لینا ضروری نہیں۔ اگر اسرائیل کو تسلیم کرنا ہے تو پھر اس کا انحصار سیاست پر کرنا چاہئے نہ کہ مذہبی رہنماؤں پر۔ دنیا بدلے یا نہ بدلے مگر اسرائیل نے دنیا کو بدل دیا ہے۔ اسرائیل کے پاس آج جتنی دولت اور طاقت ہے کہ اس نے دنیا کے اکثر اقوام کو اپنی سیاسی، معاشی اور دفاعی پالیسیوں کو بدلنے پر مجبور کردیا ہے۔ ایک یہودی سے مل کر ایسا ہی لگا جیسے کہ ایک اچھا انسان ہے مگر اپنے مذہبی نظریات کے زیر اثر ہے۔ اسرائیل کو اس بدلی ہوئی دنیا میں اب اپنا وجود خود قائم رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے، نہ کہ عالمی طاقت کے زیراثر۔ ۔۔۔۔
گل انقلاب سندھی، دادو: غلط کیا ہے اگر اسرائیل کو پاکستان تسلیم کرلے؟ آفٹر آل پاکستان بھی تو اسی ’’ایکسِس آف ایوِل’’ کا حصہ ہے جس کا امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل ممبر ہیں۔ پاکستان پوری طرح امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ دہشت گردی مخالف جنگ میں شامل ہے جو کہ ہر طرح سے ایک امریکی، برطانوی اور اسرائیلی جنگ ہے مسلمانوں کے خلاف۔ پاکستان اس طرح پہلے کبھی نہیں واضح ہوا جیسا کہ اس کا رنگ اب سامنے آیا ہے، یہ اسلام کا قلعہ نہیں بلکہ سی آئی اے، ایم آئی فائیو اور موساد کا مرکز ہے ہمارے خطے میں۔ اس لئے پاکستان کو اپنا چہرہ کھولنا چاہئے اور اسرائیل کو تسلیم کرلینا چاہئے۔ فیصل انعام، دوبئی: اسرائیل نے جب سے وجود میں آیا ہے سوائے پاکستان کی جڑیں کھودنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ یہ ہماری اپنی مرضی ہے کہ کسے تسلیم کریں اور کس کو نہیں۔ اقلیتوں کو صرف اپنی حد میں رہنا چاہئے۔ حکم چلانے کی کسی اور کو اجازت نہیں ہے۔ اور آج تک اسرائیل نے ہمارے کسی موقف کی حمایت کی ہے جو ہم اس کو تسلیم کریں؟ رضوان الحق، پیرس: جب بہت سے عرب ممالک اسرائیل کو تسلیم کرچکے ہیں تو پاکستان کو بھی اسے تسلیم کرنے میں کوئی حرض نہیں ہونا چاہئے۔ آپ جن فلسطینیوں کی خاطر اسرائیل کو ایکسیپٹ نہیں کرتے، ان کے اپنے لیڈر تک اسرائیلی حکومت سے ڈائیلاگ کرتے ہیں۔ زمینی حقیقت کو سمجھنا چاہئے، ضروری نہیں ہے کہ ’دوست کا دشمن آپ کا بھی دشمن’ ہو۔ عالمی پولِٹِکس میں ہر ملک اپنا اپنا مفاد دیکھتا ہے، ہمیں بھی اپنا مفاد دیکھنا چاہئے نہ کہ دوسروں کا مفاد۔ میں یہاں پیرس میں رہتا ہوں اور اکثر یہودیوں کے ساتھ ہی ڈیل رہتی ہے۔ ذاتی طور پر مجھے یہودی برے لوگ نہیں لگے۔ جہاں تک بات ہے نیشن کی تو ہر پرسن کے اندر نیشنلزم ہونا چاہئے، یہ کوئی بری بات نہیں ہے۔ آصف حسین، فرانس: اگر اسرائیل کے یہودی اسلام قبول کرلیں تو (اسلامِ رپبلِک آف اسرائیل) ساری دنیا، قبول ہے۔۔۔؟ احمد جنوجہ، جہلم: ہمارے اسرائیل کے ساتھ کوئی مسائل نہیں۔ ہمارا ان کے ساتھ سرحد نہیں، اور نہ ہی کوئی کلچرل پرابلم۔ اگر عرب اور ترکی ان کے ساتھ تعلقات رکھ سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟ وقت آگیا ہے کہ ہم امۃ کی پیروی کرنے کے شیڈو سے باہر نکلیں اور اپنے بارے میں سوچنا شروع کریں۔  | فرق نہیں پڑے گا  اسرائیل کو تسلیم کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ ایک قوم کو اللہ تعالیٰ نے فساد پھیلانے والی قوم کہا ہے اور یہ کہ وہ مسلمانوں کے کبھی دوست نہیں ہو سکتے۔  مصباح ملک، سعودی عرب | ہارون ریاض، لاہور: نہیں ایسا نہیں ہونا چاہئے۔۔۔۔ میں کبھی کسی یہودی سے تو نہیں ملا لیکن اگر مستقبل میں ملاقات ہوئی تو اسلام کی دعوت پہلے دوں گا۔فراز قریشی، کراچی: اسرائیل اس دنیا کے نقشے پر ایک اٹل حقیقت ہے۔ اگر ہم آج اسرائیل کو تسلیم کرلیں تو فائدہ ہوسکتا ہے، تجارتی معاہدوں کی صورت میں۔ اگر کل امریکہ کے پریشر میں آکر کریں گے تو کوئی فائدہ نہیں۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا معاملہ کتاب یا اہل کتاب کا ایشو نہیں۔ اسرائیل دنیا کے دوسرے ملکوں کی طرح ایک ملک ہے، اس کو تسلیم کرنا چاہئے۔ میں ذاتی طور پر کئی یہودی لوگوں کو جانتا ہوں۔ اور یقین جانیں کہ وہ ہم سے بڑھ کر امن پسند قوم ہیں۔ فیصل انعام، دوبئی: ہم اہل کتاب اس کو سمجھتے ہیں جو کتاب اب تک اپنی اصلی حالت میں برقرار ہو جیسے کہ قرآن کریم۔ رہا سوال کہ کرسچینس کا جھگڑا تو سب کو معلوم ہے کہ سارے فساد کی جڑ یہ لوگ ہیں۔ انہی لوگوں نے اسرائیل کو اس مقام تک پہنچایا ہے، مسلمانوں کے لئے۔۔۔۔ علی، یو کے: اسرائیل کو تسلیم کرنے میں کوئی نقصان نہیں ہے، اس سے تعلقات شروع کرنے میں۔ وہ موسیٰ (ع) کے ماننے والے ہیں اور کئی معاملات میں ہندوؤں کے برعکس ہم ان جیسے ہی ہیں۔ دنیا کے معاملات کو ان کے فائدے اور نقصان کے حساب سے حل کرنا چاہئے، اسٹیریوٹائپ مذہبی تعصب سے نہیں۔ توقیر چودھری، امریکہ: جی ہاں وقت کا تقاضہ یہی ہے کہ ہم اسرائیل کو تسلیم کریں اور اس سے اپنے تعلقات بڑھائیں۔ وہ ٹیکنالوجی میں ہم سے آگے ہے جس کا انڈیا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ لیکن ہم کو برادر اسلامی ممالک کو بھی دیکھنا ہے پہلے۔ مثال کے طور پر سعودی عرب، کیوں کہ وہ ہمارے کافی ہیلپ کرتے ہیں۔ ہم ان کو ناراض نہیں کرسکتے۔ بابر خان، راولپنڈی: بات اہل کتاب ہونے یا نہ ہونے کی نہیں ہے۔ بات ناجائز قبضے کی ہے جو اسرائیل نے ہماری زمین پر کیا ہے۔ جو ملک ہی ناجائز ہو اس کو تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ سلیم احمد خان، کراچی: اسرائیل کو فورا تسلیم کرلینا چاہئے۔ صرف ناکارہ عرب ملکوں کے پیسے کی لالچ میں پاکستان یہ کام نہیں کررہا جو وہ بھی کرلیں گے تو دیر ہوچکی ہوگی۔ راحت منیر، پاکستان: ہاں، میں سو فیصد اتفاق کرتا ہوں کہ پاکستان کو اسرائیل سے تعلقات قائم کرلینی چاہئے کیوں کہ ہمارا اسرائیل سے براہ راست کوئی تنازعہ نہیں ہے۔ اور ہم صرف ان عربوں کی مدد کرتے ہیں جو خود اسرائیل کے دوست ہیں۔ رعوف وارث، کویت: یہ جو ٹاپِک ہے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا تو میں اس پر اتفاق نہیں کرتا ہوں۔ وہ اس لئے کہ انسان کو کبھی موازنہ نہیں کرنا چاہئے کہ ہم نے انڈیا کو تسلیم کرلیا اور اسرائیل کو کیوں نہیں، تو اس بات کا آسان جواب یہ ہے کہ ہندوستان سے تو ہمارے باپ دادا رشتہ رکھتے ہوئے آئے ہیں۔۔۔اور اسرائیل کو اس لئے نہیں مانتے کہ وہ نہ خود سکون سے بیٹھے ہوئے ہے اور نہ دوسروں کو سکون سے بیٹھنے دے رہا ہے۔ جہاں تک رہی مذہب کی بات تو مذہب کا احترام ہمارے دل میں ہے لیکن میں ان فادر سے پوچھنا چاہوں گا کہ کیا آپ لوگوں کو لگتا ہے کہ ان لوگوں نے وہاں کے لوگوں کو حق دیا یعنی فلسطینیوں کو؟ ہم تو پاکستان میں ہیں تو بہت دور ہے۔ جب وہیں کے لوگوں کو حق نہیں مل رہا ہے تو ہمیں کیا ملےگا؟ اور میں گورنمنٹ کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ اسرائیل کوئی کنٹری ہی نہیں ہے۔ حسن رضا، کینیڈا: اگر عرب دنیا تسلیم کرسکتی ہے تو پاکستان کو بھی تسلیم کر لینا چاہئے۔ ورنہ صرف دشمنی ہی باقی رہ جاتی ہے وہ بھی آپ نہیں کرسکتے، کیوں کہ آپ بہت کمزور ہیں۔ راجہ یونس، سعودی عرب: اسرائیل کو تسلیم کرنے کی سوچ اچھی ہے۔ اگر ہم کرسچین اور ہندو ممالک کو تسلیم کرسکتے ہیں تو اسرائیل کو کیوں نہیں؟ اس سے امن کے نئے راستے کھلیں گے اور یورپ اور اسلامی ملکوں کے درمیان کشیدگی کم ہوگی۔میں چاہتا ہوں کہ پاکسستان اسرائیل میں سفارت خانہ کھولے اور اسرائیل پاکستان اور دوسرے اسلامی ملکوں میں۔ اس سے معصوم فلسطینیوں کی ہلاکتیں رکیں گی اور ترقی کی نئی راہ کھلےگی۔ |