BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 05 June, 2005, 07:52 GMT 12:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نوازشریف:اسرائیلی پلانٹ کا تنازعہ

میاں نواز شریف
میاں نواز شریف
حکومتی خبر رساں ادارہ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) نے چار جون کو یہ خبر جاری کی ہے کہ سعودی عرب کے حکام نے جلاوطن سابق وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے مبینہ طور پر برطانیہ کی کمپنی کے توسط سے اسرائیل سے درآمد کیاجانے والا سکریپ توڑنے کا پلانٹ قبضہ میں لے لیا ہے۔

دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ(ن) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات صدیق الفاروق نے اس خبر کو بے بنیاد اور نواز شریف کی کردار کشی کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔

اے پی پی کی خبر میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے قوانین کے تحت اس ملک میں اسرائیلی اشیاء کی درآمد ممنوع ہیں۔ اس خبر کے مطابق نواز شریف کی کمپنی ہل میٹلز اسٹیبلیشمینٹ نے ایک بڑا میٹل شریڈر پلانٹ درآمد کرنا تھا۔

اے پی پی کی خبر کے مطابق نواز شریف کی کمپنی نے برطانیہ کی ایک کمپنی سیرم یو کے لمیٹڈ سے اسرائیلی کمپنی کو فروخت کیا جانے والا ایک شریڈر پلانٹ خریدنے کا سودا کیا جو اسرائیل میں بے کار پڑا ہوا تھا۔

سرکاری ایجنسی اے پی پی کے مطابق نواز شریف کے بیٹے حسین نواز نے اس سال انیس جنوری کو جدہ میں اپنی کمپنی کے ایم ڈی کی حیثیت سے اس سمجھوتہ پر دستخط کیے جبکہ برطانوی کمپنی کی طرف سے رائے وولکاک نے دستخط کیے۔

اے پی پی کا کہنا ہے کہ اس سودے کا لیٹر آف کریڈٹ چار ملین ریال کا تھا جو نیشن کمرشل بینک آف سعودی عریبیہ میں کھولا گیا۔ اے پی پی کے مطابق اس پلانٹ کی مشینری کو کھول کر سترہ بحری ٹرالوں کے ذریے اردن کے الزرقا فری زون کے راستے اسرائیل سے سعودی عرب لایا جانا تھا اور اس میں سے تین ٹرالے سعودی عرب لئے گئے۔

پاکستانی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق سعودی عرب کے کسٹم حکام نے اس پلانٹ کو لانے والے تین ٹرالوں کو قبضہ میں لے لیاہے اور ان کا کسٹم نہیں کیا جبکہ باقی چودہ کنٹینرز الزرقا فری زون میں کھڑے ہیں۔

تاہم مسلم لیگ کے ترجمان صدیق الفاروق نے کہا ہے کہ ان کی حسین نواز سے بات چیت ہوئی ہے اور انہوں نے بتایا ہے کہ ان کی کمپنی ہل اسٹیبلیشمینٹ کے برطانیہ کی کمپنی سیرم یوکے لمیٹڈ سے پرانے کاروبای تعلقات ہیں کیونکہ یہ کمپنی بھی فولاد کی مصنوعات کا کام کرتی ہے اور اسی لیے ان کی کمپنی نے سیرم یو کے لمیٹڈ کے حق میں لیٹر آف کریڈٹ کھولا تھا۔

صدیق الفاروق نے کہا کہ یہ خبر پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کا گندہ کام ہے جنہوں نے سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کو استعال کیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد