نہ بےنظیر، نہ شریف برادران: مشرف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف نے پھر کہا ہے کہ اگر بے نظیر بھٹو پاکستان واپس آئیں تو انہیں مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا اوراگر شریف برادران لوٹے تو انہیں واپس سعودی عرب بھیج دیا جائے گا۔ کراچی میں حکمران مسلم لیگ کے ارکینِ اسمبلی اور سینٹ سے خطاب کرتے ہوئے جنرل مشرف نے انتخابات سے متعلق قیاس آرائیوں کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ انتخابات دو ہزار سات ہی میں ہوں گے ’اور ممکن ہے بے نظیر بھٹو اس وقت بھی پاکستان میں نہ ہوں۔‘ کراچی میں صحافی رفعت سعید نے بی بی سی کو بتایا کہ صدر مشرف نے گورنر ہاؤس کی بجائے اپنے خطاب کے لیے وزیرِ اعلیٰ ہاؤس کا انتخاب بھی غور کے بعد کیا کیونکہ یہ چہ مگوئیاں ہو رہی تھیں کہ سندھ کی صوبائی حکومت کمزور ہے۔ اپنی وردی کے بارے میں اگرچہ جنرل پرویز مشرف نے کوئی بات نہیں کی البتہ انہوں نے یہ اشارہ دیا کہ وہ جلد ہی قوم سے خطاب کرنے والے ہیں اور وہ پاکستان کے لوگوں کو اعتماد میں لیں گے۔ رفعت سعید نے بتایا کہ صدر مشرف نے یہ بات زور دے کر کہی کہ پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو جب بھی پاکستان واپس آئیں گی انہیں عدالتوں کا سامنا کرنے پڑے گا۔ صدر مشرف نے یہ بھی واضح کیا کہ ملک میں کوئی عدم استحکام نہیں ہے اور حکومت ٹھیک کام کر رہی ہے۔ انہوں نے سندھ کے ایک رہنما پیر پگارا سے بھی ملاقات کے امکان کا اشارہ دیا۔ جنرل مشرف نے یہ بھی واضح کیا کہ اگلے عام انتخابات سن دو ہزار سات ہی میں ہوں گے لیکن ان کے خطاب میں ایک عجیب بات یہ تھی کہ انہوں نے بے نظیر بھٹو کے بارے میں کہا کہ دو ہزار سات کے انتخابات میں بھی شاید وہ پاکستان میں نہ ہوں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آصف زرداری کی رہائی کسی ڈیل کا نتیجہ نہیں ہے اور یہ معاملہ عدالت میں ہے لہذا وہ اس پر مزید کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||