سیاسی مفاہمت کے آثار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حزب مخالف اور صدر مشرف میں مفاہمت کے اشارے پاکستان میں حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان مفاہمت کے اشارے سامنے آرہے ہیں۔ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری آٹھ سال بعد رہا کردیےگۓ ہیں اور صدر جنرل پرویز مشرف اور سعودی عرب میں جلاوطن سابق وزیر اعظم نواز شریف کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت ہوگئی۔ چند ماہ پہلے تک آصف علی زرداری کی رہائی کے آثار تو تھے لیکن نواز شریف اور صدر مشرف کے درمیان براہ راست بات چیت ہوجائے گی یہ بات مشکل نظر آتی تھی اور اچانک ہوئی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ آصف علی زرداری کی رہائی حکومت سے مفاہمت یا عرف عام میں کسی ڈیل کا نتیجہ ہے جبکہ آصف زرداری نے اس بات کی ہمیشہ تردید کی ہے۔ نیب کے چئیرمین لیفٹیننٹ جنرل منیر حفیظ نے بھی کہا ہے کہ زرداری کی رہائی کسی ڈیل کا نتیجہ نہیں بلکہ عدالت کے حکم پر ہوئی ہے۔ تاہم جو لوگ پاکستان کی عدالتوں کے فیصلوں کی تاریخ سے آگاہ ہیں وہ اس بات کو جوں کا توں ماننے پر آمادہ نظر نہیں آتے۔ آصف علی زرداری نے اپنی رہائی کے فورا بعد پریس سے جو گفتگو کی ہے اور ان کا جو انٹرویو نشر ہوا ہے اس سے یہ تو واضح ہوتا ہے کہ ان کا لب و لہجہ صدر مشرف کی طرف جارحانہ نہیں ہے۔ انہوں نے صاف طور پر کہا ہے کہ وہ ایجی ٹیشن کے لیے لوگوں کو اکٹھا نہیں کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ حکومت اور بے نظیر بھٹو کے درمیان ُپل کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ یہ خبریں بھی گردش کررہی ہیں کہ حکومت انہیں ملک سے باہر جانے کی اجازت دے دی گی۔ آصف علی زرداری نےاب تک اپنے کسی بیان میں صدر مشرف کی پالیسیوں پر تنقید نہیں کی۔ انہوں نے جنرل مشرف کی وردی کے معاملے پر کسی موقف کا اظہار بھی نہیں کیا۔ کیا یہ محض اتفاق ہوسکتا ہے؟ زرداری کی رہائی کے فورا بعد پیپلز پارٹی کی طرف سے یہ مطالبہ سامنے آیا ہے کہ بے نظیر بھٹو کو ملک میں آنے کی راہ ہموار کی جائے۔ پارٹی کے سنیٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ بے نظیر بھٹو کو سپریم کورٹ پروٹیکٹو ضمانت فراہم کرے تاکہ جب وہ ملک میں آئیں تو حکومت انہیں ان پر قائم متعدد مقدمات میں سے کسی مقدمہ کے سلسلہ میں گرفتار نہ کرسکے۔ دوسری طرف مسلم لیگ (نواز گروپ) کے پنجاب کے صدر ذوالفقار کھوسہ کا یہ بیان سامنے آیا ہے کہ صدر مشرف نے جلا وطن سابق وزیراعظم سے اپنی بات چیت میں یہ کہا ہے کہ وہ کسی وقت بھی ملک واپس آسکتے ہیں لیکن اس کے لیے انہیں چند شرائط پیش کی ہیں۔ تاہم ان شرائط پر نواز شریف کا کیا جواب ہوگا اس کا فیصلہ آنے والے وقت میں ہی پتہ چل سکے گا۔ حکومت اور حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ (نواز) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مابین مفاہمت شروع ہونے کا عندیہ تو اس وقت ہی سامنے آگیا تھا جب گزشتہ ماہ سینٹ میں حکمران پاکستان مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین نے کھل کر بیان دیا تھا کہ اس وقت ملک میں قومی مفاہمت کی ضرورت ہے۔ صدر مشرف کی حکومت اور ان دو بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان مفاہمت کی ایک بڑی کوشش تو سنہ دو ہزار دو کے عام انتخابات سے پہلے بھی ہوئی تھی جب بے نظیر بھٹو کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت اور صدر جنرل مشرف کے درمیان سمجھوتہ طے پاچکا تھا لیکن اسٹیبلیشمینٹ میں پیپلز پارٹی کے مخالفین نے اس پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچنے دیا۔ اسی طرح ایک مقامی اخبار کے مدیر مجید نظامی نے صدر مشرف اور نواز شریف کے دمریان مفاہمت کی کوشش کی تھی لیکن وہ بھی کامیاب نہیں ہوسکی۔ نواز شریف کے بھائی اور مسلم لیگ (نواز) کے رسمی صدر شہباز شریف کی تو ہمیشہ یہ شہرت رہی ہے کہ وہ فوج اور صدر مشرف سے مفاہمت کرنے کے حامی ہیں۔ تاہم نواز شریف کا موقف اس بارے میں سخت رہا ہے۔ نواز شریف کو صدر مشرف کے ہاتھوں جس طرح اقتدار سے معزول ہونا پڑا اور بعد میں انہیں مشرف حکومت کے قائم کردہ مقدمہ کی وجہ سے عدالت سے سزا ملی اور پھر سعودی شاہی خاندان کی مداخلت پر جلاوطنی میں جانا پڑا اور اپنے والد کی وفات پر پاکستان میں ان کے جنازے کے ساتھ آنے کی اجازت نہ مل سکی ان سب باتوں کے باوجود انہوں نے صدر مشرف سے فون پر بات چیت کی جو ایک اہم سیاسی پیش رفت کہی جاسکتی ہے جس کے پیچھے خاصی کوششوں اور مذاکرات کا عمل دخل ہے۔ جب امریکہ میں انتخابات ہورہے تھے اور پاکستان میں حزب اختلاف سیاسی تحریک چلانے کی باتیں کررہی تھی تو اکثر مبصرین کا خیال تھا کہ اگر جارج بش ہار گۓ اور ڈیموکریٹ جان کیری صدر بن گۓ تو صدر مشرف کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی کیونکہ ایک تو صدر مشرف کا بش انتظامیہ سے اعتماد کا ایک تعلق بن چکا ہے جو انہیں نئی انتظامیہ سے پھر سے بنانا پڑے گا اور دوسرے ڈیموکریٹ روایتی طور پر جمہوریت اور انسانی حقوق پر زیادہ زور دیتے ہیں۔ صدر بش کے جیتنے کے نتیجے میں صدر مشرف کی پاکستان میں سیاسی حیثیت مزید مستحکم ہوئی ہے اور حزب اختلاف کو یہ بھی نظر آرہا ہے کہ عوام کسی سیاسی احتجاجی تحریک چلانے کے موڈ میں نہیں آرہے۔ اس لیے کوئی سیاسی مفاہمت حزب اختلاف کے لیے بہتر راستہ ہوسکتا ہے۔ دوسری طرف صدر پرویز مشرف کو آرمی چیف کی وردی پہنے رہنے کے معاملہ پر اور ہندوستان سے نتیجہ خیز مذاکرات کرنے کے لیے بڑی سیاسی جماعتوں کی حمایت کی ضرورت ہے۔ یہی دو نکات ہیں جن پر حکومت اور حزب اختلاف کی مفاہمت آگے بڑھ سکتی ہے۔ اب تک پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (نواز) کی طرف سے صدر مشرف کے ہندوستان سے مذاکرات کی مخالفت نہیں کی گئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||