’نوازشریف کو امریکہ نےبچایاتھا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے سابق نائب وزیرِ خارجہ سٹروب ٹالبٹ نے اپنی ایک نئی کتاب میں لکھا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کی کوششوں سے سابق پاکستانی وزیرِ اعظم نواز شریف سزائے موت سے بچ گئے تھے۔اپنی کتاب ایمرجنگ انڈیا ۔ ڈپلومسی، ڈیموکریسی اینڈ بم میں ٹالبٹ لکھتے ہیں کہ چودہ مہینے گزرنے کے بعد بھی نواز شریف کی قسمت کا فیصلہ نہیں ہوا تھا جن پر جنرل مشرف کے قتل کی کوشش کا الزام تھا۔ سابق نائب امریکی وزیرِ خارجہ لکھتے ہیں کہ ’امریکہ کی پردے کے پیچھے رہتے ہوئے بڑی زیادہ مداخلت اور سعودی عرب کی اس دھمکی کے بعد کے وہ پاکستان کو سستا تیل مہیا نہیں کرے گا صدر مشرف نے (نواز شریف کی) سزائے موت معاف کی اور دونوں شریف برادران اور ان کے خاندانوں کو سعودی عرب میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے کی اجازت دی‘۔ انہوں نے لکھا ہے کہ سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے قومی سلامتی کونسل کو کہا تھا کہ وہ امریکی حکومت کے اثرورسوخ کے سارے وسائل بروئے کار لا کر مشرف کو راضی کرے کہ وہ سزا کو بدل دیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمیں ایسا لگ رہا کہ یہ ایک خراب فلم کی طرح ہے جس کا انجام بھی دکھی ہے۔ اکیس سال پہلے جنرل ضیاءالحق نے بھی وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کو ختم کیا اور انہیں صدر جمی کارٹر سمیت دنیا بھر سے رحم کی اپیل کے باوجود قتل کے الزام میں پھانسی پر چڑھا دیا تھا‘۔ ٹالبٹ لکھتے ہیں کہ واشنگٹن میں تشویش تھی کہ کہیں نواز شریف کا بھی حال بھٹو جیسا نہ ہو جائے۔ کتاب میں بھارت کے جوہری دھماکے کے متعلق بھی لکھا ہے کہ دھماکے کی خبر سن کر کس طرح صدر کلنٹن غصے میں آئے اور سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر کو بلا کر اس کی تفصیل جاننی چاہی۔ وہ لکھتے ہیں کہ دھماکے سے پوری انتظامیہ ایک ’صدمے‘ میں تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||