اسرائیل: مذاکرات پر ملا جلا ردِ عمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور اسرائیل کے وزراء خارجہ کی ترکی کے شہر استنبول میں جمعرات کے روز ہونے والی ملاقات کے بارے میں سیاسی جماعتوں کا ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے۔ جماعت اسلامی نے جمعہ کے روز ملک بھر میں یوم سیاہ منانے اور وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کی وطن واپسی پر سیاہ جھنڈیوں سے استقبال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جماعت اسلامی کے ترجمان نے بتایا کہ وہ جمعہ کو ملک بھر کی مساجد کے باہر احتجاجی مظاہرے کریں گے۔ جبکہ حزب اختلاف کے اتحاد برائے بحالی جمہوریت یعنی ’اے آر ڈی‘ میں شامل جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے کھل کر ملاقات کی مخالفت نہیں کی لیکن اس اتحاد کی ایک اور جماعت مسلم لیگ نواز نے اسرائیلی وزیر خارجہ سے ملاقات پر شدید رد عمل ظاہر کیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ ’ نیو ورلڈ آرڈر میں وہ بین المذاہب مکالمے کو وقت کی اہم ضرورت سمجھتے ہیں۔ تاہم انہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف پر یکطرفہ فیصلے کرنے اور پارلیمینٹ کو اعتماد میں نہ لینے کے معاملے پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔ مسلم لیگ نواز کے سرکردہ رہنما راجہ ظفرالحق نے رابطہ کرنے پر کہا کہ اس ملاقات سے پاکستانی عوام کی سخت دل آزاری ہوئی ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کے بارے میں اسلامی ممالک کی تنظیم کو فیصلہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے ملاقات کی مذمت کی اور دعویٰ کیا کہ صدر جنرل پرویز مشرف اکیلے طور پر فیصلے کرتے ہیں جو ان کی نظر میں ملکی مفاد میں نہیں ہیں۔ حکمران مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل سید مشاہد حسین نے خورشید محمود قصوری کی اسرائیلی ہم منصب سے ملاقات کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کا یہ بہادرانہ قدم ہے۔ انہوں نے یہ ملاقات کرانے میں چین بھی مدد کرسکتا تھا لیکن پاکستان نے مسلمان برادر ملک ترکی کے صدر سے بات کی اور انہوں نے اس ملاقات کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ حکمران مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل سے جب ایران کو اعتماد میں لینے کے بارے میں پوچھا گیا تو سید مشاہد حسین نے سوالیہ انداز میں کہا کہ سن چھیاسی میں جب ایران نے اسرائیل سے اسلحہ خریدا تھا تو کیا انہوں نے پاکستان کو اعتماد میں لیا تھا؟ پاکستان اور اسرائیل کے وزراہ خارجہ کی ملاقات کے بارے میں جب اسلام آباد کی ایک مارکیٹ میں خریداری کے لیے آنے والے عام آدمیوں سے رائے پوچھی گئی تو کم و بیش سب کی رائے تھی کہ اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بدل گئی ہے اور اب اختلافات ختم کرکے ایک دوسرے کے وسائل اور تجربات سے استفادہ کرنا چاہیے۔ ایک نوجوان نے کہا کہ پاکستان نے آج تک اسرائیل کو عربوں کی وجہ سے تسلیم نہیں کیا لیکن کئی عرب ممالک نے پاکستان سے پوچھے بنا اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرلیے۔ ایک خاتون نے ملاقات کی مخالفت تو نہیں کی لیکن اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بارے یں اپنے تحفظات ظاہر کیے اور کہا کہ ایسا صرف اس وقت ہونا چاہیے جب القدس فلسطین کا دارلحکومت بنے۔ سیاسی مبصر اور تجزیہ کار اس ملاقات کو پاکستان اور اسرائیل کے مستقبل کے بہتر تعلقات کا سنگ بنیاد قرار دے رہے ہیں۔ بعض مبصرین کی رائے ہے کہ انہیں ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستانی معاشرے میں ماسوائے مذہبی اور جہادی گروپوں کے باقی بڑے پیمانے پر صدر جنرل پرویز مشرف کے اس قدم کی حمایت ہوگی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||