BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 September, 2005, 11:55 GMT 16:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیل سے دوستی

پاک اسرائیل وزرائے خارجہ
اس میں کوئی شک نہیں کہ ملاقات کو امریکی آشیرواد بھی یقینی حاصل ہوگی
میں آج آپ سے عراق کا ذکر نہیں کرونگا جہاں گزشتہ دنوں امام موسیٰ کاظم کے مزار پر ایک بھگدڑ کے نتیجے میں کوئی ہزار آدمی ہلاک ہوئے، نہ میں سمندری طوفان قطرینہ کا ذکر کروں گا جس کے نتیجے میں امریکہ جیسے دنیا کے امیر ترین اور انتہائی طاقتور ملک کے باشندے کچھ اسطرح کی مشکلات سے دوچار نظرآئے جو بعض افریقی ملکوں کے باشندوں کو درپیش ہیں۔

یہ کیسے اور کیوں کر ہوا اس کا جواب دینا تو بہت مشکل ہے صرف یہ کہا جاسکتا ہے کہ کبھی کبھی نیچر بھی، جسکو انسان اپنی تخلیق کے بعد سے ہی مسخر کرنے میں مصروف ہے ، اپنا ہاتھ دکھا دیتی ہے۔

میں آج آپ سے پاکستان اور اسرائیل کے وزراء خارجہ کی ملاقات کے حوالے سے بات کرنا چاہتا ہوں۔

یہ ملاقات ترکی کے تاریخی شہر استنبول میں ہوئی ہے اور اس کے باوجود کہ ترکی کی حکومت کی کوششوں سے ہوئی ہے اور پاکستان کے وزیر خارجہ جناب خورشید محمود قصوری کے مطابق امریکہ کے کہنے پر نہیں ہوئی ہے، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اسے امریکی آشیرواد بھی یقینی حاصل ہوگی اور اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس خبر نےنہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لوگوں کو چونکا دیاہے۔

یہ بالکل ویسا ہی واقعہ ہے جیسا جنرل یحیٰ کے دور حکومت میں ہوا تھا یعنی امریکہ کے ایک سابق وزیر خارجہ ہنری کیسنجر پاکستان کے راستے اچانک چین پہنچ گئے تھے۔

اس پر حیرت کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اسرائیل کے وجود میں آنے کے بعد سے اب تک پاکستان بڑی ثابت قدمی سے اپنے اس مؤقف پر ڈٹا ہوا ہے کہ اس کا قیام غلط اور یورپ کی عظیم طاقتوں کی سازش کا نتیجہ ہے۔ بعد میں اس کے رویے میں اگر کوئی تبدیلی آئی بھی تو اتنی کہ جب تک فلسظین سمیت تمام مقبوضہ عرب علاقے خالی نہیں کردیئے جائیں اور ایک آزاد فلسطینی ریاست وجود میں نہیں آجائے پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرےگا ۔

میں سمجھتا ہوں کے پاکستان کا یہ مؤقف نہ صرف اصولی بلکہ منطقی بھی ہے۔ اصولی اس لیے کہ اسرائیل کی مخالفت کی بنیادی وجہ فلسطینیوں سے بے انصافی اور عرب ملکوں کی ناراضگی تھی ۔

نہ صرف یہ بلکہ پاکستان سے پہلے بھی آل انڈیا مسلم لیگ نے اگر کسی بین الاقومی مسئلے کے بارے میں کوئی واضح مؤقف اختیار کیا تو یہ فلسطین کا ہی تھا۔ نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان کے عوام بھی اس کے بارے میں بڑے جذباتی ہیں، چنانچہ پاکستان کے ایک سابق وزیراعظم حسین شہید سہروردی مرحوم نے عرب ملکوں کی بے دست وپائی کا ذکر کرتے ہوئے ایک بار یہ کہہ دیا تھا کہ عرب ممالک’صفر جمع صفر برابر صفر کے ہیں‘ تو ملک میں ایک سیاسی ہنگامہ کھڑا ہوگیا تھا، پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے تھے اور جناب سہروردی کی پارٹی’ پاکستان عوامی لیگ‘ تقسیم ہوگئی تھی۔

اب ہے یہ کہ کسی ملک کی خارجہ پالیسی اس کی داخلی پالیسی کا پرتو یا اس کی توسیع ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں خارجہ پالیسی میں جس بات کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہوتی ہے وہ یہ کہ ملک کے مفاد کو آگے بڑھانے میں وہ کتنی فعال اور موثر ثابت ہوتی ہے۔

اگر اس اعتبار سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کاجائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ وہ کوئی اصولی اور طویل المدت خارجہ پالیسی ابتک بنانے میں ناکام رہا ہے۔

کبھی مذہبی جذباتیت غالب رہی، کبھی فوری نوعیت کے فوائد، یعنی یہ کہ کچھ اسلحہ یا کچھ امداد مل جائےگی کے تحت خارجہ پالیسی بنتی رہی اور کبھی بعض معاویہ میں کام چلتا رہا یعنی ہندوستان کا رخ ایک جانب ہے تو ہم دوسری جانب چلیں گے چاہے اس میں نقصان ہی کیوں نہ اٹھانا پڑے۔

اب یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی حکمرانوں کو کچھ یہ احساس ہوچلا ہے کہ خارجہ پالیسی کی بنیاد سو فیصد اپنے مفادات کی بنیاد پر رکھنی چاہیے۔ چنانچہ تمام تر امریکی دباؤ کے باوجود عراق فوج بھیجنے سے انکار ایک بڑا دانشمندانہ فیصلہ تھا۔

ہندوستان سے تعلقات میں جو مثبت تبدیلی آئی ہے وہ بھی اس کا بین ثبوت ہے اور میں اس سلسلے میں صدر پرویز مشرف اور جناب خورشید محمود قصوری کو قابل ستائش سمجھتا ہوں کہ انہوں نے اس سلسلے میں دلیرانہ اقدام کرکے نہ صرف اپنے یہاں بلکہ ہندوستان میں بھی دونوں ملکوں میں دوستی کے مخالفین کو جو یقینی اقلیت میں ہیں، خاموش کردیا ہے۔

اسرائیل سے بھی اس کے تعلقات کی بنیاد یہی ہونی چاہیے کہ آپ فلسطینیوں کو ان کے حقوق دیں، شام سمیت تمام عرب ممالک سے اصولی مصالحت کریں، پھر ہم آپ سے سفارتی تعلقات قائم کریں گے۔

جناب خورشید قصوری اور پرویز مشرف نے بھی یہی بات کہی ہے کہ ہم نے رابطہ کیا ہے لیکن ہم تسلیم اسی صورت میں کریں گے جب فلسطینیوں کی آزاد ریاست قائم ہوجائے گی۔

فلسطینی انتظامیہ کی جانب سے بھی جو وضاحت کی گئی ہے وہ یہی کہ فلسطینی صدر جناب محمود عباس نے اس سال مئی میں صدر پرویز مشرف سے جو بات چیت کی تھی اس میں انہوں نے ان سے درخواست کی تھی کہ جب تک فلسطین کی آزاد ریاست قائم نہیں ہوجاتی اسرائیل کو تسلیم نہ کیا جائے۔

پھر آپ غور کریں کہ اسلامی ملکوں میں مصر، اردن، مراکش اور ماریطانیہ نے تو اس کو پہلے ہی تسلیم کرلیا ہے اور عین ممکن ہے کہ لیبیا بھی اسرائیل سے متعلق اپنے رویے میں جلد ہی کچھ لچک پیدا کرے ایسی صورت میں پاکستان سے یہ توقع کرنا کہ وہ فلسطینی اورعرب مفادات کے تحفظ کی ذمہ داری اپنے کاندھوں پر اٹھائے رکھے مدعی سست گواہ چست کے مترادف ہوگا۔

ہاں یہ ضروری ہے کہ وہ اسرائیل سے متعلق اپنی پالیسی کو کوئی حتمی شکل دینے سے پہلے ایران کو بھی اعتماد میں لے، اس لیے کہ اسرائیل تو پھر اسرائیل ہے کئی ہزار میل کا فاصلہ ہے ایران تو اس کی شہ رگ کے قریب ہے اور پھر ایران سے ہندوستان تک گیس پائپ لائن بچھانے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔ ایسی صورت میں پاکستان کوکسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے یہ ملحوظ رکھنا پڑےگا کہ کہیں اسے اسرائیل کے قریب لانے کی کوشش ایران سے اس کو دور کرنے کی سازش تو نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد