BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 September, 2005, 13:24 GMT 18:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جماعت کی اپیل، چند سو کا احتجاج

مظاہرین
مظاہرین نے احتجاجی پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے
جمعہ کو ملک کے مختلف شہروں میں مذہبی سیاسی جماعتوں نے اسرائیل سے بات چیت کے معاملہ پر احتجاجی جلسے کیے اور جلوس نکالے جن میں کم و بیش ہر مقام پر ایک سو سے لے کر چند سو افراد نے شرکت کی۔

تاہم جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ اسرائیل کے وزیرِخارجہ سلوان شلوم سے ملاقات کرنے پر وزیر خارجہ خورشید قصوری کی ملک واپسی پر احتجاجاً ان کا کالی جھنڈیوں سے استقبال کیا جائے گا۔

اسرائیل اور پاکستان کے پہلے با ضابطہ سرکاری رابطہ کے خلاف پشاور کے اخباروں میں متحدہ مجلس عمل کی طرف سے احتجاجی مظاہرہ کے اشتہار شائع ہوئے تھے لیکن اس میں صرف جماعت اسلامی نے شرکت کی اور جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن گروپ) اس میں شریک نہیں ہوئی۔

پشاور میں ہمارے نمائندے ہارون رشید کے مطابق جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے مسجد مہابت خان سے یادگار چوک تک نکلنے والے جلوس کی قیادت کی جس میں دو سو افراد شریک تھے۔ بینرز پر اسرائیل سے دوستی نامنظور لکھا تھا۔

قاضی حسین احمد نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پارلیمنٹ سے باہر فیصلے کر رہی ہے اس لیے اب وہ بھی مسئلوں کا حل سڑکوں پر ڈھونڈیں گے اور لوگ تحریک کے لیے تیار ہوجائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بچانے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کو ہٹایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں کا فلسطین کے معاملہ سے براہ راست تعلق ہے کیونکہ وہاں پر قبلہ اول بیت المقدس واقع ہے۔

News image
پشاور کے مظاہرے سےقاضی حسین احمد نے خطاب کیا

لاہور میں جماعت اسلامی نے آج اپنے صدر مقام منصورہ کے باہر سڑک پر جمعہ کی نماز کے بعد ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں تقریباً ڈیڑھ سو افراد نے شرکت کی۔

جماعت اسلامی کے کارکنوں نے دو رویہ سڑک کا ایک حصہ بند کردیا تھا اور دو بینرز لگے ہوئے تھے جن پر لکھا تھا۔ ’اسرائیل کا جو یار ہے غدار ہے‘ اور ’یہودیوں کا ایک ہی علاج ، الجہاد الجہاد۔‘

جماعت کے رہنماؤں حافظ ادریس اور امیرالعظیم وغیرہ، نے اس موقع پر حکومت کی مذمت کی اور کہا کہ وہ اسلام آباد کے ایوانوں کا گھیراؤ کریں گے۔ جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل منور حسن نے کہا کہ جب خورشید قصوری ملک واپس آئیں گے اس روز لوگ کالی پٹیاں باندھیں اور عمارتوں پر سیاہ پرچم لہرائے جائیں اور ان کا کالی جھنڈیوں سے استقبال کیا جائے۔

کوئٹہ میں ہمارے نمائندے عزیزاللہ کے مطابق مجلس عمل اور مسلم لیگ نواز نے جامع مسجد سورج گنج بازار سے میزان چوک تک جلوس نکالا جس میں تقریباً ڈیڑھ سو افراد شریک تھے۔ اس اجتماع میں جمعیت علمائے اسلام کے رکن قومی اسمبلی مولوی نور محمد اور جماعت اسلامی بلوچستان کے جنرل سیکرٹری عبدالمتین نے شرکت کی۔

 حکومت پارلیمنٹ سے باہر فیصلے کررہی ہے اس لیے اب وہ بھی مسئلوں کا حل سڑکوں پر ڈھونڈیں گے اور لوگ تحریک کے لیے تیار ہوجائیں
قاضی حسین احمد

کراچی سے بی بی سی کے نمائندے ریاض سہیل کے مطابق ایم ایم اے کا ایک احتجاجی جلسہ لیاری میں موسی لین میں پٹھان مسجد کے باہر ہوا جس میں تین سو افراد نے شرکت کی۔ جلسے سے جماعت اسلامی کے رہنما معراج الہٰدی اور شیعہ رہنما حسن ترابی نے خطاب کیا اور کہا کہ اسرائیل سے رابطہ ملک کے اصولی موقف کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح سے لیکر نواز شریف تک کسی رہنما نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور موجودہ حکومت اس کو تسلیم کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے پوری قوم کی گردن شرم سے جھک گئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد