مذہبی رہنما ناراض، سیاسی نہ خفا نہ خوش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ کی ملاقات پر ملک بھر میں ایک بحث چھڑ گئی ہے اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے اس قدم کی سیاسی اور عوامی حلقوں میں اگر بڑے پیمانے پر حمایت نہیں تو مخالفت بھی نہیں کی جا رہی۔ جمعہ کے روز قومی اسمبلی میں جہاں حزب اختلاف کی تحاریک التویٰ پر قواعد معطل کرکے بحث کی گئی وہاں تمام اخبارات نے اس ملاقات کی خبر شہ سرخیوں سے شائع کی ہے اور خصوصی تبصرے بھی کیے ہیں۔ قومی اسمبلی میں بحث کے دوران مذہبی جماعتوں کے نمائندوں نے اس ملاقات کو پاکستان کی نصف صدی پرانی پالیسی میں تبدیلی اور قائد اعظم کے اصولوں کے منافی قرار دیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے نمائندوں نے اس ملاقات کی مخالفت تو نہیں کی لیکن انہوں نے پارلیمینٹ کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا۔ مذہبی جماعتوں کے نمائندوں کے احتجاج اور تقاریر میں بھی وہ شدت نہیں تھی جو اس پہلے اس معاملے پر نظر آتی تھیں۔ وزیراعظم شوکت عزیز نے خورشید محمود قصوری کی اپنے اسرائیلی ہم منصب سے ملاقات کا بھرپور دفاع کیا اور کہا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملاقات کا مقصد فلسطینیوں کو حقوق دلانا ہے۔ وزیراعظم نے فلسطینی صدر سے ہونے والی بات چیت کا پس منظر بیان کیا اور کہا کہ ان کی درخواست اور مشاورت سے یہ ملاقات ہوئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ دنیا کے بدلتے ہوئے حالات میں پاکستان اور صدر جنرل پرویز مشرف کا اہم کردار ہے اور ہم ’فرنٹ فٹ‘، پر کھیلنا چاہتے ہیں اور کھیلیں گے۔ جمعرات کے روز مسلم لیگ نواز کے اہم رہنما راجہ ظفرالحق نے اپنے رد عمل میں اس ملاقات کو بے جا اور پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی قرار دیا تھا لیکن اس جماعت کے رکن اسمبلی خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں ان کے برعکس موقف اختیار کیا اور کہا کہ اہم معاملات میں پارلیمان کو اعتماد میں لیا جائے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی خاتون رکن ناہید خان نے کہا کہ جب بینظیر بھٹو سابق اسرائیلی وزیراعظم سے ملیں تھیں تو موجودہ حکمرانوں نے تنقید کی تھی لیکن آج وہ خود اسرائیل سے براہ راست تعلقات کے خواہاں ہیں۔ ایوان کے اندر بحث کے دوران حکومت کے حامی اقلیتی اراکین ایم پی بھنڈارا اور گیان سنگھ کے علاوہ حکومتی اتحاد میں شامل جماعت ایم کیو ایم، کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے بھی اس ملاقات کی تائید کی اور کہا کہ پاکستان کو مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسرائیلی وزیرخارجہ سے خورشید قصوری کی ملاقات کے بارے میں ملک کے سیاسی حلقوں میں ہونے والی اس بحث سے عوامی رد عمل میں آج سے دس برس پہلے کی نسبت خاصی تبدیلی نظر آرہی ہے۔ کچھ سیاسی مبصرین کی رائے ہے کہ اس ملاقات سے قبل صدر جنرل پرویز مشرف کے نیویارک کے دورے کے دوران یہودی فورم سے خطاب کی خبر سے حکومت نے عوامی رد عمل نہ ہونے کا ایک لحاظ سے اندازہ لگا لیا تھا۔ سید مشاہد حسین کے بقول کہ اسرائیل سے پہلی بار خفیہ رابطے ضیاالحق کے دور میں شروع ہوئے تھے۔ ماضی کی سیاسی حکومتیں اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے کے بارے میں خاصا ہچکچاتی تھیں لیکن کھلے عام رابطوں کا کریڈٹ صدر جنرل پرویز مشرف کو ہی جاتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||