اسرائیل کا نقشہ بدلنے کی کوشش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ کی پٹی میں یہودی قابض بستیوں کے خاتمہ پر اسرائیلی فوج اور ان بستیوں میں رہنے والے یہودیوں کے درمیان جو معرکہ آرائی ہو رہی ہے اور دنیا بھر سے آئے ہوئے دو سو سے زیادہ صحافی اسے جس طرح ’امن کے خواستگار‘ ایرئیل شیرون اور ’مظلوم یہودیوں‘ کے درمیان تصادم کے طور پر پیش کر رہے ہیں اسے برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں ریفیوجی اسٹڈی سینٹر کی فیلو جینیفر لوئنسٹین نے محض ایک ڈھونگ قراردیا ہے اور کہا ہے کہ غزہ سے یہودی آباد کاروں کو اس سب تماشہ کے بغیر بہت آسانی سے نکالا جا سکتا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے اسرائیلی فوج کو وہاں بھیجنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی یہ پوری کاروائی اس تماشے اور میڈیا کی ہلچل کے بغیر ہو سکتی تھی۔ اگر یہ اعلان کر دیا جاتا کہ فلاں تاریخ کو اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی سے نکل جائے گی تو ایک ہفتہ قبل ہی تمام آباد کار خاموشی سے وہاں سے چلے جاتے۔ نہ تو ٹی وی کیمروں کا سیلاب امڈ آتا، نہ رونا دھونا ہوتا، نہ فوجی پریشان ہوتے اور نہ صحافیوں کی بھرمار ہوتی۔ یہ کیسا انصاف ہے کہ ان یہودی ’گھس بیٹھیوں‘ کو جن کو یہاں سے منتقلی کے لیے ایک لاکھ چالیس ہزار ڈالر فی خاندان معاوضہ دیا جارہا ہے اور چار لاکھ ڈالر مکان کی تعمیر کے لیے رقم دی جارہی ہے میڈیا مظلوم کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ اسی میڈیا نے پچھلے پانچ سال کےدوران ایک دن بھی یہاں آ کر ان تیس ہزار سے زیادہ فلسطینیوں میں سے کسی ایک سے بات نہیں کی جن کے گھر اسرائیلی فوج نے نہایت بے رحمی سے بلڈوزروں سے مسمار کر دیے تھے۔ اصل مقصد کیا ہے؟ کیا واقعی یہ ایرئیل شیرون کا بقول بعض مبصرین ڈرامہ ہے اپنے آپ کو پوری دنیا کے سامنے امن کے خواستگار ، فراخ دل اور عملیت پسند مدبر کے طور پر پیش کرنے کا ؟ یا وہ واقعی غزہ میں پندرہ لاکھ فلسطینیوں میں رہنے والے آٹھ ہزار یہودیوں کی حفاظت اور سلامتی کے لیے پندرہ ہزار اسرائیلی فوج کی تعیناتی کو معیشت پر ناقابل برداشت بوجھ سمجھتے ہیں ؟ یا فلسطینیوں کا یہ دعوٰی درست ہے کہ مسلم شدت پسند تنظیم حماس کی عسکری کاروائیوں کے نتیجہ میں آخر کار ایرئیل شیرون کو گھٹنے ٹیک دینے پڑے ہیں۔ یا غزہ سے انخلاء کا اصل مقصد کچھ اور ہے ؟ یہ لا تعداد سوالات اس وقت لوگوں کے ذہنوں میں اٹھ رہے ہیں جب کہ غزہ میں یہ معرکہ آرائی جاری ہے۔ غزہ میں پچھلی تین دہائیوں سے طاقت کے بل پر آباد یہودیوں کی بستیوں کے خاتمے کا منصوبہ جسے یکطرفہ اسرائیلی انخلاء کے منصوبہ کا نام دیا گیا ہے ، اپریل سنہ دو ہزار چار میں اسرائیلی وزیر اعظم ایرئیل شیرون نے اس زمانہ میں پیش کیا تھا جب فلسطینی سربراہ یاسر عرفات محاصرے میں تھے اور اسرائیل اور امریکا دونوں نے ان سے تمام روابط منقطع کر دیے تھے۔ اس منصوبہ کا بنیادی مقصد فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات کے کواڑ یکسر بھیڑنا ہے تا کہ سنہ سڑسٹھ کی سرحد پر اسرائیل کی واپسی، یروشلم کے مستقبل اور اپنے وطن سے بے دخل بکھرے ہوئے فلسطینیوں کی واپسی کے مسائل کو ہمیشہ کے لیے دفنا دیا جائے۔ اسی کے ساتھ اس کا مقصد علیحدہ فلسطینی مملکت کے قیام کے لیے امن کے نقشہ راہ کو ترک کرنا ہے۔ امریکہ کا گٹھ جوڑ غزہ سے انخلاء کے اس منصوبہ کے سلسلے میں چودہ اپریل سن دو ہزار چار کو اسرائیلی وزیر اعظم اور امریکی صدر بش کے درمیان خطوط کا جو تبادلہ ہوا ان میں امریکا نے یہ بات واضح طور پر تسلیم کی ہے کہ اسرائیل کو سن سڑسٹھ کی سرحد پر واپس جانے پر مجبور نہیں کیا جائے گا اور یہ بات بھی امریکہ نے تسلیم کی ہے کہ بےگھر فلسطینیوں کو اسرائیل واپس آنے کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی۔ اسی کے ساتھ امریکہ نے غرب اردن میں یہودی بستیوں کو برقرار رکھنے کے بارے میں اسرائیل کے موقف کی حمایت کی ہے۔ ان تینوں امور پر امریکہ کی یقین دہانیاں صریحاً اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ ایرئیل شیرون کا غزہ سے یک طرفہ انخلاء کا منصوبہ مکمل طور پر غزہ سے اسرائیلی فوج کےانخلاء کا منصوبہ نہیں۔ یہ منصوبہ محض غزہ سے یہودیوں بستیوں کے خاتمہ کا منصوبہ ہے۔ اس منصوبہ کے تحت غزہ بدستور اسرائیلی فوج کے مکمل طور پر فصیلی محاصرے میں رہے گا۔ غزہ میں فلسطینی انتظامیہ نہ تو ہوائی اڈہ استعمال کر سکے گی اور نہ اسے بندر گاہ کی تعمیر کی اجازت ہوگی۔ صدر حسنی مبارک اور اسرائیلی وزیر دفاع شاول موفاز کے درمیان گزشتہ مارچ میں جو سمجھوتہ ہوا ہے اس کے تحت مصر اور غزہ کے درمیان چودہ کلومیٹر کی سرحد پر مصر کی فوج تعینات ہوگی اور اس سلسلہ میں مصر اور اسرائیل ایک دوسرے سے بھرپور تعاون کریں گے۔ ایرئیل شیرون نے یہ واضح کر دیا ہے کہ غزہ سے یہودی بستیوں کے خاتمہ کے بعد اگر یہاں سے اسرائیل پر حملہ ہوا تو اسرائیل بھرپور جوابی کاروائی کرے گا اور دوبارہ اس علاقہ پر قبضہ کر لے گا۔ غرض عملی طور پر غزہ کی پٹی کی حیثیت ایک وسیع قید خانہ کی ہوگی اور اس کی معیشت پر کاری ضرب اس وقت پڑے گی جب سن دو ہزار آٹھ کے بعد غزہ سے کسی ایک فلسطینی کو بھی روزگار کے لیے اسرائیل جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ پہلے ہی اس علاقہ کی معیشت کی ابتر حالت ہے جب کہ بےروزگاری کی شرح پچاس فی صد کی سنگین حدوں کو چھو رہی ہے۔ عام خیال یہ ہے کہ غزہ سے انخلاء کے منصوبہ کا ایک اہم محرک غرب اردن پر جسے یہودی ، جوڈیا سماریہ کا علاقہ کہتے ہیں اور جسے وہ اپنی مقدس ترین سر زمین سمجھتے ہیں ، اسرائیلی تسلط کو مضبوط اور مستحکم بنانا ہے۔
اس وقت غرب اردن میں سن سڑسٹھ کے بعد قائم ہونے والی قابض بستیوں میں دو لاکھ سے زیادہ یہودی آباد ہیں۔ ایرئیل شیرون غرب اردن میں تین علاقوں میں یہ بستیاں برقرار رکھنے پر اٹل ہیں۔ ایک شمالی غرب اردن میں دوسرے یروشلم کے اردگرد اور تیسرے جنوبی یروشلم سے بیت اللحم تک۔ ان بستیوں کی حفظت کے لیے پہلے ہی اونچی فصیلوں کا سلسلہ تعمیر ہو چکا ہے لہذا غزہ کی طرح یہاں یہودی بستیوں کی حفاظت کے لیے بھاری تعداد میں فوج کی تعیناتی کی ضرورت نہیں ہو گی۔ بہت سے مبصرین کی رائے میں جن میں مارک ہیلر سمیت خود کئی اسرائیلی تجزیہ نگار بھی شامل ہیں ، ایرئیل شیرون کے اس منصوبہ کا اصل مقصد یک طرفہ طور پر اسرائیل کی نئی سرحدیں قائم کرنا ہے۔ غزہ سے انخلاء کے بعد اگر غرب اردن میں یہودی بستیوں اور ان کی محافظ فصیلوں کو بین الاقوامی برادری نے تسلیم کر لیا تو یہ اسرائیل کی نئی سرحدیں ہوں گی جن سے فسلطینی سر زمین الگ الگ ٹکڑوں میں بٹ جائے گی اور یوں بکھری ہوئی فلسطینی مملکت سے اسرائیل کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||