BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 29 April, 2005, 14:51 GMT 19:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانیہ کی منفرد سیاسی جماعت

News image
لبرل ڈیموکریٹس واحد جماعت تھی جس نے عراق کی جنگ کی شدید مخالفت کی
لبرل ڈیموکریٹس پارٹی برطانیہ کی ایک ایسی منفرد سیاسی جماعت ہے جس کی جڑیں تاریخ میں بہت دور تک پھیلی ہوئی ہیں کیونکہ لبرل پارٹی جس کے بطن سے یہ پارٹی نکلی ہے وہ اتنی ہی پرانی پارٹی تھی جتنی کہ ٹوری پارٹی۔

پھر یہ پارٹی اتنے زیادہ سیاسی مدوجزر اور شکست و ریخت کے عمل سے گزری ہے کہ برطانیہ کی کسی جماعت کو ایسے جوار بھاٹے دیکھنے کو نہیں ملے- نتیجہ یہ کہ ایک طویل عرصہ تک اقتدار میں رہنے کے بعد اب یہ پارٹی ایک لمبے عرصہ سے اقتدار سے محروم ہے۔

لبرل ڈیموکریٹس کی مادر جماعت ،لبرل پارٹی کی جڑیں سن سولہ سو تیس میں چارلس دوم کے دور میں وہگ پارٹی سے ملتی ہیں۔ وہگ پارٹی اشرافیہ کی جماعت تھی جو بادشاہ کے اختیارات میں تخفیف اور پارلیمنٹ کے اختیارات میں اضافہ کی زبردست حامی تھی اور اسی مسئلہ پر اس کی چارلس دوم کے ساتھ معرکہ آرائی ہوئی تھی۔

گو اس معرکہ آرائی کے پس پشت مقصد اشرافیہ طبقہ کےمفادات کا تحفظ تھا اور خود زیادہ سے زیادہ اختیارات حاصل کرنا تھا لیکن بلاشبہ عملی طور پر اس معرکہ آرائی سے جمہوریت کے فروغ کو تقویت پہنچی۔

روشن خیالی کی پہلی علم بردار
لبرل پارٹی بلاشبہ برطانیہ میں روشن خیالی کی پہلی علم بردار تھی۔ یہ جماعت سماجی اصلاحات اور شخصی آزادی کی زبردست حامی تھی اور بادشاہ اور چرچ آف انگلینڈ کے اختیارات کی تخفیف کی تحریک میں پیش پیش تھی۔

وہگ پارٹی پہلی بار سن اٹھارہ سو تیس میں بر سرِاقتدار آئی جس نے اٹھارہ سو بتیس میں پہلی اصلاحات کا قانون منظور کیا۔ یہ اقدام وہگ پارٹی کا نقطۂ عروج تھا لیکن یہی اس کے خاتمے کا بھی نقیب ثابت ہوا کیونکہ اس قانون کے تحت متوسط طبقہ کو حق رائے دہی حاصل ہوا اور دارالعوام میں اس طبقہ کا اثر بڑھا۔

اسی زمانہ میں ریڈیکل لارڈ جان رسل نے وہگ پارٹی کے روشن خیال اراکین پر مشتمل لبرل پارٹی کے نام سے الگ جماعت قائم کی۔

لبرل پارٹی بلاشبہ برطانیہ میں روشن خیالی کی پہلی علم بردار تھی۔ یہ جماعت سماجی اصلاحات اور شخصی آزادی کی زبردست حامی تھی اور بادشاہ اور چرچ آف انگلینڈ کے اختیارات کی تخفیف کی تحریک میں پیش پیش تھی۔

اسی روشن خیالی کی وجہ سے لبرل پارٹی کو اٹھارہ سو اڑسٹھ کے عام انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل ہوئی اور گلیڈ اسٹون کی قیادت میں پہلی لبرل حکومت بنی۔گلیڈ اسٹون نے چار بار انتخابات جیتے اور یوں لبرل پارٹی نے تقریبا تیس سال تک حکمرانی کی۔

پہلی عالمگیر جنگ کے بعد لبرل پارٹی میں پھوٹ پڑ گئی اور پارٹی کا ایک بڑا حصہ نئی جماعت لیبر پارٹی سے جا ملا۔ جس کے بعد لبرل پارٹی کی مقبولیت روز بروز کم ہوتی گئی یہاں تک کہ سن پچاس کے عشرہ میں لبرل پارٹی کے ووٹ ملک کے کل ووٹوں میں صرف ڈھائی فیصد رہ گئے۔ اس زمانہ میں لبرل پارٹی کو ٹوری پارٹی میں ضم کئے جانے کی بھی بات ہوئی۔

سن ساٹھ کے عشرہ میں لبرل پارٹی کا عالم یہ تھا کہ اس کا یہ کہہ کر مذاق اڑایا جاتا تھا کہ پوری پارٹی صرف ایک ٹیکسی میں بیٹھ کر پارلیمنٹ جا سکتی ہے
لیکن جوگریمنڈ کی قیادت میں پارٹی کا بڑی تیزی سے احیاء ہوا اور اس پارٹی نے مقامی سطح پر مسائل پر اپنی توجہ مرکوز کی اور ان کے حل کے لیے نئی راہیں تجویز کیں جس کی وجہ سے اسے لوکل کونسلوں کے انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل ہوئی۔

News image
جیرمی تھارپ کی قیادت میں لبرل پارٹی کی مقبولیت میں اضافہ ہوا

گو لبرل پارٹی کے دارالعوام میں اراکین کی تعداد بہت کم تھی لیکن انیس سو چوہتر کے انتخابات میں وزیرِاعظم ہیتھ نے لبرل پارٹی کو ٹوری پارٹی کے ساتھ مخلوط حکومت میں شمولیت کی پیش کش کی لیکن اس وقت لبرل سربراہ جیرمی تھارپ نے اسے ٹھکرا دیا۔ مقصد اس اقدام کا یہ ثابت کرنا تھا کہ لبرل پارٹی روشن خیال پارٹی ہے جس کا ٹوری پارٹی جیسی قدامت پسند پارٹی کے ساتھ محض اقتدار کے لیے میل نہیں ہو سکتا۔ نتیجہ یہ کہ لیبر پارٹی حکومت بنانے میں کامیاب رہی۔

جیرمی تھارپ کی قیادت میں لبرل پارٹی کی مقبولیت میں اضافہ ہوا اور سن اناسی کے عام انتخابات میں اس کے ووٹ بیس لاکھ سے ساٹھ لاکھ تک پہنچ گئے
لیکن جیرمی تھورپ کے خلاف ایک مرد ماڈل نارمن اسکاٹ کوقتل کرنے کی سازش کے الزام میں مقدمہ چلا۔ گو اس مقدمہ میں جیرمی تھورپ بری ہوگئے لیکن ان کا سیاسی کیریر ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا۔ ان کی جگہ ڈیوڈ اسٹیل لبرل پارٹی کے سربراہ بنے جنہوں نے لیبر وزیر اعظم کیلہن کی اقلیتی حکومت کو سہارا دیا۔

News image
لبرل رہنما ایش ڈاؤن اور ڈیوڈ سٹیل

سن اناسی میں لیبر پارٹی کی شکست نے برطانیہ کا سیاسی نقشہ بدل دیا۔ لیبر پارٹی کے چار سابق وزیروں نے جنہیں چار کا ٹولہ کہا جاتا تھا لیبر پارٹی سے نکل کر اپنی نئی سیاسی جماعت قائم کی۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے نام سے
انیس سو تیراسی میں لبرل پارٹی کا سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کےساتھ انتخابی اتحاد ہوا اور اس اتحاد نے انتخابات میں پچیس فی صد ووٹ حاصل کیے لیکن بہت کم نشستیں ملیں۔

آخر کار انیس سو اٹھاسی میں ان دونوں جماعتوں کا باقاعدانضمام ہوا اور لبرل ڈیموکریٹس کے نام سے نئی پارٹی ابھری جس کی قیادت پیڈی ایش ڈاؤن نے سنبھالی۔ شروع شروع میں تو اس کی کار کردگی مایوس کن تھی لیکن انیس سو ستانوے میں لبرل ڈیموکریٹس ملک کے بلدیاتی انتخابات میں دوسری بڑی جماعت کی حیثیت سے ابھری اور ٹوری پارٹی کو تیسری پوزیشن میں دھکیل دیا۔

اسی سال عام انتخابات میں لبرل ڈیموکیٹس نے خاص طور پر ان ٹوری نشستوں پر زیادہ زور دیا جن پر جیت کا امکان تھا اور یہ حکمت عملی کار گر ثابت ہوئی۔ نتیجہ یہ کہ لبرل ڈیموکرٹس کو چھیالیس نشستیں حاصل ہوئیں۔

پیڈی ایش ڈاؤن کی قیادت سے دست برداری کے بعد چارلس کینیڈی نئے سربراہ منتخب ہوئے جنہوں نے مقامی سیاست پر اور زیادہ زور دیا جس کے نتیجہ میں یہ جماعت تیزی سے مقبولیت اور امکانات کے نئے دروازے کھول رہی ہے۔

اپنی ملک کی تین بڑی جماعتوں میں سے لبرل ڈیموکریٹس واحد جماعت تھی جس نے عراق کی جنگ کی شدید مخالفت کی تھی اور بدستور دارالعوام میں اور باہر، ٹونی بلئیر کی جنگ کی پالیسی کو للکار رہی ہے۔

اسے توقع ہے کہ قومی سیاست میں ایک نئے روشن خیال انداز فکر، مقامی سیاست میں بڑھتی ہوئی مقبولیت اور عراق کی جنگ کی مخالفت کی بنیاد پر وہ پانچ مئی کے انتخابات میں اگر اقتدار نہیں تو کم از کم دوسری بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت تو ضرور حاصل کر لے گی۔

66صدیوں پرانی جماعت
ٹوری برطانیہ کی قدیم ترین سیاسی جماعت ہے
66ٹاکنگ پوائنٹ
انتخابات پر بی بی سی اردو سروس سے سوال پوچھیں
66مسلم ووٹ اہم ہیں
برطانیہ کےمسلم ووٹر پر تمام جماعتوں کی نظر ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد