برطانوی انتخابات اور آپ کے سوال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے پارلیمانی انتخابات میں اب چند ہی دن باقی رہ گئے ہیں اور انتخابی مہم اپنے عروج کو پہنچ رہی ہے۔ وزیر اعظم ٹونی بلئیر لگاتار تیسری مرتبہ لیبر پارٹی کو بر سر اقتدار لانےمیں جٹے ہوئے ہیں لیکن عراق کی جنگ کا سایہ بدستور ان کے سر پر منڈلا رہا ہے۔ کیا عراق کے خلاف جنگ قانونی اعتبار سے درست تھی؟ یا ٹونی بلئیر نے جنگ کا جو جواز پیش کیا تھا، وہ جھوٹ پر مبنی تھا؟ یہ سوال وزیر اعظم کا پیچھا نہیں چھوڑ رہے۔ لیکن اس کے باوجود رائے دہندگان کے جائزوں میں لیبر پارٹی کو سبقت حاصل ہے۔ تو کتنا اہم ثابت ہوگا عراق کا سوال برطانوی انتخابات میں؟ ووٹر اپنا فیصلہ سناتے وقت کتنا وزن دیں گے عراق کے تعلق سے ٹونی بلئیر کے ریکارڈ کو؟ اور کیا رول ادا کریں گے یہاں کے مسلمان ووٹر۔ اس قدیم پارلیمانی جمہوریت میں اور کون سےمعاملات اہم انتخابی موضوع بنے ہوئے ہیں؟ کس طرح چلتا ہے یہاں نظام حکومت اور وہ بر صغیر ہندوپاک سے کس طرح مختلف یا یکساں ہے۔ اگر پانچ مئی کو ہونے والے انتخابات کےبارے میں آپ کے ذہن میں کوئی بھی سوال ہے، تو آپ ہمارے ماہرین سے پوچھ سکتے ہیں۔ ہم نے آپ کے ہر سوال کا جواب دینے کے لئے باتھ یونیورسٹی میں بین الاقوامی تاریخ کے استاد اور تجزیہ نگار ڈاکٹر افتخار ملک اور برطانوی مسلمانوں کی تنظیم مسلم پارلیمنٹ کے رہنما ڈاکٹر غیاث الدین صدیقی کو دعوت دی ہے کہ وہ یکم مئی کو سیربین میں ہمارے خصوصی پروگرام ٹاکنگ پوائنٹ میں آپکے سوالوں کے جواب دیں۔ اپنا ٹیلی فون اور نام ضرور لکھیئے ہم آپ سے خود رابطہ کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||