BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 15 April, 2005, 15:02 GMT 20:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ٹوری: قدیم ترین برطانوی پارٹی

مائیکل ہاورڈ
ٹوری پارٹی کے موجودہ سربراہ مائیکل ہاورڈ
برطانیہ میں سیاسی جماعتوں کے نظام کے معرض وجود میں آنے کا سلسلہ دراصل ملک کے فرماں روا کے مذہبی عقیدہ پر کشمکش اور بحران کے نتیجہ میں شروع ہوا تھا۔

سنہ سولہ سو اٹھہتر میں جب بادشاہ جیمز دوم نے اعلان کیا کہ اس نے رومن کیتھولک عقیدہ اختیار کر لیا ہے تو اس پر ملک میں ایک ہیجان برپا ہوگیا۔ امراء اور عام لوگوں کے دلوں میں یہ خطرہ پیدا ہوا کہ رومن کیتھولک عقیدہ کی بناء پر بادشاہ ، پاپائے روم کے تابع ہو جائے گا اور ملک اپنی حاکمیت اعلیٰ کھو بیٹھے گا۔

چنانچہ جیمز دوم کو انگلستان، آئرلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کے تختوں سے اتارنے کے لیے ملک میں زبردست تحریک نے سراٹھایا۔ یہ تحریک تین سال تک جاری رہی۔

اس دوران ملک کے جاگیر دار طبقہ نے جو ٹوری کہلاتا تھا، بادشاہ کی زبردست حمایت کی اور پارلیمنٹ کی مخالفت کی جو فرماں روا سے معرکہ آراء تھی۔

ٹوریوں کے مقابلہ میں کاروباری اور سرمایہ دار طبقہ تھا جو’وگ‘ کہلاتا تھا۔ وگ کا لفظ’ وگامور‘ سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں مویشیوں کا چھکڑا چلانے والا۔

News image
ولیم پٹ دی ینگر

ٹوری کی اصطلاح آئرلینڈ کی زبان گیلیک سے ماخوذ ہے جس کے معنی ڈاکو اور رہزن کے ہیں۔ یہ نقطہ آغاز تھا ٹوری پارٹی کا جس نے بعد میں اپنے آپ کو قدامت پسند پارٹی کہلانا پسند کیا لیکن اب بھی عرف عام میں ٹوری پارٹی کہلاتی ہے۔ اسی زمانہ سے ٹوری پارٹی بنیادی طور پر شاہ پرست پارٹی چلی آرہی ہے۔

ٹوری پارٹی کو پہلی بار اقتدار سن سترہ سو تراسی میں حاصل ہے ہوا جب ولیم پٹ دی ینگر وزیرِاعظم بنے۔ انہی کے زمانہ میں آزاد تجارت اور حکومت کی مداخلت اور پابندیوں سے مکمل طور پر آزاد کاروبار کا نظریہ پارٹی نے اپنے بنیادی عقیدہ کے طور پر اپنایا۔

ٹوری پارٹی میں پھوٹ

انیسویں صدی کے وسط میں ٹوری پارٹی میں ایک انقلابی تبدیلی اس وقت رونما ہوئی جب ایک صنعت کار رابرٹ پیل پارٹی کے سربراہ بنے انہوں نے کارن لاء کے تحت کاشتکاروں کو حاصل وہ مراعات ختم کر دیں جو ان کے مفادات کی ضامن تھیں۔

اس فیصلہ سے پارٹی میں پھوٹ پڑگئی اور رابرٹ پیل کے فیصلہ کے مخالفوں نے ٹوری پارٹی چھوڑ کر ایک نئی پارٹی کی داغ بیل رکھی جو لبرل پارٹی کہلائی۔

شکست وریخت کےاس سلسلہ نے ایک نئی کروٹ لی جب اٹھارہ سو اٹھاسی میں آئرلینڈ کو حق خود اختیاری دینے کے مسئلہ پر لبرل پارٹی میں پھوٹ پڑگئی اور آئرلینڈ کو ہوم رول کا حق دینے کے مخالفوں نے لبرل یونینسٹ پارٹی کے نام سے اپنی الگ پارٹی قائم کر لی۔

برطانیہ کی آئرن لیڈی
مسز تھیچر برطانیہ کی تاریخ میں پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں دوسرے انہوں نے یکے بعد دیگرے تین انتخابات جیتے اور برطانیہ کی سب سے طویل عرصہ تک رہنے والی وزیر اعظم کا اعزاز حاصل کیا

سن انیس سو بارہ میں اس جماعت نے قدامت پسند پارٹی سے باقاعدہ طور پراتحاد کا فیصلہ کیا جس کے بعد قدامت پسند پارٹی کنزرویٹو اینڈ یونینسٹ پارٹی کہلاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی ٹوری پارٹی کا شمالی آئرلینڈ کے مسئلہ پر بڑا کٹّر موقف ہے اور وہ آئرلینڈ کے اس حصہ کو مستقل طور پر برطانیہ کا اٹوٹ انگ کے طور پر برقرار رکھنا چاہتی ہے۔

انیسویں صدی کے آخر تک ٹوری پارٹی بڑی حد تک جاگیرداروں اور اشرافیہ کی جماعت مانی جاتی تھی اور یہ اسی طبقہ کے مفادات کی نگران اور نگہبان رہی ہے لیکن بیسویں صدی میں جب برطانیہ میں حق رائے دہی میں توسیع ہوئی اور عوام کو انتخابات میں ووٹ دینے کا حق ملا تو ٹوری پارٹی نے انتخابی مصلحتوں کی خاطر اپنے پینترے بدلے اور محنت کش طبقہ کو ریجھانے کی کوشش شروع کی۔

تاہم بنیادی طور پر ٹوری پارٹی ایک طرف جاگیر داروں اور کاشتکاروں اور دوسری طرف صنعت کاروں اور سرمایہ داروں کے مفادات کی محافظ جماعت مانی جاتی رہی ہے-

سن تیس کا عشرہ ٹوری پارٹی کے لیے بحرانوں سے بھر پور عشرہ رہا ہے۔ پہلے ٹوری وزیر اعظم اسٹینلے بالڈون کے لیے ایڈورڈ ہشتم کی ایک مطلقہ امریکی خاتون ویلس سمپسن کی خاطر تخت سے دست برداری کا مسئلہ سخت ہلچل کا باعث ثابت ہوا۔ پھر ٹوری وزیر اعظم نیول چیمبرلین کی ہٹلر کے تئیں خوشنودی کی پالیسی تباہ کن ثابت ہوئی اور ملک کو جنگ کی آگ نے لپیٹ میں لے لیا-

یہ نئے ٹوری رہنما ونسٹن چرچل کی پرعزم اور مضبوط قیادت تھی کہ جس نے برطانیہ کو اس دوسری عالم گیر جنگ میں فتح سے ہمکنار کیا۔ اس جیت میں جنگ کے دوران قومی حکومت میں لیبر پارٹی کی شمولیت اور امریکا کے فوجی اتحاد کے کردار کو بھی اہمیت حاصل تھی۔

News image
سر ونسٹن چرچل

دوسری عالم گیر جنگ کے بعد جب سن انیس سو پینتالیس میں عام انتخابات ہوئے تو اس میں ٹوری پارٹی کے مقابلہ میں لیبر پارٹی کی بھاری جیت نے ساری دنیا کو حیرت ذدہ کر دیا۔ خود لیبر رہنماؤں کو اتنی زبردست جیت کی توقع نہیں تھی۔

پھر سنہ انیس سو اکیاون میں اس وقت لوگوں کے تعجب کی انتہا نہیں رہی جب لیبر پارٹی کی فلاحی بہبود ، بنیادی صنعتوں کو قومیانے اور بے روزگاری کے خاتمہ کے لیے انقلابی تبدیلیوں کے دور کے باوجود اسے عام انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور چرچل کی قیادت میں ٹوری پارٹی پھر برسر اقتدار آگئی۔

اس دوران پارٹی کی قیادت بدلی اور چرچل کی جگہ ہیرلڈ میکملین نے سنبھالی لیکن اقتصادی خوشحالی کی بدولت ٹوری پارٹی تیرہ سال تک ملک پر حکمران رہی اورپھر جب ملک اقتصادی کساد بازاری کا شکار ہوا تو ہیرلڈ ولسن کی قیادت میں لیبر پارٹی سن انیس سو چونسٹھ کے انتخابات میں فتح مند رہی۔

ایک عجب دائرہ

یہ عجیب و غریب بات ہے کہ جب ٹوری حکومت کو اقتصادی بحران کا سامنا ہوتا ہے تو برطانیہ کے عوام اقتدار لیبر پارٹی کو سونپ دیتے ہیں اور جب لیبر پارٹی معیشت کو سنبھال لیتی ہے اور ملک خوش حالی کی جا نب گامزن ہوتا ہے توپھر عوام اقتدار ٹوری پارٹی کے حوالے کر دیتے ہیں۔

ولسن کی قیادت میں برطانیہ جب خوشحالی سے سرشار تھا اور اس دور کو سوئنگنگ سکسٹیز سے تعبیر کیا جا رہا تھا کہ اچانک انیس سو ستر کے انتخابات میں عوام نے لیبر پارٹی کی بساط الٹ دی اوراقتدار ٹوری لیڈر ایڈورڈ ہیتھ کے حوالہ کر دیا۔

ایڈورڈ ہیتھ کی پالیسیاں ٹوری پارٹی کی روایتی پالیسیوں کے برعکس قدرے ترقی پسندی کی سمت بڑھ رہی تھیں کہ ملک میں صنعتی تعلقات کے قانون پر بحران اٹھ کھڑا ہو گیا اور تیل کی عالمی قیمتوں میں زبردست اضافہ کے نتیجہ میں پیدا شدہ بین الاقوامی اقتصادی ہلچل نےملک میں سیاسی حالات خراب کر دیے اور چار سال بعد ہی سن چوہتر کے انتخابات میں ہیرلڈ ولسن دوبارہ بر سر اقتدار آگئے۔

طویل ترین دور اقتدار

سن انیس سو اناسی کے انتخابات میں ٹوری پارٹی ایک نئی سربراہ مارگریٹ تھیچر کی قیادت میں میدان میں اتری جن کی فتح نے برطانیہ کا نقشہ ہی بدل دیا۔ ایک تو مسز تھیچر برطانیہ کی تاریخ میں پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں دوسرے انہوں نے یکے بعد دیگرے تین انتخابات جیتے اور برطانیہ کی سب سے طویل عرصہ تک رہنے والی وزیراعظم کا اعزاز حاصل کیا- انہیں اس بات پر بھی فخر ہے کہ انیس سو بیاسی میں جب ارجنٹینا نے برطانیہ کے جزیرہ فاک لینڈ پر قبضہ کیا تھا توانہی کی قیادت میں برطانوی فوج فاک لینڈ کی جنگ میں فاتح رہی تھی۔

News image
مارگریٹ تھیچر سب سے طویل عرصہ تک رہنے والی برطانوی وزیراعظم ہیں

انہوں نے جس انداز سے ملک میں بڑے پیمانہ پر نج کاری کی اور ٹریڈ یونینوں کی طاقت کو کچلا اسے ملک میں سوشلزم کے خلاف جہاد سے تعبیر کیا جاتا ہے انہوں نے اس فلاحی مملکت کی جڑیں کھود دیں جو سن پینتالیس میں لیبر پاٹی نے قائم کی تھی اور اس کی جگہ سرمایہ دارانہ نظام کا قلعہ تعمیر کیا۔

مغربی دنیا میں ان کی اس کامیابی پر زبردست جے جے کار ہوئی اور وہ بے حد مقبول ہوئیں ، لیکن ملک بری طرح سے بٹ گیا۔ عوام نے بڑی شدت سے محسوس کیا کہ سرمایہ دار ، کاروباری اور صنعت کار طبقہ کی خوشنودی اور ان کے فروغ کی خاطر ان کے مفادات کو بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔

ملک میں اس تیزی سے بے روزگاری بڑھی کہ اس نے لوگوں کو بدحال کردیا پھر مارگریٹ تھیچر نے جب کونسل ٹیکس کا نظام ترک کر کے پول ٹیکس کا نظام رائج کیا تو پورے ملک میں اس کے خلاف بغاوت بھڑک اٹھی جس نے پارٹی کو ہلا کر رکھ دیا۔

آخر کار پارٹی میں داخلی بغاوت نے مارگریٹ تھیچر کی قیادت کا تختہ الٹ دیا اور جان میجر پارٹی کے سربراہ بنے۔

لیکن یہ دور ٹوری پارٹی پر بدعنوانیوں کے بھر پور الزامات کا دور تھا نتیجہ یہ کہ انیس سو ستانوے میں اٹھارہ سال بعد لیبر پارٹی نئی قیادت اور نئی شبیہ کے ساتھ دوبارہ بر سر اقتدار آئی۔

ٹونی بلئیر کی قیادت میں لیبر پارٹی نے جسے اب عام طور پر نیو لیبر پارٹی کہا جاتا ہے لگاتار دو انتخابات جیتے ہیں اور اس دوران ٹوری پارٹی نے اپنے دو قائد ولیم ہیگ اور آئن ڈنکن اسمتھ بدلے ہیں اور اب تیسرے قائد مائیکل ہاورڈ کی قیادت میں پارٹی پانچ مئی کے انتخابات لڑ رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد