مسلم ووٹر پر تمام جماعتوں کی نظر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے عام انتخابات میں سیاسی جماعتیں مسلمانوں کو اپنی طرف راغب کرنے میں کوشاں ہيں۔ انتخابی مہم میں عراق پر حملہ اور گوانتانامو بے جیسے موضوعات کے ان انتخابات میں کافی تذکرے ہیں اور کئی نشستیں ایسی ہیں جہاں مسلم رائے دہندگان فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہيں۔ برطانیہ میں ایسی کافی نشستیں ہیں جہاں ہار جیت کا فیصلہ بہت کم ووٹوں سے ہوتا ہےاور ایسے علاقوں میں ایشیائی نژاد رائے دہندگان یا مسلم ووٹرز بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار سیاسی جماعتوں نے ایشیائی نژاد افراد کو کافی تعداد میں ٹکٹ دیا ہے۔ چھ سو چھیالیس رکنی پارلیمان کے انتخابات میں لیبر پارٹی نے اقلیتی فرقے کے بتیّس امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے جبکہ لبرل ڈیمو کریٹک پارٹی نے چالیس امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ کنزرویٹو جماعت قدرے برطانوی قوم پرست جماعت ہے لیکن اس بار اس نے سب سے زیادہ اکتالیس اقلیتی فرقے کے امیدواروں کو ٹکٹ دیا ہے جبکہ گزشتہ انتخابات میں اس پارٹی نے صرف پندرہ غیر برطانوی نژادامیدواروں کو امیدوار بنایا تھا۔ عراق کے مسئلے پر بہت سے مسلم رائے دہندگان لیبر پارٹی سے کافی ناراض ہیں اور پارٹی انہیں منانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پارٹی کے رہنما اور پیری بار برمنگھم سے پارلیمنٹ کے رکن خالد محمود کا کہنا ہے کہ عراق کی وجہ سے مسلم رائے دہندگان پارٹی سے ناراض ہیں لیکن اب پارٹی انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کر رہی ہے کہ صدام کے جانے سے عام عراقیوں کو فائدہ ہوا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انتخابات میں لیبر پارٹی کو سب سے آگے بتایا جا رہا ہے اور شاید اس کے برابر کوئی نہ ہو۔ مسٹر محمود کے مطابق اسکا بھی فائدہ انکی جماعت کو ہوگا۔ لیکن ان دعؤوں کے باوجود بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ سوئنگ سیٹوں پر عراق کے حوالے سے لیبر پارٹی کافی پریشان ہے۔ برطانیہ کے کچھ مسلم رہنماؤں کا بھی کہنا ہے کہ مسلمان رائے دہندگان کم سے کم چالیس نشستوں پر عراق اور گوانتانامو بے جیسے موضوع پر لیبر پارٹی کے امیدواروں کو شکست دینے کی حالت میں ہیں اور انہیں ایسا کرنا بھی چاہیے۔ لیبر پارٹی کے سر پر یہی سب سے بڑا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ پارٹی کے کئی رہنما اپنی سیٹ بچانے میں مصروف ہیں۔ وزیرِخارجہ جیک اسٹرا بلیک برن کی نشست سے امیدوار ہیں اور ڈربی ساؤتھ سے موحولیات کی وزیر مارگریٹ بیکر اپنی قسمت آزمائی کر رہی ہیں۔ ان دونوں نشستتوں میں مسلم رائے دہندگان کی تعداد کافی ہے اور اطلاعات کے مطابق دونوں وزیر کسی طرح اپنی سیٹ بچانے کی کوشش میں ہیں۔ دوسری طرف لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کا کہنا ہے کہ اس صورت حال کا فائدہ اس کی جماعت کو پہنچےگا۔ پارٹی کے ایک رکن رمیش دیوان کا کہنا ہے ’ سوئنگ سیٹوں نے ہی ایشیائی نژاد افراد کی طرف سب کی توجہ مبذول کروائی ہے اور کئی ایسی سیٹیں ہیں جہاں ایشیائی تیس فیصد اور کہیں پچیس فیصد سے زیادہ آباد ہیں‘۔ رمیش دیوان کا دعوٰی ہے کہ اس طرح کی تمام سیٹوں پر کنزرویٹو پارٹی کے لوگ امیگریشن اور مہاجروں کے مسائل اٹھا رہے ہیں اور دوسرا اہم موضو ع عراق ہے جس سے لیبر پارٹی کافی پریشان ہے۔ لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کا کہنا ہے کہ ایسی تمام نشستوں پر رائے دہندگان ان کی پارٹی کو ووٹ دیں گےجس سے سوئنگ سیٹوں پر انہیں فائدہ ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||