انتخابات اور سوئینگ سیٹیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کےحالیہ انتخابات میں ’سوئینگ اسٹیٹس‘ کی اصطلاح کے بڑے تذکرے تھے۔ سوئینگ اسٹیٹس یعنی وہ ریاستیں جو بہت کم ووٹوں سے کسی بھی جماعت کے حق میں جاسکتی ہیں۔ آئندہ ماہ برطانیہ کےعام انتخابات کی مہم میں اسی طرز پر سوئینگ یا مارجنل سیٹوں کی بات ہو رہی ہے ۔ یعنی ایسی نشستیں جن پر ہار جیت بہت ہی کم ووٹوں سے ہوگی۔ برطانیہ کی تقریباً سبھی اہم جماعتیں انہیں سوئینگ سیٹوں کو جیتنے کی ہر ممکن کوشش میں مصروف ہیں۔ تقریباً پچاس نشستیں ایسی ہیں جن پر گزشتہ انتخابات میں لیبر پارٹی نے کنزرویٹیو (قدامت پرست) سے صرف دس فیصد ووٹوں سے فتح حاصل کی تھی۔ اس بار کنزرویٹیو پارٹی ان نششتوں کو جیتنے کے لیے بہت محنت کررہی ہے۔ کنزرویٹیو پارٹی کے ایک لیڈر پریم دت شرما کا کہنا ہے کہ اس بار کے انتخابات میں انہیں پچاس ساٹھ نششتوں پر سبھی کی نگاہیں لگی ہوئي ہیں۔ انکا کہنا ہے ’ ہماری کوشش ہے کہ ایسے تمام رائے دہندگان کو پارٹی میں واپس لایا جائے جو گزشتہ دو انتخابات میں ہماری پارٹی کو چھوڑ کر لیبر پارٹی کو ووٹ دیتے رہے ہیں ہم میڈیا، ریلی یا پھر ذاتی طور پر ان سے ملکر انہیں اپنی پارٹی میں واپس لانے کی کوشش کر رہے ہیں‘۔ مسٹر پریم کا دعوی ہے کہ ایسے بہت سے رائے دہندگان جو پارٹی چھوڑ کر چلے گئے تھے اب واپس آرہے ہیں۔ انکا یہ بھی کہنا ہے کہ ان پچاس سیٹوں کا سروے کیا گیا ہے اور جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ ووٹرمقامی مسائل پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں جنہیں لیبر پارٹی نے پوری طرح نظر انداز کر دیا ہے۔ دوسری طرف حکمراں لیبر پارٹی کو اس بات پر بھروسہ ہے کہ حکومت نے اچھے کام کیے ہیں اور وہ اپنی اچھی کار کردگی کے سبب انتخابات میں کامیاب ہو جائے گی۔ لیبر پارٹی اس لیے بھی زیادہ مطمئن ہے کہ انتخابات میں کامیابی کے لیے کنزرویٹیو کو آئندہ ڈیڑھ ہفتے کے اندر تقریبا دس فیصد رائے دہندگان کو اپنی جانب راغب کرنا ہوگا۔ لیکن تاریخ میں ایسا اس سے قبل کبھی نہیں ہوا ہے۔ حکمراں لیبر پارٹی اور اپوزیشن کنزرویٹیو جماعت زبردست انتخابی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ ایک کو حکومت مخالف رجحان کا سامنا ہے تو دوسری اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو واپس لانے میں بڑی دشواریوں کا سامنا کر رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||