ایمیگریشن سختی: بلیئر کی حمایت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ امیگریشن اور پناہ کے غلط استعمال کے بارے میں لوگوں کی تشویش بجا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ جادو کی کوئی چھڑی ایسی نہیں ہے جو مسائل کو فی الفور حل کر سکے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں ضابطوں کو سخت نبایا جانا چاہیے تا کہ صرف ان لوگوں ورک پرمٹ ملے جن کی صلاحیتوں کی برطانیہ کو ضرورت ہو۔ تاہم انہوں نے ٹوری کی اس تجویز کو مسترد کیا کہ امیگریشن کا کوٹہ مقرر کیا جانا چاہیے۔ برطانیہ کے وزیرِداخلہ چارلس کلارک نے کہا ہے کہ برطانیہ میں سکونت اختیار کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے آسٹریلیا کی طرز پر پوائنٹس نظام متعارف کرانے کی تجویز پیش کرنے والے ہیں۔ اس تجویز برطانیہ آنے اور شہریت حاصل کرنے کے خواہشمندوں کو ایک ٹیسٹ دینا ہو گا جس میں وہ یہ ثابت کریں گے کہ وہ کس طرح برطانیہ کے لیے فائدہ مند ہیں۔ چارلس کلارک برطانوی حکومت کی ان تجاویز کا اعلان، آج پیر کو کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ اقتصادی نقل مکانی برطانیہ کے لیے ضرور فائدہ مند ثابت ہوئی ہے مگر اس کے لیے منضبط پالیسی بنانے کی ضرورت ہے تا کہ یہ پالیسی معاشرے پر بوجھ نہ بن جائے‘۔ لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کے منصوبے پر غور کرے گی جبکہ حزبِ اختلاف کی ٹوری پارٹی کا کہنا ہے کہ ہم اس موضوع پر اپنا منصوبہ پہلے ہی پیش کر چکی ہے۔ بی بی سی کے ریڈیو فور ’ویسٹ منسٹر ہاور‘ کے لیے دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا ہے کہ ’مجھے کنزرویٹو کی کوٹہ کی تجویز سے اتفاق نہیں ہے‘ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں برطانیہ آنے والوں کی تعداد میں کمی بیشی کا فیصلہ ملک کی ضروریات کو سامنے رکھ کر کرنا چاہیے‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||