BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 18 January, 2005, 18:14 GMT 23:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مسلم سکول معاشرے کا حصہ ‘
News image
’ اسلامی سکول مسلمان بچوں کو برطانوی طرزِ زندگی سے جوڑنے کے لیے ایک پل کر کام کر رہے ہیں‘
’میں بھی اتنا ہی برطانوی ہوں جتنا کہ ڈیوڈ بیل اسے کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ مجھے ایک خطرہ قرار دے‘۔

یہ خیالات مسلم سکول ایسوسی ایشن کے چئیرمین محمد مخدوم کے ہیں جو کہ ڈیوڈ بیل کے بیان کو غیر منصفانہ تنقید قرار دے رہے ہیں۔

ڈاکٹر مخدوم نے کہا کہ ’ یہ بہت تکلیف دہ بات ہے اور ان کے پاس کوئی ثبوت بھی نہیں ہے‘۔

ڈیوڈ بیل نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ کہ کچھ اسلامی سکول برطانیہ کی عام روایات کو طالبعلموں تک نہیں پہنچا رہے ہیں۔ ان کے اس بیان پر برطانیہ کے مسلم ماہرینِ تعلیم نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔

مسلمان ماہرینِ تعلیم کا کہنا ہے کہ ان کے ادارے کامیابی سے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور وہ بچوں کے برطانوی معاشرے میں شمولیت کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں کھڑی کر رہے۔

محمد مخدوم کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ اسلامی سکول مسلمان بچوں کو برطانوی طرزِ زندگی سے جوڑنے کے لیے ایک پل کر کام کر رہے ہیں‘۔

 میں ایک مسلمان ہوں اور ایک برطانوی بھی، اور اس بات میں کوئی تضاد نہیں ہے
ڈاکٹر محمد مخدوم

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی ایسوسی ایشن جو کہ برطانیہ کے دو تہائی اسلامی سکولوں کی نمائندہ ہے دیگر غیر اسلامی تعلیمی تنظیموں سے روابط قائم کر رہی ہے۔

آفسٹیڈ نامی تنظیم کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ چند برس کے دوران اسلامی سکولوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ 2003 میں 53 اسلامی سکول موجود تھے جن کی تعداد 2005 میں 118 تک جا پہنچی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد