’مسلم سکول معاشرے کا حصہ ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’میں بھی اتنا ہی برطانوی ہوں جتنا کہ ڈیوڈ بیل اسے کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ مجھے ایک خطرہ قرار دے‘۔ یہ خیالات مسلم سکول ایسوسی ایشن کے چئیرمین محمد مخدوم کے ہیں جو کہ ڈیوڈ بیل کے بیان کو غیر منصفانہ تنقید قرار دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر مخدوم نے کہا کہ ’ یہ بہت تکلیف دہ بات ہے اور ان کے پاس کوئی ثبوت بھی نہیں ہے‘۔ ڈیوڈ بیل نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ کہ کچھ اسلامی سکول برطانیہ کی عام روایات کو طالبعلموں تک نہیں پہنچا رہے ہیں۔ ان کے اس بیان پر برطانیہ کے مسلم ماہرینِ تعلیم نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ مسلمان ماہرینِ تعلیم کا کہنا ہے کہ ان کے ادارے کامیابی سے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور وہ بچوں کے برطانوی معاشرے میں شمولیت کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں کھڑی کر رہے۔ محمد مخدوم کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ اسلامی سکول مسلمان بچوں کو برطانوی طرزِ زندگی سے جوڑنے کے لیے ایک پل کر کام کر رہے ہیں‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی ایسوسی ایشن جو کہ برطانیہ کے دو تہائی اسلامی سکولوں کی نمائندہ ہے دیگر غیر اسلامی تعلیمی تنظیموں سے روابط قائم کر رہی ہے۔ آفسٹیڈ نامی تنظیم کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ چند برس کے دوران اسلامی سکولوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ 2003 میں 53 اسلامی سکول موجود تھے جن کی تعداد 2005 میں 118 تک جا پہنچی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||