BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 23 January, 2005, 19:05 GMT 00:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سب کو پناہ نہیں دے سکتے: ہوورڈ
مائیکل ہوورڈ اور ٹونی بلیئر
برطانیہ میں حزب اختلاف کے رہنما مائیکل ہوورڈ نے کہا ہے کہ کنزرویٹو پارٹی کی حکومت کے دوران میں برطانیہ میں پنا گزینوں کے لیے کوٹہ مختص کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ غیر معمولی صورتحال میں پناہ گزینوں کی حد بڑھائی بھی جا سکے گی۔

مائیکل ہوورڈ نے کہا کہ مجوزہ منصوبے کے تحت ہر سال بیس ہزار افراد کو برطانیہ آنے کی اجازت دینے کی حد رکھی جائے گی۔

ہوورڈ نے نشریاتی ادارے آئی ٹی وی کے ایک پروگرام پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ برطانیہ ایک حد سے زیادہ پناہ گزینوں کو نہیں ٹھہرا سکتا۔

کنزرویٹو پارٹی کا کہنا ہے کہ ان کی تجویز پر عملدرآمد کے نتیجے میں وہ لوگ زیادہ تعداد میں یہاں آ سکیں گے جو حقیقی معنوں میں پناہ گزیں ہوں گے۔

پناہ گزینوں کے لیے کام کرنےوالی کچھ تنظیموں کا خیال ہے کہ اس پالیسی سے پناہ گزینوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

مائیکل ہوورڈ نے کہا کہ یہ توقع کرنا غیر حقیقت پسندانہ ہے کہ برطانیہ سب پناہ گزینوں کو قبول کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے جہاں پہلے ہی بہت رش ہے۔

مائیکل ہوورڈ کے والدین انیس سو انتالیس میں رومانیہ سے برطانیہ آئے تھے اور ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے علاوہ بھی بہت سے مقامات ہیں جہاں پناہ گزیں جا سکتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد