سیاسی پناہ کی تجاویز، بچوں کو خطرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں سماجی کارکنوں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر حکومت سیاسی پناہ کے طالب افراد کی امداد بند کرنے کا منصوبہ منظوری کرتی ہے تو خدشہ ہے کہ ان کے بچے بے یار و مددگار ہو جائیں گے۔ سماجی کارکنوں کی برٹش ایسوسی ایشن اور پناہ گزیں بچوں کی تنظیم نے سیاسی پناہ کے حصول سے متعلق اس بِل کو ’خطرناک اور غیر اخلاقی‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بِل کی منظوری کی صورت میں ایسے والدین، جو اپنے بچوں کی بنا پر واپس نہیں جائیں گے، وہ کسی قسم کی مدد کا تقاضا کرنے کے مجاز نہیں ہوں گے۔ اس لئے سماجی کارکنوں کی تنظیموں نے وزراء سے اپیل کی ہے کہ وہ اس بِل کی شق نمبر سات میں وضع کردہ تجاویز خارج کر دیں۔ ’دی اسائلم اینڈ امیگریشن بِل‘ سے متعلق تجاویز پیر کو دارالعوام میں پیش کی جائیں گی۔ تنظیم کے ڈائریکٹر ایئن جانسن نے کہا ہے کہ اس اقدام کے باعث متعدد بچوں کا مشکلات و مسائل سے دوچار ہونے کا امکان بہت بڑھ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شق نمبر سات سماجی کارکنوں کی کوششوں میں رکاوٹ ہے۔ پناہ گزین بچوں کی تنظیم میں این سی ایچ، سیو دی چلڈرن اور چلڈرنز سوسائٹی جیسی امدادی تنظیمیں شامل ہیں۔ این سی ایچ کے مکلوسکی کے مطابق یہ ایک افسوسناک بات ہے کہ حکومت بچوں کو محروم کرنے کی تجویز پیش کر رہی ہے۔ تاہم امیگریشن کے حکام نے امدادی تنظیموں کے اس موقف کی تائید نہیں کی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||