ہزاروں کو ہالینڈ چھوڑنا پڑے گا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہالینڈ کی پارلیمینٹ نے اُس منصوبے کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت پناہ کے ہزاروں ناکام طلب گاروں کو ملک سے نکال دیا جائے گا۔ نئے قانون کے تحت ہالینڈ میں پناہ حاصل کرنے کے تقریباً چھبیس ہزار خواہشمندوں کو جن کی درخواستیں منظور نہیں کی گئیں، ملک بدر کردیا جائے گا۔ ان میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جو کئ برسوں سے اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ اس ملک میں رہائش پذیر ہیں۔ ہالینڈ میں، جو روایتی طور پر تارکینِ وطن کو برداشت کرنے والا معاشرہ تصور کیا جاتا ہے، اس قانون کے بارے میں عوامی رائے منقسم ہے۔ اس قانونی بل کی حمایت ملک کی دائیں بازو کی حکومت کر رہی تھی۔ اس قانون سے ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے ایک شخص نے احتجاجً اپنا منہ اور ہونٹ سی لئے ہیں۔ یہ قانون ان تمام افراد پر لاگو ہوتا ہے جو اپریل سن دو ہزار ایک کے بعد ملک میں داخل ہوئے ہیں۔ ان افراد میں سے تئیس ہزار افراد کے کیسوں کو اہم قرار دے کر اس قانون کے دائرے سے باہر رکھا گیا ہے جبکہ باقی چھبیس ہزار لوگوں کو ملک بدر ہونا پڑے گا۔ منگل کے روز ہونے والے ووٹ میں پارلیمینٹ کی اکثریت نے اس قانونی مسودے کی حمایت کی اور اس میں نرمی کرنے کی کوششوں کو مسترد کردیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||