| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں اب بھی پندرہ لاکھ افغان
اقوام متحدہ کے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں اس وقت بھی پندرہ لاکھ افغان پناہ گزین موجود ہیں۔ البتہ اس رپورٹ کے مطابق افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد سے دو برسوں میں بیس لاکھ پناہ گزین عالمی امداد کے ساتھ واپس اپنے وطن لوٹ چکے ہیں۔ ان پناہ گزینوں کی واپسی کا عمل گزشتہ دنوں مشرقی افغانستان میں اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے یو این ایچ سی آر کی ایک غیرملکی کارکن کی ہلاکت کے بعد روک دیا گیا تھا۔ اس بندش سے اقوام متحدہ کے اہلکاروں کا کہنا تھا کہ واپسی کا عمل زیادہ متاثر نہیں ہوا کیونکہ سردی کے موسم کی وجہ سے واپس لوٹنے والوں کی تعداد ویسے ہی کم ہے۔ پاکستان انیس سو اٹھہتر (1978) سے دنیا میں پناہ گزینوں کا کسی بھی ملک پر سب سے بڑا بوجھ اٹھائے ہوئے تھا۔ لیکن گزشتہ چند برسوں سے شاید اس کا بھی بظاہر صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا۔ پاکستان کا کہنا تھا کہ اس کے لئے ایک ایسے وقت میں اتنی بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کی دیکھ بھال کرنا ناممکن ہے جب اس کی اپنی معیشت کمزور ہے۔ ساتھ میں ان افغانوں کے لئے عالمی امداد میں کمی اور ان کی موجودگی سے سماجی اور معاشرتی مسائل کے پیدا ہونے ایسے عناصر تھے جن کی وجہ سے حکومت پاکستان ان کی جلد واپسی کی خواہاں ہوئی۔ اسی لئے اس کی کوشش رہی کہ یہ پناہ گزین جلد از جلد واپس لوٹ سکیں۔ گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد افغانستان میں تبدیلیِ حکومت سے دو دہائیوں سے زائد عرصے سے یہاں بےکسی کی زندگی گزارنے والے پناہ گزینوں میں ایک اُمید پیدا ہوئی جو انہیں بڑی تعداد میں ایک مرتبہ بھر اپنے دیس کی جانب کھینچتی رہی۔ پاکستان اور یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ واپسی کا یہ عمل رضاکارانہ تھا۔ البتہ انسانی حقوق کی کئی عالمی تنظیموں نے، جن میں ہیومن رائٹس واچ بھی شامل ہے، افغانستان میں غیر مستحکم حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے قبل از وقت قرار دیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ افغانستان کے اندر حالات کا مناسب جائزہ لینے اور انہیں تسلی بخش پائے جانے کہ بعد ہی ان افغانوں کی واپس لوٹنے میں مدد کی جائے۔ پاکستان، افغانستان اور یو این ایچ سی آر کے ایک معاہدے کے مطابق سن دو ہزار پانچ تک افغانوں کو رضاکارانہ طور پر واپسی کا اختیار حاصل ہوگا۔ افغانوں کے لئے اب پاکستان میں بھی حالات غیرتسلی بخش ہوگئے تھے۔ کابل میں شمالی اتحاد کی اکثریت والی حکومت نے ان افغانوں کو پاکستانی حکومت کی نظر میں مشکوک بھی بنا دیا۔ بلوچستان میں سینکڑوں کی تعداد میں ان کی پکڑ دھکڑ ان نامساعد حالات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اس سے قبل بھی جرائم میں اضافے اور دیگر خرابیوں کے لئے افغان پناہ گزینوں کو مورد الزام ٹھرایا جاتا۔ اور پولیس کی تو کبھی افغانوں کے ساتھ بنی ہی نہیں۔ جب تک افغانوں کے پاس واپسی کا اختیار نہیں تھا انہیں بھی گزارہ کرنا پڑتا تھا لیکن اب خفیف سی اُمید بھی انہیں واپس جانے پر مجبور کرنے کے لئے کافی نظر آتی ہے۔ طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد پہلے برس کے مقابلے میں اس سال پناہ گزینوں کی واپسی کی تعداد کئی گنا کم رہی۔ پہلے برس کے سترہ لاکھ افراد کی واپسی کے مقابلے میں اس سال صرف تین لاکھ نے پاکستان سے واپسی کا فیصلہ کیا۔ ماہرین کے خیال میں باقی ماندہ افغان اگلے برس جون میں افغانستان میں عام انتخابات کے نتائج کے منتظر ہیں جس کے بعد وہ واپسی کا شاید فیصلہ کریں۔ ابھی یہ واضع نہیں کہ موجودہ سروے کب کیا گیا تھا۔ گزشتہ دنوں پاکستان اور یو این ایچ سی آر نے باقی بچے پناہ گزینوں کی صحیع تعداد معلوم کرنے کے لئے ایسے ہی ایک سروے کا فیصلہ کیا تھا۔ اگر یہ اعداو شمار صحیح ہیں تو ان سے ثابت ہوتا ہے کہ ابھی بھی ملک میں افغان پناہ گزین بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||