| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہم جنس بنگلہ دیشیوں کو پناہ
آسٹریلیا کے ہائی کورٹ نےفیصلہ دیا ہے کہ دو ہم جنس پرست بنگلہ دیشیوں کو پناہ کے وہی حقوق دیئے جانے چاہئیں جو سیاسی پناہ گزینوں کو حاصل ہیں۔ یہ دو افراد، جن کے نام ظاہر نہیں کئے گئے ہیں، پانچ برس قبل پناہ طلب کرنے کے لئے آسٹریلیا بھاگ آئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں بنگلہ دیش میں ان کے لمبے عرصے کے تعلقات کی بنا پر ستایا جا سکتا ہے اور معاشرے سے علیحدہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ ہائی کورٹ نے ذیلی عدالت اور امیگریشن ٹربیونل کی اس رائے کو مسترد کیا کہ اگر یہ دو افراد بنگلہ دیش واپس جاکر چھپ کر رہتے ہیں تو انہیں کسی پریشانی کا سامنا نہیں ہوگا۔ عدالت نے کہا کہ ٹرائبیونل کو اس بات پر غور کرنا چاہئیے تھا کہ اگر وہ بنگلہ دیش میں ہم جنس پرست جوڑے کے طور پر کھل کر رہنے لگے تو ان لوگوں پر کیا گزر سکتی ہے۔ ان دو بنگلہ دیشیوں کے وکیل بروس لیوِٹ نے عدالت کو بتایا کہ ان پر ہم جنس پرست ہونے پر پہلے ہی پتھر برسائے گئے ہیں اور انہیں کوڑے بھی لگائے ہیں۔ ان کے خلاف مقامی اسلامی کونسل نے فتوی بھی جاری تھا۔ مسٹر لیوٹ نے کہا کہ ٹرائبیونل کی یہ دلیل کہ اگر وہ بنگلہ دیش میں چھپ کر رہتے ہیں تو انہیں کوئی پریشانی نہیں ہوگی ایسی ہے کہ اگر یہ کہا جائے کہ ہولوکاسٹ کی شکار اینی فرینک کو دوسری جنگ عظیم کے دوران نازیوں سے کوئی خطرہ نہیں تھا اگر وہ مسلسل بالا خانے میں چھپی رہتیں۔ عدالت نےمنگل کو اپنے فیصلے میں کہا کہ اس بات کو طے کرنے کے بعد کہ ہم جنس پرستی بنگلہ دیش میں قابل قبول نہیں ہے پناہ گزینوں کے ٹرائبیونل نے یہ کہ کر غلطی کی کہ ان دو افراد کو لاحق عتاب کا خطرہ بے بنیاد تھا۔ انسانی حقوق کی تنظیمں آسٹریلیا پر امیگریشن کے سخت قوانین کے لئے تنقید کرتی رہی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||