برطانیہ: امیگریشن و پناہ کی تجاویز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے وزیرِداخلہ چارلس کلارک نے کہا ہے کہ برطانیہ میں سکونت اختیار کرنے کے خواہشمند افراد کو ایک ٹیسٹ دینا ہو گا جس میں وہ یہ ثابت کریں گے کہ وہ کس طرح برطانیہ کے لیے فائدہ مند ہیں۔ برطانوی حکومت امیگریشن کے لیے آسٹریلیا کی طرز پر پوائنٹس نظام لاگو کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے تاہم وہ ٹوری پارٹی کے مجوزہ کوٹہ سسٹم کے خلاف ہے۔ چارلس کلارک برطانوی حکومت کی ان تجاویز کا اعلان پیر کو کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ اقتصادی نقل مکانی برطانیہ کے لیے ضرور فائدہ مند ثابت ہوئی ہے مگر اس کے لیے پالیسی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ یہ معاشرے پر بوجھ نہ بن جائے‘۔ لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کے منصوبے پر غور کرے گی جبکہ حزبِ اختلاف کی ٹوری پارٹی کا کہنا ہے کہ ہم اس موضوع پر اپنا منصوبہ پہلے ہی پیش کر چکے ہیں۔ برطانوی وزیرِداخلہ نے یہ بھی بتایا کہ 2008 تک برطانیہ کا ویزا حاصل کر کے ملک میں آنے والے ہر فرد کی انگلیوں کے نشان لیے جانے لگیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم اپنے ملک میں موجود ہر شخص کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں‘۔ برطانوی شہریت سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم ایک ایسا نظام تشکیل دیں گے جو کہ اس ملک میں آنے اور کام کرنے میں دلچسپی رکھنے والے افراد کی صلاحیتوں اور قابلیت کی جانچ کرے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ وہ اس ملک کی معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||