عراق: بلیئر پر حزب اختلاف کے سوالات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے اپنی ساکھ پر اٹھائے جانے والے سوالات کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا ہے کہ جنگ سے قبل کی انٹیلیجنس میں خامیوں کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جنگِ عراق بلاجواز تھی۔ برطانوی پارلیمان میں بٹلر رپورٹ پر بحث شروع کرتے ہوئے ٹونی بلیئر نے اراکین پارلیمان کو بتایا کہ یہ واضح تھا کہ صدام حسین ایک خطرہ بن چکے تھے۔انہوں نے کہا کہ جنگ سے قبل انہیں جو انٹیلیجنس دی گئی تھی اس کے بعد کوئی شک نہیں رہ گیا تھا کہ صدام حسین وسیع تباہی کے ہتھیاروں کی جستجو میں تھے۔ لیکن حزب اختلاف کنزرویٹِو کے رہنما مائیکل ہاورڈ نے ٹونی بلیئر پر یہ واضح نہ کرنے کا الزام لگایا کہ عوام کو جو بات بتائی گئی تھی اس کی حمایت میں انٹیلیجنس نے کیوں نہیں کچھ کیا۔ پانچ گھنٹے کے بحث دوران لِبرل ڈیموکریٹ رہنما چارلس کینیڈی نے کہا کہ ٹونی بلیئر کو جنگ کے بارے میں شرم محسوس کرنی چاہئے۔ برطانوی پارلیمان میں منگل کے روز لارڈ بٹلر کی اس رپورٹ پر بحث کی جارہی تھی جس میں عراق کے وسیع تباہی کے ہتھیاروں کے بارے میں حکومت کی جانب سے سمتبر دو ہزار دو کی انٹیلیجنس کی دستاویزات کو عوام کے سامنے پیش کرنے کے طریق پر تنقید کی گئی ہے۔ انٹیلیجنس پر تنقید کے باوجود وزیراعظم بلیئر نے پارلیمان کو بتایا کہ انٹیلیجنس کی اطلاعات کے بعد وسیع تباہی سے متعلق صدام حسین کے پروگرام اور ارادے کے بارے میں ’’کوئی شک’’ نہیں رہ گیا تھا۔ ٹونی بلیئر نے کہا کہ اس پر بین الاقوامی برادری کا بھی اتفاق تھا جو کہ اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر چودہ سو اکتالیس میں ظاہر تھا۔ مائیکل ہاورڈ نے ٹونی بلیئر کو چیلنج کیا کہ جوائنٹ انٹیلیجنس کمیٹی نے انٹیلیجنس کو ’جوڑ توڑ اور غیرمستقل’’ sporadic and patchy قرار دیا تھا۔ وزیراعظم بلیئر نے کہا کہ وہ خامیوں کو قبول کرتے ہیں لیکن جنگ کرنے کا فیصلہ غلطی نہیں تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||