برطانیہ میں شناختی کارڈ کا قضیہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ انتہائی عجیب و غریب بات ہے کہ برطانیہ میں ٹونی بلئیر کی لیبر حکومت شناختی کارڈ کے اس نظام کو دوبارہ نافذ کرنے پر تلی ہوئی ہے جو تریپن سال قبل سر ونسٹن چرچل کی ٹوری حکومت نے یکسر ترک کر دیا تھا- برطانیہ میں عام انتخابات سے قبل ٹونی بلئیر کی حکومت نے شناختی کارڈ کے نظام کے نفاذ کے لئے پارلیمنٹ میں مسودہ قانون پیش کیا تھا لیکن ملک میں اس کی شدید مخالفت اور خود لیبر پارٹی میں اس کے خلاف بغاوت کے پیش نظر اسے ترک کر دیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ اب جب کہ نئے انتخابات ہونے والے ہیں یہ بل نئی پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا- نئی پارلیمنٹ کے افتتاح پر ملکہ نے اپنے خطاب میں اعلان کیا ہے کہ شناختی کارڈ کا بل عنقریب پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا جس کے بعد ملک میں شناختی کارڈ کے مسلہ پر بحث کی آگ پھر سے بھڑک اٹھی ہے- بعض مبصرین کی رائے ہے کہ یہ مسلہ ٹونی بلئیر کے سیاسی مستقبل کے لئے مہلک ثابت ہو سکتا ہے- برطانیہ میں شناختی کارڈ کی کہانی- برطانیہ میں شناختی کارڈ کے نظام کی کہانی پہلی عالمگیر جنگ سے شروع ہوتی ہے جب یہ نظام پہلی بار سن انیس سو انیس میں رائج ہوا تھا- مقصد اس کا جنگ کے پر آشوب دور میں غیر ملکیوں کی نشاندہی کرنا تھا- جنگ کے اختتام پر یہ نظام منسوخ کردیا گیا تھا اور سب سے بڑی دلیل یہ پیش کی گئی تھی کہ یہ نظام شہریوں کی آزادی اور ان کے بنیادی حقوق کے منافی ہے- پھر دوسری عالمگیر جنگ کے دوران یہ نظام دوبارہ نافذ کیا گیا جو جنگ کے خاتمہ کے بعد بھی نافذ رہا- سن انیس سو اکیاون میں لارڈ چیف جسٹس نے شناختی کارڈ کے خلاف ایک مقدمہ میں یہ فیصلہ دیا کہ پولیس کی طرف سے کسی شہری سے قانون کی معمولی خلاف ورزی پر شناختی کارڈ طلب کرنا غیر قانونی ہے کیونکہ یہ کارڈ اس مصرف کے لئے جاری نہیں کیا گیا ہے- ملک کی اعلٰی عدالت کے اس فیصلہ کے مطابق چرچل کی حکومت نے شناختی کارڈ کے نظام کو یکسر منسوخ کر دیا- لیکن نہ جانے کیوں اس کے بعد ہر وزیر داخلہ نے اس نظام کی تجدید کی کوشش کی ہے جو ملک میں رائے عامہ کی اکثریت کی مخالفت کی بناء پر ناکام رہی ہے- گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے واقعہ کے بعد سابق وزیر داخلہ ڈیوڈ بلنکٹ نے دہشت گردی کے خلاف بے حد سخت قانون کی منظوری کے ساتھ، نہایت جنونی انداز سے شناختی کارڈ کے نفاذ کی مہم شروع کی اور ملک بھر میں شدید مخالفت کے باوجود، نومبر سن دو ہزار چار میں پارلیمنٹ میں ایک متنازعہ مسودہ قانون پیش کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ملک کو عالمی دہشت گردی سے بچانے کے لئے یہ اقدام لازمی ہے- مسودہ قانون میں کہا گیا تھا کہ سولہ سال کی عمر کے بعد ہر شہری کے بارے میں تمام کوائف ، انگلیوں کے نشانات اور آنکھوں کی پتلیوں کی تصاویر قومی شناختی رجسٹر میں درج کی جائیں گی اور ہر شہری کوقومی شناختی رجسٹر کا نمبر دیا جائے گا جو حکومت اور نجی کمپنیوں کو کسی بھی شہری کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کلید ہو گی- شناختی کارڈ کا نفاذ پانچ سال بعد۔ اس مسودہ قانون کے مطابق شناختی کارڈ کے نظام کے نفاذ کی تاریخ سن دو ہزار دس مقرر کی گئی تھی کیونکہ اس نظام کے لئے وسیع انتظامات کے لئے وقت درکار ہے جس پر لاگت چھ ارب پاونڈ آئے گی- اندازاً ہر شہری کو شناختی کارڈ کے لئے چالیس پاونڈ ادا کرنے ہوں گے- اس مسودہ قانون کے مخالفوں نےاس بات پر وزیر داخلہ کا مذاق اڑایا تھا کہ ان کے کہنے کے مطابق ملک کو اس وقت دہشت گردی کا خطرہ ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لئے شناختی کارڈ کا نظام پانچ سال کے بعد نافذ کیا جائے گا- شناختی کارڈ کے مخالفین کا یہ بھی استدلال ہے کہ اس نظام کے نفاذ کے لئے چھ ارب پاونڈ کی لاگت بہت زیادہ ہے اور قطعی غیر ضروری- اس سے بھی کم رقم میں دس ہزار سے زیادہ پولیس کے سپاہی بھرتی کئے جا سکتے ہیں جو دہشت گردی کا موثر طور پر مقابلہ کر سکتے ہیں- پھر اتنی رقم میں ملک میں چھ سو سے زیادہ اسکول قائم ہو سکتے ہیں- سابق وزیر داخلہ ڈیوڈ بلنکٹ نے جب یہ مسودہ قانون شائع کیا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ شناختی کارڈ ہر شہری کے لئے لازمی ہوگا اور جس کے پاس یہ کارڈ نہیں ہو گا اس پر ڈھائی ہزار پاونڈ جرمانہ عائد کیا جائے گا- لیکن پچھلے عام انتخابات کےلیبر منشور میں کہا گیا ہے کہ یہ کارڈ رضا کارانہ ہوگا تاہم پاسپورٹ کے اجراء اور تجدید پر ہر شخص کے وہ تمام کوائف جمع کئے جائیں گے جو شناختی کارڈ کے لئے لازمی ہوں گے- شہری آزادیوں کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ سیدھی ناک پکڑنے کے بجائے گھوما پھرا کر ناک پکڑنے کے مترادف بات ہوگی- شہریوں کےذاتی کوائف چاہے بائو میٹرک پاسپورٹ پر ہوں یا شناختی کارڈ پر یہ شہریوں کی آزادی اور ان کے بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہوگی- دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے شناختی کارڈ کے حق میں ٹونی بلئیر کی حکومت کی طرف سے جو دلیل پیش کی جاتی ہے اس کے جواب میں سپین کی مثال پیش کی جاتی ہے- اسپین میں شناختی کارڈ کئی دہائیوں قبل جنرل فرانکو کے آمرانہ دور سے نافذ ہے لیکن اس کے باوجود مارچ سن دوہزار چار میں ٹرینوں پر خود کش حملے نہیں روکے جا سکے جن میں ایک سو نوے افراد جاں بحق ہوئے تھے- شناختی کارڈ آمرانہ حکومتوں کا آلہ۔ اس وقت پوری دنیا میں ایک سو سے زیادہ ملکوں میں شناختی کارڈ کا نظام رائج ہے جن میں سے پیشتر ایسے ملک ہیں جہاں فوجی اورآمرانہ حکومتیں بر سر اقتدار ہیں اور یہ نظام عوام کی بہبود کے بجائے شہریوں کی آزادیاں سلب کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے- شناختی کارڈ کا نظام سب سے پہلے زار روس کے دور میں شروع ہوا تھا جو ’پاپسیکا‘ کہلاتا تھا یعنی داخلی پاسپورٹ- لیکن جب بالشیوکوں نے زار روس کا تختہ الٹا تو سن انیس سو سترہ میں یہ نظام ترک کر دیا گیا- اسٹالن نے البتہ سن انیس سو بتیس میں اس نظام کی تجدید کی جس کے تحت روزگار ، شادی اور طبی امداد کے لئے شناختی کارڈ لازمی تھا- انیس سو اکیانوے میں سویت یونین کی مسماری کے بعد یہ نظام روس میں منسوخ کردیا گیا- نازی جرمنی نے نہ صرف شناختی کارڈ کا نظام اختیار کیا تھا بلکہ بعض اقلتیوں کے افراد کے جسموں پر، مویشیوں کی طرح نشان اور نمبر داغے جاتے تھے- اب بھی بیشتر مغربی جمہوریتوں میں عوام کی رائے عامہ کی مخالفت کے پیش نظر شناختی کارڈ رائج نہیں ان میں امریکا ، آسٹریلیا، کینڈا، فرانس ، سویڈن ڈنمارک اور ناروے شامل ہیں- برطانیہ میں حالیہ عام انتخابات کے بعد جن میں ٹونی بلئیر کی حکومت کی اکثریت ایک سو ساٹھ سے کم ہو کر صرف ساٹھ رہ گئی ہے ، نئی پارلیمنٹ میں شناختی کارڈ کا بل پیش کرنے پرٹونی بلئیر کا اصرار ان کی سیاسی بصیرت پر سوالیہ نشان قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ انہیں اس بات کا احساس ہے کہ اس مسلہ پر خود ان کی لیبر پارٹی میں شدید اختلاف ہے اور انہیں لبرل ڈیموکریٹس کی شدید مخالفت کا بھی خطرہ ہے اور ممکن ہے کہ ٹوری پارٹی بھی اس مسودہ قانون کی مخالفت کرے- ایسی صورت میں یہ بے حد مشکل نظر آتا ہے کہ ٹونی بلئیر شناختی کارڈ کا مسودہ قانون منظور کرا سکیں گے- اسی بناء پر بیشتر سیاسی مبصرین کا یہ خیال ہے کہ شناختی کارڈ کا یہ مسلہ ٹونی بلئیرکےمستقبل کے لئے مہلک انداز سے فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے - |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||