غزہ کے ’مظلوم‘ اسرائیلی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی میڈیا نے نو، دس ہزار اسرائیلیوں کے غزہ پٹی سے انخلاء کا جتنا سوگ منایا ہے اتنا تو سونامی میں لاکھوں انسانوں کی تباہی کا بھی نہیں منایا تھا۔ میڈیا میں پیش کیے جانے والے مناظر اور تصویروں سے ایسا لگتا ہے کہ مسئلہ چند ہزار آباد کاروں یا قبضہ گیروں کے انخلاء کا نہیں بلکہ پوری انسانیت پر قیامت گزر جانے کا ہے۔ یہ تسلیم کہ بیدخل ہونے والے آخر انسان ہی ہیں اور ان کا رونا دھونا بھی سمجھ میں آتا ہے لیکن اس واقعہ کو تاریخ کا اتنا بڑا المیہ بنا کر پیش کرنا امریکہ اور اس کے میڈیا کی اپنی مخصوص روش کا اظہار ہے۔ لگتا ایسا ہے کہ اسرائیلی ریاست اپنی قبضہ گیری کی روش ترک کر کے صلح جوئی کی جانب بڑھ رہی ہے۔ غالبا اسرائیل نے اس بات کو کسی حد تک تسلیم کر لیا ہے کہ وہ ہمیشہ بحالت جنگ نہیں رہ سکتا۔ اس کی معاشی اور بین الاقوامی ضرورتوں کا تقاضا بھی ہے کہ وہ اب اپنی سرحدوں کو قابل دفاع بنائے اورغزہ میں چند ہزار آبادکاروں کے تحفظ کے لیے ہزاروں کی فوج کا بوجھ نہ اٹھائے۔ اس کے علاوہ اسرائیل کے وزیر اعظم ایریل شیرون نے انخلاء کے حق میں یہ دلیل بھی دی ہے کہ اگر عرب آبادی اسی طرح بڑھتی رہی تو موجودہ اسرائیل میں یہودی اقلیت بن جائیں گے۔ اس لئے بھی ضروری ہے کہ عربوں یعنی فلسطینیوں کو علیحدہ علاقہ دے کر ان سے نجات پا لی جائے۔
غزہ کی چالیس کلومیٹر لمبی اور چھ کلومیٹر سے لے کر چودہ کلومیٹر چوڑی پٹی کو اقوام متحدہ نے 1947 میں نئی عرب یا فلسطینی ریاست کا حصہ قرار دیا تھا لیکن 1948 میں مصر نے تل ابیب پر حملہ کرنے کے لیے اس علاقے پر قبضہ جما لیا تھا۔ اسرائیل نے 1956 میں بھی سویز جنگ کے موقع پر غزہ پر قبضہ کیا تھا لیکن عالمی دباؤ کے تحت اسے یہ علاقہ چھوڑنا پڑا تھا۔ پھر اس نے 1967 کی جنگ میں یہ علاقہ مصر سے چھین کر مستقل اپنے قبضے میں کر لیا تھا۔ تیرہ سو قبل مسیح یہ اہم ساحلی شہر بن چکا تھا جس پر مسلمانوں نے ساتویں صدی میں قبضہ کیا۔ تاریخی پس منظر میں اس علاقے سے اسرائیل کا انخلاء کوئی حیرت انگیز واقعہ نہیں ہے۔ صدر بل کلنٹن کے مشرق وسطی کے سفیر ڈینس راس نے اپنی کتاب ’امن گم گشتہ: مشرق وسطی میں امن کے قیام کی اندرونی کہانی‘ میں لکھا ہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جو بھی معاہدہ ہوگا اس میں غزہ پٹی اور غرب اردن سے اسرائیلوں کا انخلا لازم ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ آخر کار یروشلم میں بھی اسرائیل اور فلسطین کو شراکت داری کرنا پڑے گی۔ غزہ پٹی سے اسرائیلوں کا انخلاء اوسلو معاہدہ (1993) اور ناتمام کیمپ ڈیوڈ معاہدوں کا بھی حصہ تھا لیکن اس پر عمل ممکن نظر نہیں آتا تھا۔ قرائن سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب میں انتہائی قدامت پرست حکومتوں کے قیام اور باہمی افہام و تفہیم سے ہی ایسا ممکن ہو رہا ہے۔ بش انتظامیہ اور اس کے نیو کانز کے حلقوں کے اسرائیل نواز ہونے پر کسی کو کوئی شک نہیں ہے کیونکہ اس کے بہت سے ممبر یہودی نژاد ہیں ۔ اس لیے یہودیوں کی اکثریت کا خیال ہے کہ اگر اس فیصلے کو اسرائیل پر ٹھونسا بھی گیا ہے تو وہ اس کے مفاد کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ امریکہ کی صیہونی تنظیموں کے صدر مورٹن کلین کاکہنا ہے کہ ایریل شیرون نے خود انہیں بتایا تھا کہ وہ امریکہ کے ہاتھوں مجبور ہو کر یہ فیصلہ کر رہے ہیں۔ امریکہ سمجھتا ہے کہ اس نے اسرائیل کی سلامتی کو اتنا پائیدار بنا دیا ہے کہ اب اسےغزہ جیسے علاقے پر قبضہ رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس نے عراق پر تسلط جما کر اسرائیل کے ایک بڑے حریف کو تو بے اثر کر دیا ہے اور اس کے دوسرے دو بڑے حریفوں، ایران اور شام پر دباؤ قائم رکھے ہوئے ہے۔ امریکہ کے ایک سابقہ صدارتی امیدوار قدامت پرست صحافی پیٹرک بوکینن نے اسی ہفتے اپنے ایک کالم میں کہا ہے کہ امریکہ کو براہ راست ایران سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اگر خطرہ ہے تو اسرائیل کی اجارہ داری کو ہے کہ وہ علاقے میں واحد ایٹمی قوت ہونے کی حیثیت کھو دے گا۔ بوکینن کا کہنا ہے کہ امریکہ اسرائیل کو اس پہلو سے تحفظ دینے کے لیے ایران کے ساتھ کشمکش میں مبتلا ہے۔ اسرائیل کو بھی علم ہے کہ امریکہ اور یورپین یونین کی مدد کے بغیرعراق کی طرح ایران اور شام کو ہمیشہ کے لئے بے اثر نہیں کیا جا سکتا۔ کونڈالیزا رائس نے پچھلے پانچ سالوں میں اسرائیلی حلقوں کو یہ یقین تو دلا ہی دیا ہے کہ بش انتظامیہ سے بڑھ کر کوئی امریکی حکومت اسرائیل نواز نہیں ہو سکتی۔ اس لیے اسرائیل کو امریکہ کے مفادات کا بھی خیال کرنا چاہئیے اور امریکی مفاد کا تقاضا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ امن کے لیے ٹھوس قدم اٹھائے۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ امریکہ عربوں کو بتا سکے کہ وہ ان کے مفادات کے تحفظ کے لیے بھی کام کر رہا ہے۔ اسرائیل نے غزہ سے انخلاء کو اس لیے بھی تسلیم کر لیا ہے کہ اس وقت فلسطینی تحریک آزادی اپنی کمزور ترین حالت میں ہے۔ علاوہ ازیں پوری عرب دنیا کی طاقت نہ ہونے کے برابر ہے بلکہ پوری اسلامی دنیا منفعل ہے۔ اس لیے اس وقت اسرائیل اپنی شرائط پر سودے بازی کر سکتا ہے۔ اور اسرائیل یہ سنہرا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا۔
حقیقت تو یہ ہے کہ اسرائیل کے لئے بھی یہ فیصلہ آسان نہیں ہے۔ دنیا کے تمام قدامت پرست یہودی فلسطین پر قبضے کو اپنا مذہبی حق سمجھتے ہیں۔ صیہونی رہنما مورٹن کلین جیسے بہت سے لوگ ہیں جو دعویٰ کرتے ہیں کہ 1967 کی جنگ میں اسرائیل نے غزہ کا علاقہ فلسطینیوں سے نہیں مصر سے چھینا تھا۔یعنی اس علاقے پر اسرائیل کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا کہ فلسطینیوں کا۔وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ غزہ کا انخلاء دہشت گردوں کو نوازنے کے مترادف ہے اور اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔ فلسطینیوں کے بھی حماس جیسے بہت سے دھڑے یقین رکھتے ہیں کہ انہوں نے اپنی مسلح جدو جہد سے اسرائیل کو باہر نکالا ہے۔ وہ ابھی تک اسرائیل کے خاتمے کے ایجنڈے پر قائم ہیں۔ لیکن فی الحال فلسطینی عوام کی اکثریت اپنے صدر محمود عباس کی صلح جویانہ پالیسی کی کامیابی سے مطمئن نظر آتی ہے۔ دنیا کے عوام کی اکثریت بھی اس دن کا انتظار کر رہی ہے جب مشرق وسطی میں آگ کے شعلے ہمیشہ کے لیے ٹھنڈے ہو جائیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||