ایٹم بم سے سوا تین لاکھ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہیروشیما کا دریائے آئی اوئی پچھلے ساٹھ سالوں سے اپنی تہوں میں لاکھوں بے گناہوں کی آہ و بکا کی داستان چھپائے بہتا چلا جا رہا ہے۔ یہ داستان خونچکاں امریکہ کے کرنل پال ٹبٹس نے چھ اگست 1945 کولٹل بوائے نامی ایٹم بم گرا کر لکھی تھی۔اس کے نتیجے میں ہیروشما میں دو لاکھ انسان لقمۂ اجل ہوئے۔ یہ دنیا میں اس لحاظ سے تباہی کا سب سے بڑا سنگین واقعہ تھا کہ اتنی کم مدت میں اتنے زیادہ انسان صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ عجیب بات یہ ہے کہ اس پر نہ کبھی بم گرانے والوں نے کوئی معذرت کی اور نہ شکار ہونے والوں نے اونچی آواز میں اس کے خلاف شور مچایا۔ دریائے آئی اوئی کے کنارے ایٹم بم کی یادگار وہ کھنڈر نما گنبد ہے جس کو ڈوم کہتے ہیں اور اسی کے پڑوس میں وہ عجائب گھر ہے جس میں ایک بچی کی وہ تڑی مڑی بائیسکل بھی ہے جس پر وہ ایٹم بم گرنے کے وقت سوار تھی۔ گنبد کی سیڑھیوں پر وہ پرچھائیں ہمیشہ کے لئے معلق ہو گئی ہے جو عمارت کے ایک ایسے باسی کی ہے جو بم گرتے وقت سیڑھیوں سے اتر رہا تھا لیکن ایٹمی حرارت سے ایک پرچھائیں میں تبدیل ہو کر وہیں معلق ہو گیا۔ اس طرح کی لاکھوں پرچھائیاں دریائے آئی اوئی کے گرد طواف کرتی رہتی ہوں گی لیکن ایٹم بم کے شہیدوں کے گنبد کے پڑوسی اور دریا پر چہل قدمی کرنے والے جاپانی ان کو نظرانداز کرتے ہوئے گزر جاتے ہیں کیونکہ اگر وہ ایسا نہ کریں تو ان کے لیے سپر پاور امریکہ کی چھتر چھاؤں میں زندگی گزارنا محال ہو جائے۔ کہا جاتا ہے کہ جاپانیوں کا دکھ اور غم و غصہ بھی دریائے آئی اوئی کی تہوں میں ہمیشہ سے زندہ ہے اور شاید زندہ رہےگا۔ یہ المیہ اس عہد کی نشانی ہے جب دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے لیے امریکہ کے صدر ہیری ٹرومین نے جاپان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ غیر مشروط طور پر ہتھیار پھینک دے لیکن جاپان نے ایسا کرنے سے انکار کردیا تھا بلکہ اس نے چین کی طرف پیش قدمی شروع کردی تھی۔ روس بھی آٹھ اگست کو جاپان کے خلاف جنگ شروع کر چکا تھا۔ امریکہ روس کے جاپان میں داخل ہونے سے پہلے ہی جاپان کو سر نگوں کرکے اپنا تسلط جمانا چاہتا تھا۔ اس لیے ان مقاصد کے حصول کے لیے اس نے انسانی تاریخ کا مہلک ترین ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ ہیروشیما پر گرایا جانے والا پہلا ایٹم بم انولا گے نامی بی-29 ہوائی جہاز پر لاد کر لایا گیا تھا جس کے پائلٹ کرنل پال ٹبٹس تھے۔یہ ساٹھ کلوگرام یورینیم 235 کا بنا ہوا بم تھا۔ لٹل بوائے نامی اس بم کو آٹھ بج کر پندرہ منٹ پر ہیروشما کے مرکز پر گرایا گیا تھا۔ بم زمین سے اوپر فضا میں پھٹا۔ بہت سے لوگوں نے ایٹمی تپش سے بچنے کے لیے دریائے آئی اوئی میں چھلانگیں لگا دیں لیکن دریا کا پانی ایٹمی توانائی سے ابل رہا تھا۔ اس بم نےدو لاکھ انسانوں کی جان لی۔ جاپان نے ہیروشما پر گرنے والے ایٹم بم کے نتیجے میں بھی ہتھیار نہیں پھینکے تونو اگست کو میجر چارلس سوینی نے فیٹ مین نامی ایٹمی بم ناگا ساکی کے شہر پر گرایا۔ یہ آٹھ کلوگرام پلوٹینم 239 کا بنا ہوا بم تھا۔ اس بم کی وجہ سے ایک لاکھ بیس ہزار لوگ جان بحق ہوئے۔ جاپانی قوم پر تیسرا تاریخی بم چودہ اگست 1945 کو شہنشاہ جاپان ہیرو ہٹو شووا (1989-1901) نے اس وقت گرایا جب انہوں نے مغربی طاقتوں کے سامنے ہتھیار پھینکتے ہوئے اعلان کیا کہ شہنشاہ الہی طاقت رکھنے کی بجائے ایک عام آدمی ہی ہوتا ہے۔ امریکہ کے ایٹمی بموں نے تو اڑھائی لاکھ معصوم جانیں لیں لیکن شہنشاہ کے گرائے بم نے پوری جاپانی قوم کی روحانی ساخت کو پاش پاش کردیا۔جاپانی وہ قوم ہے (یا تھی) جو شہنشاہ کو خدا مانتی چلی آئی ہے اور اس کے اشارے پر اپنی جان نچھاور کرنے کے لیے تیار رہتی ہے۔ شہنشاہ کےاعلان کے ساتھ ان کا خدا بھی معدوم ہوگیا۔ لیکن آج بھی جاپان میں سب بڑی درگاہیں بادشاہوں کی ہیں جیسے برصغیر میں صوفیاء اور اوتاروں کی۔ تاریخ کا یہ پہلو بھی دلچسپ ہے کہ شہنشاہ ہیرو ہٹو نے تخت نشینی کے وقت شووا کا لقب اختیار کیا تھا۔ شووا کا لگ بھگ وہی مطلب ہے جو شعاع کا یعنی روشن خیالی۔ لیکن انہی کے زمانے میں جاپان نے چین اور ہند چینی کے خلاف جنگجوئی کی۔ اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ برطانیہ اور امریکہ نے جاپان کی تیل کی سپلائی روک دی تھی اور جاپان نے تیل کی بحالی کے لیے ہند چینی کو نشانہ بنایا تھا۔ دنیا میں آج بھی حالات ویسے ہی ہیں بلکہ پہلے سے بھی کہیں زیادہ خطرناک ہیں۔ آج بھی تیل کی لیے دنیا میں جنگیں ہو رہی ہیں اور آج جو ایٹم بم بن چکے ہیں ان کے مقابلے میں ہیرو شما اور ناگاساکی پر گرائے جانے والے بم تو ننھے منے کھلونے تھے۔ اگر ان دو بموں نے ساڑھے تین لاکھ انسانوں کی جان لی تھی تو آج کے بم کروڑوں بلکہ اربوں انسانوں کو ملیا میٹ کر سکتے ہیں۔ دریائے آئی اوئی کے کنارے کھنڈر نما ڈوم انسانوں کو آواز دے رہا ہے کہ ان کی وہ آہ و بکا سنو جو یہاں چند لمحوں میں مٹی ہو گئے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||