ڈیڑھ لاکھ جاپانیوں کی ساٹھویں برسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جاپان کے شہر ہیروشیما میں آج ایٹم بم کے گرائے جانے کے ساٹھ سال مکمل ہوگئے اور وہاں مرنے والوں کی یاد میں ایک خصوصی تقریب منعقد کی گئی ہے۔ امریکی فضائیہ کے ایک بمبار نے چھ اگست انیس سو پینتالیس کو سوا آٹھ بجے صبح ہیروشیما پر ایٹم بم گرایا تھا اور اس سے تقریباً ایک لاکھ چالیس ہزار لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ ایٹم بم سے پیدا ہونے والی حرارت چار ہزار ڈگری سیلسیس تک پہنچی اور یہ پھیل کر تقریباً تین میل دور تک گئی۔ ہیروشیما میں مرنے والوں کی یاد میں آج شہر کے امن پارک میں جمع تقریباً پچاس ہزار افراد نے مل کر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔ مرنے والوں کی یاد میں شہر کی بڑی گھنٹی بجائی گئی اور شہر کے امن پارک میں گلدستے رکھے گئے۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کوفی عنان کا ایک پیغام ان کے ترجمان نے پڑھ کر سنایا۔ اس میں انہوں نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ ہیروشیما کی بمباری کے ساٹھ سال بعد بھی دنیا میں ایٹمی عدم پھیلاؤ کی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکی ہیں۔
یہ بیان جاپانی زبان میں تھا۔ جاپانی پارلیمان کے سپیکر نے اپنی تقریر میں لوگوں کو یہ بھی یاد دلایا کہ اس بم کے گرائے جانے سے پہلے جاپان نے ایشیا کے دیگر ممالک کے لوگوں پر شدید مظالم کیے تھے۔ ہیروشیما پر اٹم بم گرانے کا فیصلہ تاریخ میں تنازع کا شکار ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے لیے انتہائی ضروری تھا لیکن کئی تاریخ دانوں کا موقف ہے کہ بم کے گرانے سے پہلے ہی جاپان کی شکست ہو چکی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||