BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 24 May, 2005, 08:13 GMT 13:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چین، جاپان کشیدگی بڑھ گئی
News image
چین اور جاپان کے درمیان جاری کشیدگی نے تلخ ترین موڑ لے لیا ہے کیونکہ ایک چینی وزیر نے جاپان کا دورہ ختم کر دیا ہے۔

اس سے پہلے چین کی نائب وزیراعظم وو یی کے دورہ جاپان کے دوران ایک متنازعہ جنگی مزار کے تذکرے پر بھی چین نے جاپان کی سرزنش کی ہے۔

وو یی اپنے جاپانی دورے کو مختصر کر کے جاپانی صدر سے طے شدہ ملاقات سے پہلے ہی چین لوٹ آئی ہیں۔

اس دورے کا مقصد چین اور جاپان میں جاری کشیدگی کو ختم کرنا تھا۔

چین کا کہنا ہے کہ وہ مزار کے بارے میں جاپانی موقف سے ’انتہائی غیر مطمعن‘ ہے کیونکہ جاپان کی نگاہ میں مزار کا احترام جنگ میں کام آنے والوں کی یاد کے حوالے سے مزید بڑھ جاتا ہے۔

لیکن چینی صدر ہیو جنتاؤ نے اتوار کو چینی دورے پر آئے ہوئے جاپان کی حکمراں جماعت کے وفد سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ مزار پر نہ جائیں کیونکہ چین اس مزار کو ماضی میں جاپان کی فوجی جارحیت کی علامت سمجھتا ہے۔

مگر جاپان کے وزیراعظم کا اصرار رہا ہے کہ جنگ میں ہلاک ہونے والے ہزاروں جاپانیوں کو خراجِ عدیقت پیش کرنے کی غرض سے مزار پر حاضری دیتے ہیں۔

News image
جاپان کے وزیراعظم جونیچیرو کوئے زومی

گزشتہ ماہ کے وسط میں چین کے شہر شنگھائی میں ہزاروں لوگوں کی طرف سے جاپان مخالف مظاہروں کے سبب دونوں ممالک کے درمیان تعلقات حالیہ برسوں کے دوران انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے۔

مظاہرین نے چینی جھنڈے لہرا تے ہوئے جاپان کے قونصل خانے کو گھیرے میں لے لیا تھا اور عمارت پر پتھراؤ کیا تھا۔ تاہم پولیس نے مظاہرین کو قونصل خانے کے اندر گھسنے سے روک دیا اور لاؤڈ سپیکر کے ذریعے پرامن رہنے کی اپیل کی۔

چینی لوگ جاپان میں چھپنے والی تاریخ کی ایک کتاب کے خلاف احتجاج کر رہے تھے جس میں ان کا کہنا تھا کہ جاپان کے جنگی مظالم پر پردہ ڈالا گیا ہے ۔

مظاہرین نے دس ایسے ریستورانوں اور شراب خانوں کو بھی نقصان پہنچایا تھا جہاں جاپانی لوگ کھانے کے لیے جاتے تھے۔

جاپانی وزیر خارجہ نوبوتاکا مچی مورا نے ان مظاہروں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں انتہائی افسوس ناک قرار دیتے ہوئے چین کے اعلیٰ حکام پر زور دیا تھا کہ وہ چین میں مقیم جاپانیوں کی زندگیوں اور املاک کا تحفظ کریں۔

ناقدین کا کہنا تھا کہ جاپانی فوج نے چین کے شہر نان جنگ میں اڑھائی لاکھ شہریوں کا قتل عام کیا تھا لیکن کتاب میں اسے صرف ایک ’واقعہ‘ کہا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد