اقوامِ متحدہ کی جوہری کانفرنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ میں آج ایک سو اسی سے زائد ممالک کے مندوبین جمع ہو رہے ہیں جو جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے مستقبل کے بارے میں بات چیت کریں گے۔ پینتیس سالہ پرانے معاہدے کا مقصد جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنا تھا اور اس کا جائزہ ہر پانچ سال کے بعد لیا جاتا ہے۔ تاہم اس چار ہفتوں کی کانفرنس کے مرکزی خیال کے متعلق متضاد رائے ہے۔ امریکہ ایران اور شمالی کوریا پر فوری کارروائی پر زور دے رہا ہے۔ تاہم غیر جوہری ریاستیں کہہ رہی ہیں کہ اصل پانچ بڑی ایٹمی طاقتوں نے جن میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین اور روس شامل ہیں، جوہری ہتھیاروں کو ختم کرنے کے متعلق زیادہ کچھ نہیں کیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ کانفرنس شروع ہونے سے پہلے شمالی کوریا نے جاپان کے سمندر میں کم مار کرنے والے میزائل کا تجربہ کیا ہے۔ اتوار کے روز نیو یارک میں ایٹمی اسلحے کے مخالف ہزاروں افراد نے اقوامِ متحدہ کے باہر جلوس نکالا۔ مظاہرے میں شریک جاپانی مظاہرین ’اب جوہری ہتھیار ختم کرو‘ اور ’اور کوئی ہیروشیما نہیں‘ جیسے بینر اٹھائے ہوئے تھے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ بش انتظامیہ کی پالیسیوں سے تنگ آ گئے ہیں جن میں ایٹمی تجربات کی پابندی کے معاہدے کو رد کرنا، اینٹی بیلسٹک میزائل ٹریٹی کو چھوڑ دینا اور نئے ایٹمی ہتھیاروں کو بنانا جیسے عوامل شامل ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||