شمالی کوریا: نئے میزائل کا تجربہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جاپان نے سرکاری طور پر کہا ہے کہ وہ ان اطلاعات کا جائزہ لے رہا ہے کہ شمالی کوریا نے بحرِ جاپان میں کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا تجربہ کیا ہے۔ جاپان کے نشریاتی ادارے این ایچ کے کا کہنا ہے کہ اس میزائیل نے سمندر پر ایک سو کلو میٹر یعنی تقریباً باسٹھ میل تک پرواز کی۔ امریکہ کی جانب سے اس انتباہ کے بعد کہ شمالی کوریا پہلے ایٹمی دھماکے کے قریب پہنچ چکا ہے جاپان مسلسل شمالی کوریا کی نگرانی کر رہا ہے۔ شمالی کوریا طویل فاصلے تک مار کرنے والے ایسے میزائیل پہلے ہی تیار کر چکا ہے جو جاپان تک مار کر سکتے ہیں اور اس کے علاوہ ایٹمی معاملات پر ہونے والی بات چیت سے بھی علیحدہ ہو چکا ہے۔ شمالی کوریا نے گزشتہ مارچ میں اعلان کیا تھا کہ اس نے وہ خود آوردہ امتناع ختم کر دیا جو اس نے 1999 میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائیلوں کے تجربات پر اختیار کیا تھا۔ جاپانی خبر رساں ادارے کیوڈو کا کہنا ہے کہ ٹوکیو کو امریکی فوجی ذرائع نے خبر دی ہے کہ شمالی کوریا نے سنیچر کو میزائیل کا تجربہ کیا ہے۔ تاہم امریکہ نے اس خبر پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس وقت جب کے شمالی کوریا کی ہر چھوٹی سے چھوٹی بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائیل کا تجربہ بھی تشویش کا باعث بن گیا ہو گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||