BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Saturday, 06 August, 2005, 14:07 GMT 19:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہیرو شیما کے ساٹھ برس بعد
ہیروشیما کے ساٹھ برس بعد
دوہزار پانچ میں جاپان کے شہر ہیروشیما پر امریکی ایٹمی بمباری کےساٹھ سال بعد یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیاایٹم بم کو دوبارہ استعمال کیا جاسکتا ہے؟

انیس سو پینتالیس میں جاپان کے شہر ہیروشیما پر امریکہ نے پہلا ایٹم بم گرایا تھا۔جس میں دولاکھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اس کے بعد جنگوں میں دوبارہ کبھی ایٹم بم کا استعمال نہیں کیاگیا۔ لیکن تخفیف اسلحہ کے معاہدے کے باوجود پانچ اہم ایٹمی طاقتوں امریکہ، فرانس، برطانیہ، چین اور روس نےایٹمی اسلحہ بنانے کاعمل بند نہیں کیا ہے۔

حالیہ کچھ سالوں میں اسلحہ نہ بنانے کے معاہدے ہر دستخطوں کے باوجود بھارت ، پاکستان، اور ایران نے نہ صرف اپنے اپنےایٹمی پروگراموں کا آغاز کیا بلکہ یہ پروگرام کسی حد تک جاری بھی ہے۔

جاپان پر گرائے جانے والے بم کے بعد جوہری ہتھیاروں کے متعلق آپ کیا جانتے ہیں؟ کیا آپ یا آپ کے والدین کی یاداشتوں میں ہیروشیما اور ناگاساکی کے حوالے سے کوئی بات موجود ہے؟ اس ایٹمی جنگ سے ہم نے کوئی سبق حاصل کیا؟ کیا آپ ایٹمی اسلحے بنانے کی دوڑ سےخوف زدہ ہیں؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔


شیخ محمد یہیی، کراچی، پاکستان:
جاپانی حکومت اگر ایٹمی ہتھیاروں کے اتنی خلاف ہے تو اس کو یو این کے ان ممالک سے تعلقات توڑ دینے چاہئیے، جنہوں نے اسلح ختم کرنے کے معاہدے پر دست خط نہیں کیے۔

شکیل انجم ملک، جرمنی:
ہیروشیما کی تباہی تاریخ کا سیاہ ترین المیہ ہے۔ ایسے واقعات کبھی بھی نہیں دوہرائے جانے چاہئیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ انڈیا اور پاکستان کو سبق سیکھنا چاہئیے، ناگاساکی اور ہیروشیما کی تباہی سے۔ ان دونوں ممالک کو کم از کم بیس سال تک جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کر کے اپنے عوام کی فلاح پر خرچ کرنا چاہئیے۔ کاش یہ ہمسایہ ملک بھی ناگاساکی اور ہیروشیما کی تباہی سے سبق سیکھ سکیں۔

سلمان علی، فیصل آباد، پاکستان:
ایٹم بم ہے تو انتہائی خطرناک نام، جس سے ویسے ہی خوف آتا ہے۔ جتنے ممالک اس کے خلاف ہیں ان سب کے پاس ہی ایٹم بم موجود ہے۔ ویسے ہم سب ایٹم بم کے خلاف ہیں لیکن امریکہ جیسے ملک سے نمٹنے کے لیے ایٹم بم ضروری ہے۔۔۔

مظہر احمد خان، پاکستان:
میرے دوست کے دادا ابو اکثر دوسری جنگ عظیم کا ذکر کرتے ہیں کہ دوسری جنگ عظیم میں بہت نقصان ہوا، جس کا اثر ابھی تک باقی ہے اور یہ سارا قصور امریکہ کا تھا کہ اس نے فوج کو مارنے کی بجائے آبادی پر ایٹم بم گرا دیا تھا، جو کہ انتہائی دکھ کی بات تھی، جس سے پوری دنیا خوف زدہ ہے۔

جمال اختر خان، پاکستان:
ویسے تو سبق امریکہ کو سیکھنا چاہئیے جس نے پہلا ایٹم بم گرایا اور اتنی تباہی، اور اب وہی جوہری ہتھیار اور بم وہ مسلمانوں کے خلاف بھی استعمال کر رہا ہے۔ اگر یہ سبق نہ سیکھے تو امید ہے جلد ہی سیکھ جائے گا کیونکہ کسی کی بھی بدماشی زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتی۔ اللہ ان سب کو ہدایت دے۔

ابو ارسلان، اسلام آباد، پاکستان:
بہت بڑا ظلم ہوا۔ ڈیڑھ لاکھ انسانوں کو یکمشت قتل کر دیا گیا اور قاتل آج پوری دنیا میں جمہوریت کے قیام اور انسانی حقوق کا ٹھیکےدار بنا ہوا ہے۔ کیسا انصاف ہے کہ لاکھوں کا قتل کرنے کے بعد بھی اپنے آپ کو دنیا کا مہذب ملک سمجھتا ہے۔

فیصل چانڈیو، حیدرآباد، پاکستان:
امریکہ اور اس کے حامی چاہتے ہیں ہیں کہ جس نے ایک شحص کو بھی مارا ہو وہ دنیا سے معافی مانگے، پر کیا ان چند لوگوں نے لاکھوں لوگوں کومارا دو بم گرا کر؟

ساجد، کینیڈا:
سب سے پہلے ایٹم بم کس نے چلائے؟ دنیا میں سب سے زیادہ اسلح کو بناتا ہے؟ سب سے زیادہ جنگیں کس ملک نے لڑی ہیں؟ سب سوالوس کا جواب ایک ہی ہے۔۔۔امریکہ۔۔۔اس بارے میں تو کسی شاعر نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ ’شرم تم کو مگر نہیں آتی‘۔

شبیر لہوٹی، کوئٹہ، پاکستان:
جب امریکہ، فرانس، روس ایٹم بم بنا سکتے ہیں تو ہم کو بھی پورا حق ہے کہ ہم بھی بنائیں تاکہ دنیا میں کوئی تو مسلمان ملک ایسا ہو جو ایٹمی صلاحیت رکھتا ہو اور اس سے ڈرنا کیسا، ایک دن تو ویسے بھی سب کو مرنا ہے۔

عذرا یاسمین بخاری، لاہور:
دنیا میں جب تک انصاف اور مساوات نہیں ہوں گے، آپ کبھی چین اور سکون کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ اس لیے میری ذاتی رائے یہ ہے کہ سب ممالک کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں یا کسی کے بھی پاس نہ ہوں، ہتھیار رکھنے والے ممالک کو ہتھیار نہ رکھنے والے ممالک پر اپنی رائِے ٹھونسنے کا کوئی حق نہیں۔

میڈیا کی طاقت
 میرے والد جو اس وقت جوان تھے بتاتے ہیں کہ عام طور پر اس وقت لوگ جاپانیوں اور ہٹلر کو درندہ سمجھتے تھے اور ایٹم بم گرائے جانے کو ٹھیک سمجھتے تھے۔
افضل حق مجاہد، راولپنڈی

افضل حق مجاہد، راولپنڈی:
جنگ عظیم دوئم سے پہلے دنیا کے پاس غیر جانبدار میڈیا نہ ہونے کے برابر تھا جو دنیا کو تصویر کے دونوں رخ دکھا سکتا۔ خاص طور پر ہندوستان جو ان دنوں غلام تھا، اس کے پاس انگریزی میڈیا کے علاوہ خبر کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔ میرے والد جو اس وقت جوان تھے بتاتے ہیں کہ عام طور پر اس وقت لوگ جاپانیوں اور ہٹلر کو درندہ سمجھتے تھے اور ایٹم بم گرائے جانے کو ٹھیک سمجھتے تھے۔ دراصل یہ میڈیا کی طاقت ہے جو لوگوں میں کسی بھی چیز کے درست یا غلط ہونے کا ادراک پیدا کرتی ہے۔ امریکہ میں آج بھی ایٹم بم گرائے جانے کو ٹھیک سمجھا جاتا ہے کیونکہ انہیں تصویر کا دوسرا رخ ٹھیک طرح دکھایا ہی نہیں گیا۔ جب تک دنیا کا میڈیا ایسے لوگوں کے پاس نہیں آتا جو غیر جانبدار ہوں، ایٹم بم جیسی تباہیوں کا خطرہ برقرار رہے گا۔

مجاہد حسین:
پہلی بات تو یہ ہے کہ جنگ اور محبت میں سب جائز ہوتا ہے۔ ہر کوئی اپنے دشمن کو برباد کر دینا چاہتا ہے اور ایسا ہی جنگِ عظیم دوئم میں ہوا۔ اس دنیا کو توازن کی اشد ضرورت ہے۔ ہر ملک کے پاس اگر ایٹم بم ہو تو کوئی کسی پر حملہ نہیں کرے گا اور یا پھر تمام ممالک کو اپنے ایٹمی ہتھیار تباہ کر دینے چاہئیں۔ سب کو امن چاہئے اور اگر بی بی سی ایسا کام شروع کرے اور اپنی حکومت اور امریکہ کو پہلے ہتھیار تباہ کرنے کا کہے تو ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔

احسان اللہ، سیاکوٹ:
یا تو تمام ممالک کو اپنے جوہری ہتھیار تباہ کردینے چاہئیں یا سب کو جوہری ہتھیار رکھنے کا حق ہونا چاہئے۔

آصف سلیم مٹھہ، برطانیہ:
میرے خیال میں تو مل کر یہ قرارداد پاس کرنی چاہیے کہ کوئی بھی ملک جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا اور اس پر عمل درآمد بھی کروانا چاہیے ورنہ یہ ہنستی کھیلتی دنیا تباہ ہو جائے گی۔

ارم زہرہ، کینیڈا:
امریکہ ہیروشیما پر ایٹم بم گرا کر بھی ہیرو ہے۔

افتخار خان، سویڈن:
سمجھ نہیں آتی کہ امریکہ نے جاپانیوں پر جو قیامت ڈھائی اس کے بعد بھی وہ امریکہ کے زرِ خرید غلام بن گئے اور عراق جنگ کی حمایت کی۔ جس پرخود ایٹم بم گرایا گیا ہو وہ کسی اور ملک کے خلاف جنگ کی حمایت کیسے کر سکتا ہے؟

جاوید اقبال بٹ، مدینہ:
ہمیں جاپان پر استعمال ہونے والے ایٹم بم اور جانی نقصان پر انتہائی افسوس ہے لیکن اگر میادہ ممالک کے پاس یہ ہتھیار ہوں تو وہ زیادہ محفوظ ہوں گے کیونکہ ان کے خلاف بم استعمال کرنے سے لوگ ڈریں گے۔ اس لیے مزید دس ممالک کو ایٹم بم بنانے کی اجازت ہونی چاہیے۔

ڈیو پائپر،لاس اینجلس:
’میرے چچا اس وقت سترہ سال کے تھے اور اس فوجی دستے کا حصہ تھے جسےہیروشیما پر قبضہ کےلیے بھیجا گیاتھا۔دستے میں شامل فوجیوں کو بتایاگیا کہ انہیں کیا کرناہے۔ اس وقت کسی نے پوچھا کہ یہ بم کام کیا کرتا ہے؟ اس کے جواب میں سارجنٹ نےبتایا کہ اس بارے میں کوئی نہیں جانتا‘۔

ہم خوف زدہ نہیں ہیں۔۔۔
 ہم کسی بھی جنگ سے خوف زدہ نہیں ہیں خواہ وہ ایٹمی ہو یا غیر ایٹمی لیکن یہ بات ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ دنیا کا پہلا ایٹم بم بھی امریکہ نے گرایا تھا اور اب بھی دنیا کے امن کو امریکہ اور اس کے حلیفوں ہی سے خطرہ ہے۔
رحمت زادہ، متحدہ عرب امارات

رحمت زادہ، متحدہ عرب امارات:
ہم کسی بھی جنگ سے خوف زدہ نہیں ہیں خواہ وہ ایٹمی ہو یا غیر ایٹمی لیکن یہ بات ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ دنیا کا پہلا ایٹم بم بھی امریکہ نے گرایا تھا اور اب بھی دنیا کے امن کو امریکہ اور اس کے حلیفوں ہی سے خطرہ ہے۔ کیا ناگاساکی اور ہیروشیما کی تباہی دحشت گردی نہیں تھے؟ میں یہ سمجھتا ہوں کہ دنیا نے اس واقعے سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا اور یہی وجہ ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کا انبار ان ہی کے پاس ہے جنہوں نے اس کا سب سے پہلا استعمال کیا۔ اسرائیل اور دوسرے مغربی ممالک بھی اس دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی فکر میں ہیں۔

قمر عباس سید، بھکر:
امریکہ اور اس کے حواری کس منہ سے ایران اور نارتھ کوریا کے خلاف جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہ بنائیں۔ کیا دنیا میں ہر ملک کو اپنے دفاع کا حق نہیں ہے؟ اب دنیا کو جاگنا ہوگا اور ان نام نہاد دوہری چال چلنے والے ممالک کو منہ توڑ جواب دینا ہوگا۔

فرینک میوری، برسٹل:
’میرے چچا اے بی الینگزینڈر میوری ہیروشیما جانے والے ریڈ کراس کے پہلے ریلیف شپ کا حصہ تھے۔ تمام راستے وہ لوگ جہاز کے عرشہ پر اڑ کر گرنے والی گرد اور وہ کالی بارش صاف کرتے رہے جو جوہری دھماکوں کے گرنے کے بعد ہوئی تھی۔ ہیروشیما پہنچنے پرامریکی فوج نے ان کا کیمرہ اپنے قبضے میں لے لیا اور اس کے ساتھ ان سے ایک خفیہ ایکٹ پر دستخط بھی کروائے گئے جس کے تحت انہوں نے ساری زندگی اس بارے میں ایک لفظ بھی نہیں بولا کہ وہاں دراصل کیا ہواتھا؟۔ اس کے بعد جہاز کاعملہ ایک ایک کر کے مرتا گیا۔ ہمارے خاندان نے اس واقعہ کئی سال تک معاوضہ کے لیے وزارت دفاع سے جنگ لڑی۔ یہاں تک کہ آج بھی جرنوبل سے ملنے والے شواہد اور ثبوتوں کے باوجود وزارت دفاع کا مؤقف یہی ہے کہ ’ ریڈیشن اور کینسر میں کوئی تعلق نہیں ہے‘۔

اسحاق لیل ملک، بھکر:
اس تمام سلسلے میں اقوامِ متحدہ کا کردار بہت افسوس ناک ہے۔ مسلمان کبھی اس قسم کی باتوں سے خوف زدہ نہیں ہوتے۔ امریکہ اور انگلینڈ ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ سے خوف زدہ بھی ہیں اور اس دوڑ میں سب سے آگے بھی اور یہی ایران وغیرہ کو ایٹمی اسلحہ بنانے پر مجبور بھی کر رہے ہیں۔

مارک، کوپن ہنگ، ڈینمارک:
’میرے والد امریکی فوج میں ایک ڈاکٹر تھے جو یورپ میں تعینات تھی۔ فتح کے دن وہ چیکوسلواکیہ میں تھے۔ ہیروشیما پر بم گراتے وقت ان کے یونٹ کو بتایا گیا کہ وہ بحرالکاہل کی طرف جا رہے ہیں تاکہ جاپان پر قبضہ کیا جاسکے۔ اس بات پر وہ بہت خوف ذدہ ہوئے کیونکہ جاپان کی جنگی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ آخری آدمی تک لڑیں گے۔ میں اس جنگ کے بعد پیدا ہوا۔ سکول میں سائنس کی کتابو ں کےسرورق پر ہیروشیما پر بم دھماکوں کی تصویریں بارہا دیکھیں۔اس دور کو سائنسی تحقیق کا عروج ماناجاتاتھا۔ اگرچہ آج ہم اس کے بارے میں زیادہ آگاہ ہیں لیکن اس واقعے کے بعد بہت عرصے تک کئی امریکی اپنے اس عمل کو ایک کارنامہ کے طور پر دیکھتےرہے‘۔

امین اللہ شاہ، پاکستان:
میرے خیال میں آج کل کے سیاسی دور میں ہر ملک کو اپنے دفاع کے لیے ایٹم بم بنانے کا ناگزیر حق حاصل ہے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ اس ایٹمی دوڑ کو روکنے والے ٹھیکیدار خود تو ایٹمی طاقت بنے رہیں اور دوسروں پر پابندیاں لگائیں۔

66آپ کی رائے
جنوبی ایشیا میں گرمی کی لہر
66لندن دھماکے
آپ نے کیا دیکھا، ہمیں لکھ بھیجیے
66جی ایٹ اجلاس
جی ایٹ رہنماؤں کو بی بی سی کے قارئین کا پیغام
66سریبرینتزا قتل عام
سریبرینتزا قتل عام، آپ کی رائے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد