BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Sunday, 05 June, 2005, 12:30 GMT 17:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنوبی ایشیا میں گرمی کی لہر
راجستھان کے ایک کسان کو سوکھے کا سامنا
راجستھان کے ایک کسان کو سوکھے کا سامنا
جنوبی ایشیا کے ممالک بنگلہ دیش، نیپال، انڈیا اور پاکستان میں ان دنوں گرمی کی لہر چل رہی ہے۔ ایک اندازے کے مطباق بنگلہ دیش، نیپال اور انڈیا میں اب تک گرمی کی شدت سے لگ بھگ ایک سو افراد ہلاک بھی ہوچکے ہیں۔ ہر سال مئی اور جون کے دوران گرمی شدت پر ہوتی ہے جس کی وجہ سے صرف دور دراز کے دیہاتوں میں ہی نہیں بلکہ شہروں میں بھی لوگوں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وقت پر پانی نہ ملنے کی وجہ سے کسانوں کے لئے کافی مسائل کھڑے ہوتے ہیں۔ بظاہر یہ قدرتی مسئلہ ہے لیکن اس سے کس حد تک نمٹا جاسکتا ہے؟

آپ گرمی سے نمٹنے کے لئے کیا حربے اختیار کرتے ہیں؟ گرمی کی وجہ سے کیا نقصانات ہوتے ہیں؟ کیا حکومت کچھ کرسکتی ہے؟ کیا آپ کا علاقے اس سال کی گرمی سے متاثر ہوا ہے؟ کیسے؟

آپ کی رائے

اب یہ فورم بند ہوچکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔


واجد علی، مردان:
میرے خیال میں حکومت کو پورے ملک میں شجرکاری کرنی چاہئے، عام مقامات، سرکاری مقامات اور سڑکوں کے کنارے۔ ہمارے زیادہ تر علاقے زراعتی ہیں اور گرمی کے موسم میں ہمیں پانی کی ضرورت ہے۔

شاہد خاص خیلی، میرپور خاص:
گرمی بڑھ جانے کے ویسے تو بہت ماحولیاتی اسباب ہیں، لیکن لوگوں کو جو تکلیف ہوتی ہے اس کی ذمہ داری حکومتوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔ ابھی میں بینگ کاک میں وزِٹ پر ہوں جہاں پر بہت گرمی ہے۔ مگر اپنے چھوٹے سے گاؤں میروا گورچانی کو یاد کرتا ہوں تو مجھے ہماری وہ عورتیں یاد آتی ہیں جو پانی کے لئے بھٹکتے پھرتی ہوں گی اور جانور بھی پانی کے لئے پریشان ہوں گے۔ اب جب سندھو دریا میں بھی پانی آگیا ہے مگر حکوتی افسر شاہی اور وڈیراشاہی کی وجہ سے ہمارے گاؤں کے ہزاروں ایکڑ زمین کو تو پانی نہیں ملتا، مگر لوگوں کو بھی پانی نہیں ملتا۔

ڈاکٹر شہباز محمد دین، لاہور:
گرمی نہ ہو تو سردی کا مزہ نہ آئے۔

محمد طارق، کینیڈا:
میرے خیال میں تو ترقی یافتہ ملکوں میں موسم کی شدت کو کم کرنے کے لئے بہت کچھ استعمال کیا جاتا ہے۔ بےپناہ وسائل اور دماغ استعمال ہوتا ہے۔ لیکن ترقی پزیر ملکوں میں تو اس سے نمٹنے کے لئے وسائل ہی نہیں ہوتے اور کافی حد تک تو یہ کسی کے اختیار میں بھی نہیں ہوتے۔

مدثر، سندھ:
میرا چلے تو پورے پرووِنس کو ایئر کنڈیشنڈ کروا دوں لیکن پھر بجلی کا مسئلہ ہوگا۔۔۔۔

ساجل احمد، لاس ویگاس:
آپ بی بی سی والے بھی گورنمنٹ کی طرح صرف اپنوں کی ہی رائے کو اہمیت دیتے ہیں۔ کسی اور کی شائع ہو یا نہ ہو شاہدہ اکرم کے دو دو ٹائم ضرور شائع ہوتے ہیں۔ اس لئے آج سے میں نے سوچ لیا ہے کہ آپ کے اس فورم پر کبھی بھی نہیں آنا ہے۔۔۔۔

سارہ خان، پشاور:
گرمی اور سردی تو صدیوں سے ہمارا اوڑھنا بچھونا ہیں لیکن آج کی گرمی صنعتی ممالک کی مہربانی ہے۔ ماحول کی آلودگی کا یہی رفتار رہا تو ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کچھ بھی دینے کے قابل نہیں رہیں گے۔

عارف جبار قریشی، سندھ:
گرمی کی شدت میں اس وقت کچھ زیادہ ہی اضافہ ہوگیا ہے۔ لیکن انسان اس میں بےبس ہے۔ یہ قدرت کا قانون ہے۔ گرمی سے انسان تو انسان جانور بھی پریشان ہے۔ ہمارا علاقہ صحرائے تھر سے ملحق ہے اور یہاں پر گرمی کی شدت سے سانپ، بچھو، دیگر ۔۔۔۔ زمین سے باہر آگئے ہیں اور انسان ان کا نشانہ بن رہے ہیں۔ گرمی کے نقصان ہی ہیں۔ گرمی سے نمٹنے کے لئے دودھ کی لسی، دہی کی لسی اور ۔۔۔۔ کا استعمال بڑھ جاتا ہے جو گرمی میں مفید ہے۔

عبدالصمد، اوسلو:
توانائی کے حصول کے لئے جنگل اور درختوں کو کب تک صاف کرتے رہوگے، اگر اب بھی باز نہ آئے تو دس سالوں تک تمام انڈین سب کنٹینینٹ صحارا کا ریگستان بن جائے گا۔ خبردار اگر مستقبل میں گرمی یا پانی کی شارٹیج کی ذلت سے بچنا چاہتے ہو شجرکاری کو کم از کم پرائمری اسکول لیول پر لازمی کردیں۔

بلال خان، راولپنڈی:
کرتوتوں کا پھل۔۔۔

عبدالوحید خان، برمنگھم:
میں پاکستانی ہوں اور اب گزشتہ چھ۔سات مہینوں سے برمنگھم میں رہتا ہوں۔ پاکستان میں گرمی اپنے عروج پر ہے اور غریب لوگوں کے لئے کوئی فیسیلیٹی نہیں ہے جبکہ گورنمنٹ حکام ایئرکنڈیشنڈ گھروں اور دفاتر میں رہتے ہں۔ اٹک ضلع میں جو کہ پاکستانی وزیراعظم شوکت عزیز کا انتخابی حلقہ ہے، پینے کا پانی نہیں ہے، صحت عامہ کی سہولیات نہیں ہیں۔ غریب لوگ مشکلات میں زندگی بسر کررہے ہیں۔

گل انقلابی سندھی، دادو:
گرمی میں میں تیرنے جاتا ہوں اور بیئر پیتا ہوں۔

شاہد خان، دہرکی:
یار ایک تو آپ ہماری رائے شامل ہی نہیں کرتے، لگتا ہے کہ آپ بھی نہ پنجابیوں کی فیور کرتے ہو لیکن بات یہ ہے کہ گرمی سے بچاؤ ممکن ہی نہیں، جب آپ باہر نکلتے ہو آپ کو گرمی تو لگے گی ہی، لگے لیکن میں اے سی میں رہتا ہوں ۔۔۔۔۔(واضح نہیں)

جاوید اقبال ملک، چکوال:
اللہ کا شکر ہے کہ مجھے گرمی نہیں لگتی، اللہ نے مجھے بہت ٹھنڈا بنایا ہے۔ لیکن یہاں لوگ مختلف طریقے اختیار کرتے ہیں، ٹھنڈے پانی کا ٹاویل یوز کرتے ہیں، آئیس والا پانی یوز کرتے ہیں، لیکن ہماری آب و ہوا ایسی ہے کہ یہاں پر فاسٹ لُو نہیں چلتی، اس لئے امید ہے کہ چکوال میں اگلے پندرہ برسوں میں بہت زیادہ آب و ہوا ۔۔۔۔

فوزیہ بٹ، جرمنی:
کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ ان موسموں پہ بھی سیاست کا اثر ہے۔ جہاں جمہوریت ہے وہاں کے موسم شاندار اور جہاں آمریت، بادشاہت اور ملوکیت ہے وہاں گرمی سے لوگ نڈھال۔ پتہ نہیں بی بی سی میں یہ رائے شامل ہوگی بھی یا نہیں کیوں کہ اسے بھیجنے والے کا نام شاہدہ اکرم تو نہیں!

سنتوش کمار، حیدرآباد سندھ:
اگر گورنمنٹ چاہے تو بہت کچھ کرسکتی ہے۔ جیسے بارش سے بچنے کے لئے ’رین شیڈ‘ ہوتے ہیں اسی طرح اگر ہمارے صوبے کی حکومت چاہے تو کراچی کے بڑے بڑے روڈ پر گرمی سے بچنے کے لئے کسی چھتری وغیرہ کا انتظام کرسکتی ہے۔ لیکن یہ سب نہیں ہوسکتا کیوں کہ ہمارے صوبے کی گورنمنٹ کو تو بھتہ لینا اور اسے بیرونی ملک پہنچانے سے ہی فرصت نہیں ہے۔

شاہدہ اکرم، ابو ظہبی:
میرا تعلق پاکستان سے ہے اور جنوبی ایشیائی ممالک کی گرمی کی لہر سے یو اے ای میں رہتے ہوئے فی الوقت اس وجہ سے متاثر نہیں ہوں کیوں کہ سینٹرلی ایئر کنڈیشنڈ گھروں اور دکانوں میں رہوتے ہوئے گرمی کے زور سے اتنے متاثر نہیں ہوتے۔ لیکن اس وقت بھی گھر سے باہر نکلو ہوش ٹھکانے آجاتے ہیں۔ لیکن گرمی کی یہ شدت گھر میں آکر خود ہی ختم ہوجاتی ہے۔ لیکن نیوز میں جب باقی جگہوں کے درجۂ حرارت دیکھتی ہوں تو سوچ کر ہی رہ جاتے ہیں کہ وہ کیا کرتے ہوں گے۔ جبکہ گرمی کی شدت سے بجلی صاحبہ کی آنکھ مچولی سب سے پہلے شروع ہوتی ہے اور اتنی شدت کی گرمی سے تو یہ آنکھ مچولی اب مستقل جنگ بندی والی صورت میں تبدیل ہوگئی ہے۔۔۔۔

66آپ کی رائے
آپ کی رائے میں کیا موت کی سزا صحیح ہے؟
66آپ کی رائے
کرکٹ ڈِپلومیسی کتنی کامیاب رہے گی؟
66آپ کی رائے
گاندھی کی نمک ستیاگرہ، آج کتنی اہم؟
66عورت کی امامت
عورت نماز کی سربراہی کیوں نہیں کرسکتی؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد