BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Saturday, 19 March, 2005, 14:07 GMT 19:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیا عورت امامت کر سکتی ہے؟
News image
تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک خاتون نے جو ورجینیا کامن ویلتھ یونیورسٹی میں اسلامیات کی پروفیسر ہیں، نیو یارک سٹی میں سو سے زائد مرد اور عورتوں کی مشترکہ طور پر جمعہ کے نماز میں امامت کی۔

نماز کا اہتمام ڈاکٹر امینہ اور ان کے کچھ ایسے ساتھیوں نے کیا تھا جو اسلام میں خواتین کے لیے برابری کے حقوق کک علمبردار ہیں۔ نماز سے پہلے ڈاکٹر امینہ نے کہا کہ ’ بدقسمتی سے مسلمانوں نے مذہب کی ایک بہت ہی محدود تشریح کی ہے جس کی وجہ سے وہ پیچھے رہ گئے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اس نماز سے ہم آگے کی طرف بڑھیں گے۔ یہ قدم اسلام میں موجود امکانات کی ایک علامت ہے۔‘

اس موقع پر ایک درجن سے زیادہ مظاہرین بھی اکھٹے ہوئے جنہوں نے ڈاکٹر امینہ کے خلاف پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔

آپ کا اس پر کیا ردِّعمل ہے؟ کیا عورت نماز کی سربراہی نہیں کرسکتی؟ عورت کی امامت سے اسلام کو کیا نقصان پہنچ سکتا ہے؟ کیا آپ عورت کی امامت میں نماز پڑھنا چاہیں گے/گی؟ کیا آپ ڈاکٹر امینہ کی اس بات سے اتفاق کرتے/کرتی ہیں کہ یہ ایک آگے کی طرف قدم ہے جو اسلام میں موجود امکانات کی ایک علامت ہے؟ اپنے خیالات ہمیں لکھ بھیجیں۔

آپ کی رائے

اب یہ فورم بند ہو چکا ہے اور آپ کی آراء نیچے درج ہیں۔ یاد رہے اس بحث میں حصہ لینے کی غرض سےادارے کو ہزاروں ای میل ملیں۔ہمارے لیے ان تمام ای میل کو شائع کرنا ممکن نہیں تھا جس کے لیے ادارہ معذرت خواہ ہے۔


جنید راجپوت، خیرپور
میرا خیال ہے مسلمان نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے مار کھارہے ہیں اور عورت کی امامت کے مسئلے کا اٹھنا مسلمانوں کے لیے ایک سبق ہے۔ ہمارے نبی نے عورت کو بلند رتبہ عطا فرمایا ہے جو ہمارے معاشرے نے اس سے چھین لیا ہے۔میرے خیال میں عورت کو امامت کرنی چاہیے،شاید اسی بہانے لوگ نماز پڑھنا شروع کر دیں۔

رامیہ حسن، برطانیہ
میرا خیال ہے ڈاکٹر امینہ کا قدم نہایت نامناسب ہے۔ ویسے تو مذکورہ نماز ہوئی ہی نہیں کیونکہ جماعت میں مرد بھی موجود تھے اور کچھ عورتوں کے تو سر بھی نہیں ڈھکے تھے۔ مجھے تو یہ امریکہ کا ڈرامہ لگتا ہے۔

ماریہ مریم، شیخوپورہ
یہ بالکل صحیح اقدام ہے۔

محمد لطیف، راولپنڈی
یہ اسلام کے خلاف ایک منظم سازش ہے۔

مغربی فلسفہ
 مغرب کے فلسفہ میں عملیت (پریگماٹسم) کا خاص کردار ہے جس وجہ سے وہ کسی قانون کو آخری نہیں سمجھتے، اس لیے وہ اپنے نظریات، قوانین کو بدلتے رہتے ہیں۔
شاہد عرفان، ہارون آباد

جنت بی بی
بی بی سی والے فضول لوگ ہیں، میری رائے نہیں چھاپی کیونکہ میرا نام ذرا پرانا اور دیہاتی ہے۔ حقیقت یہ کہ میں حافظہ قرآن ہوں اور اسلام کا گہرا مطالعہ رکھتی ہوں۔ میں ماڈرن نام کہاں سے لاؤں؟

شاہدعرفان، ہارون آباد
مغرب کے فلسفہ میں عملیت (پریگماٹسم) کا خاص کردار ہے جس وجہ سے وہ کسی قانون کو آخری نہیں سمجھتے، اس لیے وہ اپنے نظریات، قوانین کو بدلتے رہتے ہیں۔ اب ہم جنس شادیوں کے مسئلے کو ہی لے لیجئے۔ ہم جنس شادی بنیادی طور پر قانون قدرت کے خلاف ہے لیکن مغرب اس کو بھی قانونی شکل دے چکا ہے یا اس بارے میں سوچ رہا ہے۔

فرحین، ملتان
یہ قرآن وحدیث سے واضع ہے کہ عورت کی امامت کی اجازت نہیں ہے۔ عورت کا درجہ مرد سے بہرحال کم ہے۔

عفت جعفری، امریکہ
میں کچھ قارئین کو بتانا چاہوں گی کہ اسلام میں عورت کا میدان جنگ میں جانا منع ہے۔اسلام کی روسے عورت جنگ نہیں کر سکتی۔ یہی بات حضرت علی نے حضرت عائشہ کو بتائی تھی جس کی وجہ سے وہ میدان جنگ سے لوٹ گئیں تھیں۔

سخی شاہین، کراچی
یہ ایک زبردست بات ہے کیونکہ ہمارے نبی کے مطابق نماز مرد اور عورت دونوں پرفرض ہے۔

پڑھی تو سہی!
 ڈاکٹر امینہ کم از کم ان عورتوں سے تو اچھی ہیں جو باتیں تو بہت کرتی ہیں لیکن نمازایک بھی نہیں پڑھتیں۔
شازیہ خان، کراچی

شازیہ خان، کراچی
ڈاکٹر امینہ کم از کم ان عورتوں سے تو اچھی ہیں جو باتیں تو بہت کرتی ہیں لیکن نمازایک بھی نہیں پڑھتیں۔ نہ پڑھنے سے تو بہتر ہے کہ عورت کی امامت میں ہی سہی نماز تو پڑھی۔ علماء نے عورتوں پر چہرے کا پردہ لاگو کیا تھا۔ کیا فرق پڑا ہے اس سے؟

سحر نایاب خان، کینیڈا
ڈاکٹر امینہ کا امامت کرانااسلام کے بالکل خلاف ہے۔ ان کے اس قدم سے کوئی بہتری نہیں ہو رہی بلکہ تباہی ہی ہوگی۔

ارم زہرہ، کینیڈا
جن مردوں نے ان کے پیچھے نماز پڑھی، وہ مرد نہیں ہیں۔

آئی آئی کاہلوں،امریکہ
مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ایک نیک خاتون ایک مذہبی فریضہ انجام کیوں نہیں دے سکتی۔ ہم مولوی حضرات کے خلاف سوغلط باتیں سنتے ہیں مگر ان کو امامت سے نہیں روکتے۔ ہر کوئی ان کے پیچھے خوشدلی سے نماز پڑھ لیتا ہے۔

احمد فواد سید، کراچی
جی بالکل، یہ بات ضروری ہے۔ ہم مسلمان یہ نعرے تولگاتے ہیں کہ اسلام میں عورت کو دوسرے مذاہب کے مقابلے میں بہت حقوق حاصل ہیں لیکن حقیقت میں تصویر کچھ الگ ہی ہے۔ ہمیں اسلامی احکامات کو نئے ذاویوں سے دیکھنا ہوگا۔

ڈاکٹر اسرارالحق، ٹانک
قرآن کے مطابق عورت امامت نہیں کر سکتی۔

عامر انور، ورجینیا، امریکہ
میرا خیال ہے اس معاملے کو غیر ضروری اہمیت دی جا رہی ہے۔ اس قسم کی باتیں سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے کی جاتی ہیں، اور ڈاکٹر امینہ کو ایسی شہرت مل رہی ہے۔ اسلام کو ایسی باتوں سے کچھ نہیں ہونے والا۔

کلب عباس کاظمی،لاہور
عورت ان وجوہات کی وجہ سے امامت نہیں کر سکتی۔ پہلی، عورتوں کو حیض اور نفاس کے مسائل ہو سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں ان لوگوں کی نماز کا کیا ہو گا جو ان کے پیچھے کھڑے ہیں۔ دوسری، رکوع اور سجدے کے وقت پیچھے کھڑے مردوں کو امامت کرنے والی خاتوں کے خدوخال دکھائی دے سکتے ہیں۔ تیسری، تاریخی طور پر اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ رسول اللہ کے دور میں ایسا ہوا ہو اور ان کے علم میں لایا گیا ہو۔چوتھی، تمام تاریخ دان جانتے ہیں کربلا میں حضرت زین العابدین کی بیماری کی وجہ سے تمام معاملات کی دیکھ بھال حضرت زینب کر رہی تھیں اور اگر عورت کی امامت جائز ہوتی تو وہ یقیناً امامت کے فرائض سرانجام دیتیں۔

تبدیلی ضروری ہے؟
 ڈاکٹر امینہ جیسے لوگ کہتے ہیں کہ اسلام کو بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ تبدیل ہونا چاہیے۔ شاید ایسی ہی باتوں کی وجہ سے اللہ تعالٰی نے قرآن کی حفاظت کا ذمہ خود لیا ہے۔
اسمہ رشید، بہاولنگر

اسمہ رشید، بہاولنگر
ڈاکٹر امینہ جیسے لوگ کہتے ہیں کہ اسلام کو بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ تبدیل ہونا چاہیے۔ شاید ایسی ہی باتوں کی وجہ سے اللہ تعالٰی نے قرآن کی حفاظت کا ذمہ خود لیا ہے۔

شاہد ملک، کینیڈا
جب آپ کسی مذہب کو قبول کرتے ہیں تو اس کے اصولوں کو مانتے ہیں نہ کہ ان کو بدلنے کے لیے وہ مذہب اختیار کرتے ہیں۔

محسن حسن، چکوال
اگر حضرت عائشہ جنگٰ جمل میں مسلمان فوج کی کمانڈ کر سکتی ہیں۔۔آدھا دین ان سے روایت ہو سکتا ہے۔۔خود امام ابوحنیفہ نے اپنی بیٹی سے مسئلہ پوچھا جس کی وجہ سے ان کی فقہ کا نام ہی فقہ حنفی پڑ گیا۔۔تو اسلام میں عورت کو امامت کرانے سے روکنے کا کوئی جواز نظر نہیں آتا۔ امید ہے مولوی حضرات تاریخی حقائق کو سامنے رکھ کر عورت کی امامت کے جواز کا کوئی عقلی رد نہیں پیش کر سکتے۔

عمیر خان، دھران، سعودی عرب
عورت امامت کروا سکتی ہے۔ اگر ہم عورت کو برابر کا انسان نہیں مانیں گے تواسلام کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا۔میرا خیال ہے عورت روحانی طور پر عموماً مرد سے آگے ہی ہوتی ہے۔

عظمیٰ رانا، ٹوبہ ٹیک سنگھ
یہ بھی ایک سازش ہے اسلام کے خلاف۔

کیوں نہیں؟
 اگر حضرت عائشہ جنگٰ جمل میں مسلمان فوج کی کمانڈ کر سکتی ہیں،آدھا دین ان سے روایت ہو سکتا ہے تو اسلام میں عورت کو امامت کرانے سے روکنے کا کوئی جواز نظر نہیں آتا۔
محسن حسن، چکوال

آصف، کینیڈا
آپ اس طرح کی خبریں کیوں دیتے ہیں؟ میں اس سے اتفاق نہیں کرتا۔اسلام میں یہ چیز جائز نہیں ہے۔

زبیر خان، کراچی
اس قسم کی باتیں اٹھانے کا مطلب مسلمانوں کو الجھانے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ ویسے بھی جن کوجہنم پسند ہے وہ ایسے اقدامات میں شامل ہوکر یا ان کی حوصلہ افزائی کر کے وہاں اعلیٰ مقام حاصل کر سکتے ہیں۔اسلام نے تو عورت کو وہ مقام دیا ہے کہ جس کا دوسرے مذاہب میں تصور تک موجود نہیں۔

شیراز حمید، امریکہ
مرد کی برتری کا تصور قدیم تہذیبوں میں ملتا ہے۔ ہم آج کے دور میں اس قدیم تصور کو بنیاد بنا کر عورتوں اور مردوں میں تفریق کریں گےتو بحیثیت قوم بہت پیچھے رہ جائیں گے۔

لبنیٰ عالم، امریکہ
یہ فتنے ہیں۔ اللہ ہم کو ان سے محفوظ رکھے۔

شفقت علی، امریکہ
ایک عورت کا دلیرانہ اقدام ہے۔میں ڈاکٹر امینہ کواس پر سلام پیش کرتا ہوں۔

ہلال باری، لندن
جناب یہ اسلام ہے اور بی بی سی کو یہ حق نہیں پہچتا کہ وہ اسلام میں نئی باتوں کو فروغ دے۔

فضیل غوری، کینیڈا
قرآن ہر دور کے لیے ضابطہ حیات ہے۔ کچھ چیزیں جب منع ہیں تو ہمیشہ منع رہیں گی۔ اس طرح کیا کل آپ ہم جنس شادی کو بھی جائز مان لیں گے؟

شاہدہ اکرام، عرب امارات
مجھے تو ڈر ہے کہ عورت ہوتے ہوئے میں ہی عتاب کا شکار نہ ہوجاؤں۔کیا ڈاکٹر امینہ نے نماز کی جگہ کچھ اور پڑھا دیا؟کیا ایک عورت کو اس لیے دائرہ اسلام سے خارج کر دینا چاہیے کہ اس نے نماز کی امامت کی ہے؟ اسلام ظالم مذہب نہیں اور ہمارے مذہب میں تو کئی آسانیاں دی گئی ہیں۔نماز ترک کر دینے سے کیا یہ بہتر نہیں کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لی جائے؟

سید سبط حسن نقوی،لاہور
اسلام کے کئی اصول قیامت تک کے لیے طے ہو چکے ہیں۔ اب اگر کوئی اس میں اپنی طرف سے اضافہ کرتا ہےتو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے نبی اکرم کی شریعت کو نہیں مانا۔جس نے نبی کی شریعت کو نہیں مانا وہ خدا کے احکامات سے منکر ہوا۔ میں اس سے زیادہ ڈاکٹر صاحبہ سے کچھ نہیں کہنا چاہتا۔

فیصل اظہر، امریکہ
جب اسلام نے ایک چیز طے کردی ہے تو پھر کسی کو کیا حق ہے کہ وہ اس میں ترمیم کرتا پھرے۔

ابدی قرآن
 قرآن پاک قیامت تک کے لیے ہے اور اس میں کہی ہوئی باتوں کو بدلا نہیں جا سکتا۔
انیلہ محمود، کراچی
انیلہ محمود، کراچی
قرآن پاک قیامت تک کے لیے ہے اور اس میں کہی ہوئی باتوں کو بدلا نہیں جا سکتا۔ عورت کی امامت میں خودنماز پڑھنا تو ایک طرف، میں تو کسی دوسرے کو بھی نہ پڑھنے دوں۔

رستم خان، امریکہ
کل کو جینیٹک آپریشن کے ذریعے بچوں کی پیدائش بھی مردوں کے ہاں ہوگی۔ بقول شاعر۔۔دیوانگی میں حد سے گزرجانا چاہیے۔

دانش احمد، امریکہ
اس قسم کی چیزیں کرنے کی بجائے، ڈاکٹر امینہ اسلام کی خدمت کئی دوسرےانداز میں کر سکتی ہیں۔ مسلمان امت غلط راہ پر جا رہی ہے جو اس بات سے ہی ظاہر ہے کہ ہم اتحاد، تعلیم، جہاد کو چھوڑ کر اس قسم کی باتوں پر بحث کر رہے ہیں۔

شاز کھتری، بریڈفورڈ
کیا صرف مرد ہی اسلام کو سمجھ سکتے ہیں؟ ابھی تک تو کوئی تیر نہیں چلایا کسی مرد اسلامی مفکر نے۔۔ پھر خواتین پر پابندی کیوں۔ ملا حضرات سے معذرت کے ساتھ۔

فیاض احمد خان، نوشہرہ
اسلام نے عورت کو ہر معاملے میں حقوق دیے ہیں لیکن عورت کی امامت کا تصور اسلام میں سرے سے موجود ہی نہیں۔ ڈاکٹر امینہ کا یہ خیال کہ یہ اسلام میں موجود امکانات کی ایک علامت ہے، بالکل غلط ہے۔

پابندی کیوں؟
 کیا صرف مرد ہی اسلام کو سمجھ سکتے ہیں؟ ابھی تک تو کوئی تیر نہیں چلایا کسی مرد اسلامی مفکر نے۔۔ پھر خواتین پر پابندی کیوں۔
شازکھتری،کراچی

ڈاکٹر منصور ریحان، بشکک، کرغستان:
اسلام کے نقطہ نظر سے عورت مردوں کی امامت نہیں کر سکتی۔اس کی بہت سی وجوہات ہیں، مثلاً عورت کی عبادت مرد کی نسبت ناقص ہے کیونکہ وہ ہر ماہ کچھ دن ناپاکی کی حالت میں رہتی ہے۔ اس کے برعکس مرد کو ایسی کوئی مجبوری نہیں اور اس کو نماز قضا کرنے کی بھی اجازت نہیں۔ خدارا اسلام کے اصل تصور کو برقرار رہنے دیجئیے۔

خالد سیف اللہ ، بلجیم
اسلام کے اصول قرآن نے واضع طور پر بیان کر دیے ہیں۔ آپ خود ہی سوچیں اگر عورت مردوں کی امامت کرائے تو کیا عبادت کرنے والوں کا دھیان اللہ کی طرف رہے گا؟ اس طرح تو شیطان کی عبادت شروع ہو جائے گی۔

عمران، نامعلوم
ڈاکٹر امینہ کو چاہیے کہ وہ اسلام کے اصولوں پر عمل کریں، نہ کہ نئے اصول بنائیں۔ اسلام کو بدلنے کی بجائے وہ اپنے لیے نیا مذہب کیوں نہیں بنا لیتیں۔

احمر سہیل، بھکر
میرے خیال میں اس معاملے میں کسی رائے کی ضرورت نہیں۔ اگر عورت کی امامت جائز ہوتی تو ہمیں رسول اللہ کی زندگی سے کوئی مثال تو ملتی۔

معین ملک، راولپنڈی
اللہ نے کسی ایک عورت کوبھی نبوت نہیں دی اس لیے اس کی امامت بھی ٹھیک نہیں۔

نورین، کینیڈا
یہ تمام بحث کہ امینہ جی نے ٹھیک کیا ہے یا غلط، بے معنی ہے۔ اس کے لیے بی بی سی کو کسی کی رائے لینے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہر شخص کے پاس قرآن اور حدیث موجود ہے رہنمائی کے لیے۔

ثمینہ روحی، کراچی
ہم نے تو یہی دیکھا اور سنا ہے کہ عورت کی جائے نماز مرد سے پیچھے رکھنی چاہیے۔ اگر ایسا ہے تو پھرعورت کیسے امامت کر سکتی ہے؟ جو صنف دوسری صنف کی پسلی سے تخلیق کردہ ہے، وہ اس کی نمائندگی کیسے کر سکتی ہے۔

امتیاز احمد، حیدرآباد
یہ تصور اسلام میں ہے تو نہیں لیکن اب تھوڑی سی تبدیلی آنی چاہیے۔

حسن بلوچ، کینیڈا
آج کے جدید دور میں اسلام میں اصلاحات کی بہت ضرورت ہے اور یہ ایک مثبت قدم ہے۔

صداقت خان، برطانیہ
یہ ڈاکٹر امینہ کا ایک اچھا قدم ہے۔ جب کہا جاتا ہے کہ اسلام ہر دور کے لیے ہے تو اس کو کسی خاص وقت پر جامد کیوں کر دیا جاتا ہے۔ مذہب کے فلسفے اور روح کو سمجھنے کی کوشش کرنے چاہیے نہ کہ ان افراد کے الفاظ کو جو انہوں نے اپنی عقل اور سمجھ کے لحاظ سے کہے ہیں۔

وسیم ارشد، کینیڈا
ہم اجتہاد صرف ان معاملات پر کر سکتے ہیں جن پر واضح احکامات موجود نہ ہوں اور عورت کی امامت کے معاملے میں واضح احکامات ہیں کہ وہ امامت نہیں کر سکتی۔ ہم اسلام کو اپنی پسند اور ناپسند سے نہیں چلا سکتے۔

شوکت محمد، کراچی
اگر کسی کو اسلامی قوانین پسند نہیں تب اسے الگ مذہب اختیار کر لینا چاہیے نہ کہ اسلام میں وہ تبدیلیاں لائی جائیں جن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

فراز ارشد، ٹیکسلا
ڈاکٹر امینہ اس طرح کی حرکت سے اسلام کو مغرب کے سامنے روشن خیال ثابت کرنا چاہتی ہیں۔ روشن خیالی کا یہ مطلب نہیں کہ آپ اپنے مذہب میں خود ہی ترامیم کر لیں۔ ڈاکٹر امینہ کی تھیوری مغرب زدہ ہے اور اسلام کے خلاف ہے۔

محمد امین، امریکہ
یہ ایک انقلابی فیصلہ ہے۔ یہ اسلام کو قدامت پسندی کے دھندلکوں سے نکال کر روشن خیالی کی جانب لانے کے لیے پہلا قدم ہے۔ مسلم امہ کو اس معاملے پر جذباتیت کی بجائے اجتہاد سے کام لینا چاہیے۔

سید الطاف حیدر، مردان
اسلام ایک بہترین ضابطۂ حیات ہے۔ عورت امام بن سکتی ہے لیکن صرف خواتین کی۔ ڈاکٹر امینہ سستی شہرت حاصل کرنا چاہتی ہیں۔

روبی آدم خان، اسلام آباد
ڈاکٹر امینہ کے اس قدم سے قبل میں اپنے آپ کو ایک انسان نہیں سمجھتی تھیں لیکن ان کے اس عمل سے میرے اندر ایک جوش سا بھر گیا ہے۔

احمد زمان، دبئی
عورت کبھی امامت نہیں کر سکتی۔ ڈاکر امینہ جو کر رہی ہیں وہ اسلام نہیں ہے۔

حماد سید، کراچی
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اسلام میں عورت کی امامت جائز نہیں۔

محمد حسین، مسی ساگا:
اسی وقت پر کیوں، جب اسلام کو ہر طرف بدنام کیا جا رہا ہے، یہ گھٹیا شہرت حاصل کرنے ایک بھونڈا طریقہ ہے۔ ڈاکٹر امینہ کو پل بنانے چاہئیں نہ کہ دیواریں۔

حقی محمد، اٹلی:
یہ اسلام کے لیے ایک نیا فتنہ ہے۔ عورت عورت کی امامت کرسکتی ہے مگر عورت کے لیے مردوں کی امامت قربِ قیامت کے آثار ہیں۔

ڈاکٹر ہما میر، کراچی:
جب ایک صف میں مرد اور عورت کاندھے سے کاندھا ملا کر صف بنا سکتے ہیں تو عورت کی امامت سے کیا قیامت آجائے گی۔ میرا تو یہ خیال ہے کہ اگر یہ اسی طرح خوشی منانا چاہتے ہیں تو خوش ہونے دیجیے۔

روایت موجود ہے
 امِ ورقہ امامت کے فرائص نہ صرف پہلے خلیفہ ابوبکر کے دور تک ادا کرتی رہیں بلکہ یہ سلسلہ دوسرے خلیفہ عمر فاروق کے دور میں ان کے انتقال پر ہی ختم ہوا۔
احمد ابوبکر، کینیڈا

احمد ابوبکر، کینیڈا:
دورِ حاضر کے ممتاز عالمِ دین پروفیسر ڈاکٹر حمیداللہ جنہوں نے پہلی مرتبہ قرآن کا فرانسیسی زبان میں ترجمہ کیا اپنی کتاب خطباتِ بہاولپور میں (صفحہ تیس، نواں ایڈیشن، مطبوعہ دو ہزار تین، طابع ادارہِ تحقیقاتِ اسلامی، اسلام آباد) سنن ابنِ داؤد اور امام احمد ابنِ حنبل سے اقتباس کرتے ہیں کہ رسول نے ایک انصاری خاتون امِّ ورقہ کو ان کے اپنے محلے کی مسجد کا امام مقرر کیا اور ان کو ایک مرد مؤذن مقرر کر کے دیا جہاں دیگر مرد حضرات ان کے پیچھے نماز پڑھتے تھے۔ امِ ورقہ امامت کے فرائص نہ صرف پہلے خلیفہ ابوبکر کے دور تک ادا کرتی رہیں بلکہ یہ سلسلہ دوسرے خلیفہ عمر فاروق کے دور میں ان کے انتقال پر ہی ختم ہوا۔

احمد انبالوی، فیصل آباد:
بی بی سی یا کسی اور کا یہ کہنا کہ ایسا مسلمانوں کی تاریخ میں صرف پہلی دفعہ ہوا ہے، بالکل غلط ہے۔ بنو عباس کے دور میں بھی ایسے واقعات پیش آئے تھے لیکن ہر طور اہلِ علم نے مخالفت کی تھی۔ اب بھی ہر سچا علم والا اسے غلط ہی کہے گا۔

عطیہ مصطفیٰ، مونٹریال:
یہ قیامت کی نشانی ہے اور امریکہ کی ایک نئی چال ہے مسلمانوں کے خلاف۔ یہ وہ ملک ہے جہاں عورت مرد کے شانہ بشانہ ہے مگر آج تک صدر نہیں بنی۔ عورت کی امامت کا اسلام میں کوئی تصور نہیں۔

آفتاب اعوان، پاکستان:
اللہ نے امامت کا حق صرف مرد کو دیا ہے اور بش۔

عمران، امریکہ:
بی بی سی عموماً اس طرح کے سوال پوچھتا ہے کہ اس کے اپنے چھپے ہوئے مقاصد کھل کر سامنے آجاتے ہیں۔ میں بی بی سی کی ریڈیو کے زمانے سے بہت عزت کرتا رہا ہوں لیکن اب مجھے لگتا ہے کہ بی بی سی کا میڈیا کی اس جنگ میں اپنا ایجنڈا ہے۔ بی جمالو نہ بنیے جس کا کام صرف لوگوں کو لڑانا ہوتا ہے۔

محمد اصغر بھٹہ، لیہ:
عورت نماز کی امامت کروا سکتی ہے مگر صرف عورتوں کی جماعت میں اور وہ بھی درمیان میں کھڑے ہوکر۔ یہ اسلام کی غلط تشریح ہے۔

اقبال پتنی، جامعہ آنند، انڈیا:
عورت امامت نہیں کرسکتی کیونکہ اس کے ناپاکی کے مسائل ہیں جس کی وجہ خود اس کی نہیں بلکہ دوسروں کی نماز بھی فاسد ہوسکتی ہے۔ چونکہ وہ اپنی اس حالت کا اظہار کھلے عام نہیں کرسکتی اسی لیے اسلام اسے امامت کا حق نہیں دیا گیا۔

سہیل احمد، فیصل آباد:
اس مسئلے کو اجتہاد کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔ اکیلی عورت خود اس کا فیصلہ نہیں کرسکتی۔

بابر خان، راولپنڈی:
مرد مولوی کیا کم تھے جو عورتیں بھی اس میدان میں اتر آئیں۔ بھائی میں جو جمعہ ہی بڑی مشکل سے پڑھتا ہوں، کسی عورت کے پیچھے پڑھ کر کیوں خراب کرنا چاہوں گا۔ پھر مجبوری کے دنوں میں امامت کون کروائے گا عورتوں کی جگہ۔

شعیب شیخ، کینڈا:
ڈاکٹر امینہ کو اسلام کا کوئی علم نہیں ہے۔ وہ اسلام کی غلط تصویر پیش کر رہی ہیں۔ اگرچہ اسلام نے عورتوں کو بہت عزت دی ہے لیکن انہیں امامت کا حق نہیں دیا۔ عورت کی ذمہ داری گھر گرہستی اور بچوں کو سنبھالنے کی ہے اور مرد کا کام ہے ان کے لیے مہیا کرنا۔ یہ فضول بحث ہے اور ہمیں مئادہ اہم مسائل کی طرف توجہ دینی چاہیے۔

اجتہاد
 اگر عورت جنگ میں شامل ہوسکتی ہے تو امامت کیوں نہیں کرسکتی۔
ریاض حسین، اسلام آباد

ریاض حسین، اسلام آباد:
جی ہاں میرا خیال ہے کہ یہ ایک آگے کی طرف قدم ہے جو ڈاکٹر امینہ نے اٹھایا ہے اور اسلام کی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر عورت جنگ میں شامل ہوسکتی ہے تو امامت کیوں نہیں کرسکتی۔ یہ اجتہاد کہلاتا ہے اور صرف اسی طرح ہی اسلام آج کے سائنسی دور میں زندہ رہ سکتا ہے۔

ربائیل اقبال:
ہم لوگ اپنی ہی تباہی کی طرف روانہ ہیں۔ اس طرح کی عورتیں اس بات کی علامت ہیں کہ کیسے مغرب ہم پر ٹھونسا جارہا ہے اور جو بھی اس طرح کی عورت سے اتفاق کرتا ہے، غلطی پر ہے۔

جاوید اقبال ملک، چکوال:
اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کوئی بھی نئی بات خود سے دین میں شامل کر لی جائے۔

عدنان اقبال، کینیڈا:
اسلام عورتوں کو مذہبی پیشوا بننے سے نہیں روکتا۔ اسلام نے چودہ سو برس قبل عورت پر جبر اور اس کے ہونے والے استحصال کو ختم کیا تھا۔ وقت آ گیا ہے کہ مسلمان روایت کو مذہبی رنگ دینا ترک کر دیں۔

فرخ شہزاد، حافظ آباد:
صحیح اور غلط کے بحث سے ہٹ کر زیادہ اہم بات یہ ہے کہ امامت کروانے سے کیا عورت کی معاشرے میں حیثیت پر کوئی فرق پڑے گا یا نہیں۔صحیح اور غلط کا فیصلہ جس طرح اسلام میں کیا گیا ہے کسی اور مذہب میں نہیں کیا گیا اور ہمیں اسی کو مدِ نظر رکھنا چاہیے۔

مرید احمد، کینیڈا:
جب قرآن اور سنت میں یہ صاف کہا گیا ہے کہ خاتوں امامت کا فریضہ سر انجام نہیں دے سکتی تو ہمیں اس بات پر بحث سے گریز کرنا چاہیے۔

سارہ خان، لاہور:
اسلام ایک مکمل دین ہے اور کسی کو اس میں ترمیم کی اجازت نہیں ہے۔ اسلام میں عورت کی امامت کو جائز نہیں قرار دیا گیا لہذا ڈاکٹر امینہ کا عمل اللہ کے احکام کی خلاف ورزی ہے۔

افشین فاطمہ، امریکہ:
اسلام نے عورت کو جتنے حقوق دیے ہیں کسی اور مذہب نے نہیں دیے۔ اسلام کی نظر میں عورت اور مرد برابر ہیں لیکن دونوں اصناف کو کچھ ایسی ذمہ داریاں سونپی گیی ہیں جو کہ اس صنف کے لیے ہی مخصوص ہیں۔ امامت مردوں کا کام ہے اور انہیں ہی کرنا چاہیے۔

فواد فراز، امریکہ:
یہ اسلام کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔ یہود و نصاریٰ اسلام کو ایک ایسے دین کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں جو کے عورت کے حقوق غصب کرتا ہے۔

عبدالمقسط، بھارت:
یہ سستی شہرت حاصل کرنے کا ایک بھونڈا طریقہ ہے۔ دنیا میں ڈیڑھ ارب مسلمان بستے ہیں اور یہ پچاس لوگ مسلمانوں کی نمائندگی نہیں کرتے۔

سلیم احمد خان، کراچی:
یہ ایک تاریخی واقعہ ہے۔ اسلام میں عورت کی امامت کی ممانعت نہیں ہے۔ میں اگر وہاں ہوتا تو اس نماز میں ضرور شریک ہوتا۔

محمد علی بگتی، کراچی:
اسلام میں عورت کو امامت کی اجازت ہوتی تو خواتین گھر میں باجماعت نماز پڑھ سکتیں۔

علی عمران شاہین، لاہور:
جب ایک چیز کا تصور اسلام میں سرے سے ہے ہی نہیں تو بی بی سی اس پر رائے لے کر کیا مطلب حاصل کرنا چاہتی ہے۔ عورت صرف عورتوں کو امامت کروا سکتی ہے اور وہ بھی آگے کھڑے ہوکر نہیں بلکہ ان کے درمیان صف کے اندر۔ جو چیز قرآن و حدیث میں موجود نہ ہو اور نام نہاد مسلمان اس کو شروع کریں تو سیدھی جہنم لے جائے گی۔

نذیر احمد، اونٹاریو:
میں ڈاکٹر امینہ سے اتفاق کرتا ہوں۔

علیحدہ جنس، علیحدہ کام
پتہ نہیں کہ مغربی یورپ اور امریکہ جو سوچتے ہیں اس کو حرفِ آخر کیوں مان لیتے ہیں۔ یہ کیوں بار بار اپنا کلچر ہم پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ قدرت نے مردوزن کی دو علیحدہ جنسیں اس لیے پیدا کی ہیں کہ ان کے کام بھی علیحدہ ہیں۔
اشفاق نذیر، برطانیہ

اشفاق نذیر، برطانیہ:
پتہ نہیں کہ مغربی یورپ اور امریکہ جو سوچتے ہیں اس کو حرفِ آخر کیوں مان لیتے ہیں۔ یہ کیوں بار بار اپنا کلچر ہم پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ قدرت نے مردوزن کی دو علیحدہ جنسیں اس لیے پیدا کی ہیں کہ ان کے کام بھی علیحدہ ہیں۔ اگر ان کام ایک کرنے کی کوشش کی جائے گی تو وہی مسائل پیدا ہوں گے جو امریکہ اور یورپ میں پیدا ہوئے ہیں۔ اگر مرد و عورت کی برابری کا اتنا ہی شوق ہے تو کھیلوں میں ان کے مقابلے علیحدہ علیحدہ کیوں ہیں؟

ترنم ظہور، کینیڈا:
کوئی مسلمان یہ نہیں کرسکتا۔

طاہر احمد، کینیڈا:
اسلام کے بچاؤ کے لیے اس میں اصلاحات ضروری ہیں۔ اس عہدِ جدید میں چودہ سو سال کے قبائلی کلچر میں جامد کردیا گیا مذہب نہیں چل سکتا۔ میں ڈاکٹر امینہ کے نظریات سے اتفاق کرتا ہوں۔

ووٹ
403 Forbidden

Forbidden

You don't have permission to access /cgi-bin/vote.pl on this server.

نتائج عوامي رائے کي سو فيصد نمائندگي نہيں کرتے

فائل فوٹو: پی پی پی کی حامی خواتین کارکن آپ کی رائے
مالاکنڈ: خواتین کو ووٹ نہ ڈالنے دیا گیا
حدود آرڈیننس کے پچیس سالآپ کی رائے
خواتین اور حدود آرڈیننس کے پچیس سال
صائمہ وحیدآپ کی رائے
پاکستان، یورپ اور اسلام میں حقوق نسواں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد