نماز جمعہ میں خاتون کی امامت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک خاتون نے نیو یارک میں جمعے کے نماز میں مشترکہ طور پر مردوں اور خواتین کی امامت کی ہے۔ ڈاکٹر امینہ ودُود نے، جو ورجینیا کامن ویلتھ یونیورسٹی میں اسلامیات کی پروفیسر ہیں، نیو یارک سٹی میں سو سے زائد مرد اور عورتوں کی مشترکہ طور پر جمعہ کے نماز میں امامت کی۔ نماز کا اہتمام ڈاکٹر امینہ اور ان کے کچھ ایسے ساتھیوں نے کیا تھا جو اسلام میں خواتین کو براری کے حقوق کی علمبردار ہیں۔ نماز سے پہلے ڈاکٹر ودود نے کہا کہ ’اسلام میں مروں اور عورتوں کے درمیان برابری کا مسلہ بہت اہم ہے لیکن بدقسمتی سے مسلمانوں نے تاریخ کی ایک بہت ہی محدود تشریح کی ہے جس سے وہ پیچھے رہ گئے ہیں۔‘ ڈاکٹر ودود کا کہنا تھا کہ ’اس نماز سے ہم آگے کی طرف بڑھیں گے۔ یہ قدم اسلام میں موجود امکانات کی علامت ایک ہے۔‘
نماز کا اہتمام ایک گرجا گھر میں کیا گیا تھا کیونکہ مسلم حلقوں میں سخت مخالفت کی وجہ سے کئی مساجد نے منتظمین کو جگہ دینے سے انکار کردیا تھا۔ جس جگہ نماز پڑھائی گئی اس کا اعلان جمعے کی صبح تک نہیں کیا گیا تھا کیونکہ اس سے پہلے اعلان شدہ جگہ کو بم سے اڑانے کی دھمکی دی گئی تھی۔ اس موقع پر گرجا گھر کے باہر ایک درجن سے زیادہ مظاہرین بھی اکھٹے ہوئے تھے جنہوں نے ڈاکٹر امینہ ودود کے خلاف پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ایک خاتون نماز کی سربراہی نہیں کرسکتی اور یہ ڈاکٹر امینہ ودود اسلام کے اصولوں کی خلاف ورزی کررہی ہیں۔ نماز کے دوران گرجا گھر کے ارد گرد پولیس نے حفاظتی انتظامات بھی سخت کر رکھے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||