BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Monday, 11 July, 2005, 10:56 GMT 15:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سریبرینتزا قتل عام : دس سال بعد
سریبرینتزا
دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ میں عام شہریوں کے خلاف ہونے والی یہ سب سے سنگین کارروائی تھی۔
سریبرینتزا میں ہونے والے قتل عام کی اس ہفتے، دسویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔

اس قتل عام میں تقریباً آٹھ ہزار مسلمان مردوں اور لڑکوں کو مشرقی بوسنیا کے اس شہر میں بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ میں عام شہریوں کے خلاف ہونے والی یہ سب سے سنگین کارروائی تھی۔

بوسنیائی سرب فوج نے شہر پر، جسے اقوام متحدہ نے محفوظ قرار دیا تھا، حملہ کر کے مردوں اور لڑکوں کو قتل کر دیا تھا۔

تاہم اس قتل عام کے ملزمان، جن میں بوسنیائی سرب رہنما رادووان کرادزک اور ان کے فوجی کمانڈر جنرل راتکو لادک شامل ہیں، انہیں گرفتار کرکے ان پر مقدمہ چلانے کی کئی کوششوں کے باوجود اب تک آزاد ہیں۔

آپ کا کیا خیال ہے کیا سریبرینتزا کے متاثرین کو انصاف دلانے کے لیے معقول قدم اٹھائے گئے ہیں؟ کیا ملزمان کو سزا دلانے کے لیے وہ سب کچھ کیا جا چکا ہے جو کیا جا سکتا ہے؟

اگر آپ اپنا پیغام موبائل فون سے ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجنا چاہتے ہیں تو ہمارا نمبر ہے: 00447786202200

آپ کی رائے

اب یہ فورم بند ہوچکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔

قیصر، کراچی:
آپ لوگ دنیا کو یہ کیوں نہیں بتاتے کہ انیس سو اکہتر میں پاکستانی فوج نے بنگالیوں کے خلاف کیا مظالم ڈھائے؟

جینک، پریستینا، کوسووا:
قتل عام کے ذمہ داروں کو پکڑنے میں ناکامی کے لئے اقوام متحدہ کی مذمت کی جانی صحیح بات ہوگی۔ ہلاک ہونے والوں کے رشتہ دار ابھی بھی اپنے رشتہ داروں کے بارے میں خبر کا انتظار کررہے ہیں، اور انہیں انصاف نہیں مل رہا۔ بیواؤں کی ذہنی کیفیت کو سمجھ سکتے ہیں، اگر وہ عمر بھر اس خبر کا انتظار کرتی رہیں تو ان کے زخموں پر مرحم کبھی نہیں لگے گا۔

امین اللہ شاہ، پاکستان:
سریبرینتسا کی دسویں برسی، امن، جمہوریت اور انسانی حقوق کے نام نہاد علمبرداروں کو للکار للکار کر کوس رہی ہے کہ اب تم انصافکے جھوٹے دعویدار کہاں ہو؟ قاتل دس برس گزر جانے کے باوجود دندناتے پھر رہے ہیں، تم نے ان کی گرفتاری کے لئے کیا کیا؟ ان کے سر کی قیمت کتنے ملین ڈالر انعام ہے؟ اس لئے شرم سے سر تمہارا جھکا ہوا ہے کہ مرنے والے نہتے مسلمان تھے۔۔۔۔

یونس اعوان، چکوال:
سبھی غیرمسلم ممالک مسلمانوں کے خلاف ہیں۔۔۔

فرہین زہرہ، بالٹیمور، امریکہ:
ہم مسلم رائے دینے سے زیادہ کر بھی کیاکرسکتے ہیں؟ اور اس رائے کی اہمیت ہی کتنی ہوگی؟ جب ہماری جانوں کی کوئی اہمیت نہیں۔ در اصل بویا تو ہم لوگوں نے خود ہی ہے۔ آج کچھ مسلم ممالک میں اتنا پیسہ ہے اور کچھ بھوک اور غربت سے مررہے ہیں، مگر پیسے والوں کو احساس ہی نہیں کہ ان کا ایک بھائی مررہا ہے۔ اور جن کے پاس تھوڑی قابلیت یا علم ہے ان میں اتنی صلاحیت نہیں کہ وہ مسلم دنیا پے ہونے والے مظالم پے کچھ نہیں تو انٹرنیشنل لینگوئج میں ایک ڈاکومنٹری ہی بنا ڈالیں۔ ہم کہیں اور کیوں جائیں، پاکستان میں ہی گھومتے ہیں۔ پاکستان کی فلم انڈسٹری کو انڈین موویز کا چربہ بنانے اوران کی ڈریسیز اور ولگریٹی کاپی کرنے سے ہی فرصت نہیں ملتی تو وہ انگلش ڈاکومنٹری کیسے بنائیں ان مظالم کی؟ اور بنے بھی کیوں؟ اس کام کے لئے تو ایجوکیٹیڈ ہونا ضروری ہے۔ کتابیں لکھے بھی کون، اس کے لئے انٹیلیکچوول ہونا ضروری ہے۔ کون سے میڈیا کے ذریعے آواز پہنچائیں؟۔۔۔

راس، کینیڈا:
یہ اقوام متحدہ کی سب سے بڑی ناکامیوں میں سے ہے۔ جب تک یہ نہیں محسوس کیا جائے گا کہ اس کے دانت بھی ہیں اور جب تک اقوام متحدہ اس طرح کے جرائم روکنے کے لئے کھڑا نہیں ہوتا، اس طرح کے قتل عام ہوتے رہیں گے جیسا کہ ہم نے روانڈا، سوڈان، عراق میں دیکھے ہیں۔ کون اپنی زندگی اقوام متحدہ کے ہاتھ میں دے گا؟

شوکت علی، لاہور:
بوسنیا کے ان مسلمان بھائیوں، ماؤں، بہنوں اور بچوں کی شہادت کی دسویں برسی پر سارے مسلمان صرف آنسو بہاسکتے ہیں کیوں کہ وہ سب وسائل ہونے کے باوجود اتنے بزدل ہوچکے ہیں کہ وہ کچھ نہیں کرسکتے۔

سید حسن، لندن:
جس طرح اس قتل عام کے بارے مںی برطانوی وزیر خارجہ جیک اسٹرا نے معافی مانگ لی ایک دن آئے گا جب برطانوی حکومت بھی عراق پر حملے کے لئے اور ہزاروں نامعلوم مسلمانوں کے قتل کے لئے معافی مانگے گی۔

بجورنار کینسلی، میلبورن:
سریبرینتسا جیسے قتل عام کو روکنا شاید ناممکن ہے۔ جنگیں ہوتی ہیں، اور انہیں روکنے کے لئے دوسری جنگ شروع کرنے کا کوئی مطلب نہیں۔ انصاف کی ضرورت ہے، اور یہ بین الاقوامی قوانین کے ذریعے ممکن ہے۔ بین الاقوامی قانون کام کرتا ہے، آہستہ ہی صحیح۔

صولت سلیم، پاکستان:
اگر اس میں ایک بھی کرسچین مارا گیا ہوتا تو سبھی کہتے کہ مسلمان دہشت گرد ہیں۔

فیض علی، اسلام آباد:
یہ برا ہوا، انسانیت نہیں ہے۔

ڈوائین چیسٹین، اوہائیو:
قتل عام کے ذمہ داروں کو انصاف سے سامنا نہیں ہوا، وہ آزاد گھوم رہے ہیں۔ دریں اثنا قتل، ریپ، دہشت گردی وغیرہ پوری دنیا میں جاری ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ تاریخ کے اس سیاہ دور سے دنیا نے کچھ بھی نہیں سیکھا ہے۔ گزشتہ دس برسوں میں دنیا میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

اے جے:
امیر کے بچے کو چھینک بھی آتی ہے تو سب کو پتہ چلتا ہے۔ جبکہ غریب کی لاش کو دفنانے کا کسی کو ٹائیم نہیں ہے۔ گیارہ ستمبر میں لگ بھگ تین ہزار امریکیوں کی ہلاکت نے ورلڈ آرڈر کو تلپٹ کررکے رکھدیا ہے۔ آٹھ ہزار مسلمانوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ تھینک یو کیپیٹالِزم۔

کورکٹ ایٹلان، استنبول:
میری ماں اور اس کی فیمل کا تعلق بوسنیا سے ہے۔ وہ پوچھتے ہیں: ’’انہوں نے کیوں کیا؟ ہم سوسال تک ایک ساتھ رہتے رہے۔‘‘ میرے خیال میں اس کا کسی کے پاس جواب نہیں ہے۔

عالمگیر بیگ، سویڈن:
یہ لوگ صرف نام کے مسلم ہیں، ورنہ یورپ میں سب سے زیادہ بدنام اور کرِمنل یہی لوگ ہیں۔ ان لوگوں کی وجہ سے دوسرے مسلمانوں کو بھی بدنامی کا سامنا ہوتا ہے۔ اگر میری بات کا یقین نہیں تو آپ کبھی سویڈن میں ایک دن رہ کر خود ہی دکھ لیں یا سویڈِش نیوزپیپر پڑھیں، کم سے کم میں تو ان لوگوں کو مسلم نہیں کہہ سکتا کیوں کہ ان لوگوں نے بھی بہت سے سرب لوگوں کو بغیر کسی وجہ کے قتل کردیا۔

علی عمران، لاہور:
دنیا میں جینے کا ایک اصول، جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔

دیجان، آسٹریلیا:
یہ کافی صدمے کی بات ہے اور اسے یاد رکھا جانا چاہئے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ مغربی میڈیا کی کو سرب لوگوں کی ’شیطان‘ جیسی امیج بنانے کی روش روکنی ہوگی اور تمام حقائق کو سامنے لانا پڑے گا۔ یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ بالکن لڑائی کے دوران اتنے ہی سربوں کی ہلاکتیں ان کے دشمنوں کے ہاتھوں ہوئی ہیں۔ اگر اسے نہیں مانیں گے تو میں محسوس کرتا ہوں کہ سرب قوم کے خلاف بڑی انصافی ہوگی۔

محمد نشاط کھوسو، نواب شاہ:
اقوام متحدہ، امریکہ، برطانیہ کو کیا وہ قاتل دکھائی نہیں دیتے، یا بس مسلمانوں پر ہی الزام لگانے آتے ہیں۔

عبدالغفور، ٹورانٹو:
کس سے انصاف ملنے کی بات کرتے ہیں آپ؟ امن فوج نے پانچ ہزار مسلمانوں کو قربانی کا بکرہ بناکر اپنے چودہ یرغمالی رہا کروالیے، یورپ کی نظر میں مسلمان کی جان؟

انڈریو اسٹامفورڈ، آسٹریلیا:
کافی شرمندگی کی بات ہے کہ یہ سب کچھ پوری دنیا اور اقوام متحدہ کی ناک کے سامنے ہوا۔ اور دس برسوں کے دوران اس کے ذمہ داروں کو پکڑا نہیں جاسکا ہے جو بین الاقوامی برادری پر ایک بڑا دھبہ ہے۔

ظفر حسین، فیصل آباد:
کون سا انصاف جناب! مسلمانوں کا خون تو کویت کے تیل سے بھی سستا ہے۔ کویت کے تیل کی خاطر اقوام متحدہ امریکہ کو عراق پر حملے کی اجازت دے سکتی ہے لیکن بوسنیا کے معاملے میں ایسا نہیں ہوسکتا کیوں کہ وہاں امریکہ بہادر کا کون سا مفاد ہے؟

عبدالرفیق بنگش، دوحہ:
ہم مسلمانوں کے قتل پر اداس ہیں۔

برائیش مسلمان، فرانس:
امریکہ کو مسلمانوں کا قاتل سمجھنے والوں کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ بوسنیا اور کوسووو کے مسلمانوں کو انہی امریکی فوجوں کی مداخلت نے بچایا، نہ کہ نام نہاد یورپی امن فورس نے۔

وکٹر کورڈیئرو، برازیل:
ہر جنگ ایک جرم ہے کیوں کہ جو مارے جاتے ہیں وہ معصوم لوگ ہوتے ہیں۔ کسی بھی طرح کے کرائیم کی مذمت کی جانی چاہئے اور سزانی دینی چاہئے ان لوگوں کو جو ذمہ دار ہیں۔ انسانیت کے لئے یہ وقت ہے جب دوسروں کے ساتھ مل جل کر رہنا سیکھ لیں۔ پوری انسانیت اور اقوام متحدہ کو شرم آنی چاہئے اس پر جو کچھ ہوا سریبرینتسا میں۔

انعام انصاری، ناظم آباد:
جو کچھ سربیا نے کیا وہی امریکہ اور یورپ نے افغانستان اور عراق میں کیا۔ مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ جب ان ملکوں پر نہتے لوگوں پر حملے ہوتے ہیں تو یہ مسلمانوں پر الزام لگاتے ہیں۔ پھر مسلمان یہ نہ کریں تو کیا کریں؟

ایوو، کروشیا:
لڑائی کے دوران نام نہاد بین الاقوامی برادری دیکھتی رہی اور غیرجانبدارانہ کردار ادا کرتی رہی۔ اس غیرجانبداری کا نتیجہ یہ ہوا کہ کئی کیس میں انہوں نے حملہ آور کی مدد کی کیوں کہ جن پر یہ سب بھگتی ان لوگوں کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے، انہیں ہتھیار فروخت کرنے پر پابندی عائد کردی گئی تھی، بالواسطہ یا بلاواسطہ سیاستی مداخلت کے ذریعے۔

کلیم ارشد، فیلاڈیلفیا:
بوسنیا کے قتل عام پے ہالی وُڈ کی فلم سیوویئر دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ جب ہم ان مظالم کو یاد کررہے ہیں، تو ہمیں انٹرنیشنل برادری بالخصوصی کلِنٹن کا امریکہ اور ٹونی بلیئر کے برطانیہ کا شکرگزار ہونا چاہئے جنہوں نے قدم اٹھایا اس رقص ابلیسی کو روکنے کے لئے۔

آرون مجزینی، پریستینا، کوسووو:
سریبرینتسا میں قتل عام بنیادی انسانی حقوق پر ایک حملہ تھا۔ اس نے ثابت کردیا کہ دنیا اور انسانیت کیا کیا کرنے کے قابل ہے۔ میں خود ہی ایک کوسووار البانیائی ہوں، اور میرے ملک میں ہونے والی جنگ سریبرینتسا کی طرح تھی۔ ہمیں یقینی بنانا ہے کہ یہ پھر سے نہ ہو۔

حسن سید شاہ، دوحہ:
اگر کوئی قدم اٹھایا گیا ہوتا تو ملزمان آزاد کیسے ہوتے؟

فرخ مقصود، لاہور:
میرے خیال میں یہ یورپ کی سب کے سامنے آنے والی پالیسی ہے جس میں ان کی ہیومنیٹی کے بارے میں آنے والی باتیں سب کے سامنے آتی ہیں۔ اور رہی بات سزا ملنے کی تو اگر یہ ان لوگوں کو پکڑنا چاہتے تو کب کا پکڑ چکے ہوتے۔ یہ سب اقوام متحدہ کی چھتری کے نیچے ہوا، ۔۔۔۔

ولادمیر، بیوگارڈ، سربیا:
مجھے افسوس اس سب کے لئے جو قتل عام بالکن کے لوگوں کو دیکھنے پڑے۔ ایسا نہ ہو کہ ہم ان لوگوں کو بھول جائیں جو ہلاک ہوگئے، لیکن ساتھ ساتھ اب ہم ملک امن اور تعاون کے دور کی جانب مارچ کریں۔

عابد عزیز، ملتان:
اقوام متحدہ دوسرے مذاہب کے لئے ہے، مسلمانوں کے لئے نہیں۔۔۔۔

سایاکا، شیکاگو:
میں گزشتہ ماہ بوسنیا گیا۔ سریبرینتسا قتل عام کے دس سال گزرنے کے بعد بھی پورے ملک میں اس کے نتائج دیکھ کر بہت افسوس ہوا۔ مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ تمام لوگ جو یوگوسلاویہ میں بہت دن تک ایک شہری کی حیثیت سے رہتے رہے، ایک دوسرے سے کیسے لڑسکتے تھے، مغرب اور اقوام متحدہ آٹھ ہزار مسلمانوں کے قتل عام کو روکنے میں ناکام کیسے رہے؟ میں امید کرتا ہوں کہ بوسنیا میں رہنے والے سبھی لوگ، کروٹ، بوسنیائی مسلم یا سرب پھر سے امن کے ساتھ رہ سکیں۔

راجہ یونس، دمام:
خون ناحق تو کسی کا بھی گرے یہ بہت بڑا ظلم ہے۔ کوئی مسلمان ہو یا کسی اور مذہب سے تعلق رکھنے والا ہر ایک انسان قابل احترام ہونا چاہئے۔ مگر سوویت یونین کے بکھرنے کے بعد میرے خیال میں سب سے زیادہ جانی اور مالی نقصان مسلمانوں کا ہوا ہے۔

ساسا مارکووِچ، بیلگریڈ:
سریبرینتسا کو بھولنے کی ضرورت ہے۔ یوگوسلاویہ کے پس منظر میں اس کا سیاسی استعمال ہوتا ہے، اس کا ذمہ داری اچھالنے کے لئے استعمال ہوتا ہے، کوشش یہ ہونی چاہئے کہ اس قتل عام کے پیچھے حقائق کیا تھے۔ عالمی پس منظر میں سریبرینتسا کو ایسے دیکھا جاتا ہے کہ جب ایسا کچھ ہوتا ہے تو دنیا دوسری جانب نظر گھمالیتی ہے۔ سریبرینتسا کے لوگوں کو یاد رکیں لیکن باقی دوسروں کو بھی یاد کریں جن کے ساتھ سابق یوگوسلاویہ میں زیادتی ہوئی۔

جاوید اقبال ملک، چکوال:
کون سے انصاف کی بات کررہے ہیں؟ یہاں انصاف کس کو ملا ہے؟ یہ تو ماؤں اور والدوں سے پوچھیں جن کے ساتھ یہ ظلم اور زیادتی ہوئی ہے۔ جس ماں کی گود اجڑ گئی، جن کے سہاگ اجڑ گئے، جن کی زندگی کی خوشیاں اور مسکراہٹیں چھین لی گئیں، جن کو بےدردی کے ساتھ مارا گیا۔

سیم ایلڈیز، ترکی:
سریبرینتسا سے باقی یورپ اور باقی دنیا کو سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس سے یہ واضح ہے کہ قوم پرستی ایک خوبصورت بچہ نہیں ہے۔

بےروز گار بابا، جرمنی:
ایک بار پھر بوسنیا کی یاد تازہ، ہم تو اپنے نئے غم بھولتے ہیں، وہ پھر پرانے غم تازہ کرتے ہیں۔ ہمارے تو آنکھوں میں آنسو بھی ختم ہوگئی، جہاں دیکھو ہم پر ظلم، افغانستان، فلسطین، عراق، بوسنیا، کس کس کی یاد منائیں، ان لوگوں کو تو سزا ملنی چاہئے جن لوگوں نے ان آٹھ ہزار بےگناہ لوگوں کی جان لی۔ میری تو اللہ تعالیٰ سے یہ دعاء ہے کہ اللہ ہم سب مسلمانوں کو کامیاب کر سب کو اتفاق عطاکر، ہم کو ظالموں سے بچا اور خود ظالم نہ بنا۔۔۔

روسمیر، لیڈز، یو کے:
سریبرینتسا سے یہ واضح ہوجانا چاہئے کہ ایک انسان دوسرے انسان کے ساتھ کیا کرسکتا ہے۔ یورپ کے لوگوں کو خود سے پوچھنے کی ضرورت ہے کہ اس طرح کے قتل عام روکنے کے لئے وہ کیا کرسکتے ہیں۔ سربیا کے لوگوں کو اس کی مذمت کرنے کی ضرورت ہے اور معافی مانگنے کی ضرورت ہے کیوں کہ یہ سب کچھ ان کے نام پر کیا گیا۔ بوسنیا کے لوگوں کو معاف کرکے عظیم ہونے کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ تبھی ہم بالکن اور یورپ میں اچھے مستقبل کی امید کرسکیں گے۔

محمد شفیق، پاکستان:
یہ ہلاک کیے جانے والے معصوم لوگ امریکی یا یورپی نہیں تھے تاکہ مظالم ڈھانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ یہ مسلمان ہیں جن کے ساتھ صرف ایک جانور کی حیثیت سے سلوک کیا جاتا ہے۔ عراق میں امریکی فورسز کے ذریعے مارے جانے والے لاکھوں مسلمانوں کے بارے میں کون فکر کرتا ہے؟

مارک، امریکہ:
قتل عام روکنے میں اقوام متحدہ کی ناکامیوں کی فہرست میں سریبرینتسا صرف ایک ہے۔ ایسے کئی قتل عام ہیں جنہیں پبلیسٹی نہیں ملتی۔ یہ نام نہاد بین الاقوامی برادری ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے صرف شرمندگی کا اظہار کرتی ہے، لیکن جب حقیقت میں کوئی اس کے بارے میں کچھ کرتا ہے جیسا کہ امریکہ اور برطانیہ نے صدام حسین کے ذریعے ہونے والے قتل عام کو روکنے کی کوشش کی، تو سب اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔

عثمان خان، ریاض:
میں اپنے ان مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے دکھ میں برابر کا شامل ہوں جن کے عزیز اور رشتے دار اس دہشت گردی میں ہلاک ہوئے۔ خیر مجرمین تو سزا پانے سے رہے، لیکن پورے عالم اسلام میں تمام مسلمانوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اب بھی وقت ہے، سمجھ جائیں، اپنے دشمنوں کو پہچان لیں اور خالص اللہ کی رضا اور مستقبل میں اپنی حفاظت کے لئے جہاد فی سبیل اللہ کا علم بلند کریں، اسی میں ہماری عزت اور حفاظت ہے۔

ایگور، بوسنیا:
جنگ کے دوران میں بوسنیا میں تھا، مظالم دونوں جانب سے ڈھائےگئے۔ سبھی کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہئے۔ حکومت مظالم کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لئے جو کچھ بھی ممکن ہے کررہی ہے۔ فیڈرل گورنمنٹ بھی وہی کرے۔

سوباس تاہیم، سعودی عرب:
سبحان اللہ، حسرت ان گنچوں پے ہے جو بن کھلے مرجھا گئے۔ بوسنیا میں جو کچھ ہوا وہ عالم انسانیت کے ماتھے کا داغ ہے جو کبھی نہیں مٹے گا کیوں کہ ان مظلوموں کو کبھی انصاف نہیں ملےگا۔۔۔۔(واضح نہیں)

ایرول، پریستینا، کوسووو:
کافی صدمے کی بات ہے کہ سربرینتسا میں قتل عام کے دس سال بعد بھی سریبرینتسا کے اہلکار اسے قتل عام کہنے سے ہچکچاتے ہیں۔ وہ اب بھی سابق یوگوسلاویہ میں ہونے والے مظالم کی مذمت کرتے ہیں لیکن آٹھ ہزار مردوں اور لڑکوں کی ہلاکت کا نام لیے بغیر جن کا تعلق کسی ایک برادری سے تھا۔

محمد خان، دوبئی:
افسوس کہ سبھی صرف مذمت کرتے ہیں اور سزا دلانے والا کوئی نہیں۔ کہاں ہیں جارج بش وار ٹونی جو ہمیشہ جسٹِسٹ کی بات کرتے نہیں تھکتے؟ اگر وہاں کوئی تیل ہوتا یا کوئی مطلب ہوتا تو فورا گھس جاتے۔

بریندن والش، نیویارک:
سریبرینِتسا کے جنوب میں سوڈان میں دارفور واقع ہے۔ دونوں میں فرق صرف یہ ہے کہ آئندہ دس برسوں میں وہاں کوئی نہیں بچے گا جو مظالم کو یاد رکھے۔

قیصر بتوق، کراچی:
میری سوچ کے مطابق جو ظلم مسلمانوں کے ساتھ ہورہا ہیں وہ ابھی بھی کم ہیں۔ آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ رائے کسی مسلمان کی ہو ہی نہیں سکتی، مگر نہیں۔ یہ ایک مسلمان ہی کی رائے ہے۔مسلمانوں پر یہ جو ظلم ہورہے ہیں یہ ان کے خود کے اعمال ہیں جو سب جانتے ہیں۔ کیا ہم سب اچھے مسلمان ہیں؟ یہ سوال میں اپنے آپ سے اور آپ سب سے پوچھتا ہوں۔ کیا ہم اچھے مسلمان نہیں تو کیا ہم اچھے مسلمان بننے کی کوشش کررہے ہیں؟۔۔۔

ولیم، سلوواکیہ:
سرب لوگوں کا اب بھی اس قتل عام کی اہمیت کو نہ قبول نہ کرنے سے ایسا لگتا ہے کہ پچاس فیصد سرب لوگوں کو یہ یقین بھی نہیں کہ ایسا ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سربیا پر قومیت کا بھوت اب بھی سوار ہے۔

ثنا خان، کراچی:
افسوس کے دس سال گزرنے کے باوجود اصل مجرم پکڑے نہیں گئے، صرف ان آٹھ ہزار مسلمانوں کی یاد منائی جارہی ہے۔ کیا ہی انصاف ہے؟ ان معصومو لوگوں کے لئے دل دکھتا ہے، کیا وہ آٹھ ہزار اتنے معمولی تھے، اب تو پہاڑوں کے الٹرا ساؤنڈ کرتے ہیں مجرم کی تلاش میں، تو کیا یہ مہذب دنیا مسلمانوں کے قاتلوں کو مجرم نہیں سمجھتی؟

66آپ کی رائے
کیا فورسڈ لیبر یا بیگار کوختم کیا جا سکتا ہے؟
66مختصر سفرنامہ
تین سفرنامے پڑھیےاوراپنا لکھ بھیجیے۔
66آپ کی رائے
کیا اقوام متحدہ میں اصلاحات کی ضرورت ہے؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد