 |  کیاسلامتی کونسل میں اصلاحات کی ضرورت ہے؟ |
سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے حال ہی میں اقوام متحدہ میں کئی تبدیلیوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ خصوصی طور پر اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر جاپان، جرمنی، انڈیا، برازیل اور جنوبی افریقہ سمیت کئی ممالک کا مطالبہ ہے کہ انہیں کونسل کی مستقل رکنیت دی جائے۔ عنان نے بھی سلامتی کونسل میں توسیع کی بات کی ہے۔ انہوں نے ایسے نئے قوانین بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے جن کی بنا پر طاقت کا استعمال کیا جاسکے۔ انیس سو نوے کے عشرے میں پیدا ہونے والے خانہ جنگی جیسے مسائل کی وجہ سے بعض ملکوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عالمی برادری کو یہ حق ہونا چاہئے کہ اگر کسی ملک میں حکومت حالات کو قابو نہیں کرسکتی تو اقوام متحدہ فوج بھیج سکے۔ ابھی سکیورٹی کونسل میں صرف پانچ ممالک مستقل رکن ہیں۔ لیکن طاقتور ممالک جیسے جرمنی اور جاپان اور زیادہ آبادی والے ملک جیسے انڈیا کا کہنا ہے کہ انہیں بھی مستقل رکنیت اور ویٹو کا حق ملنا چاہئے۔ مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر سلامتی کونسل میں ویٹو والے کئی ممالک ہوں گے تو یہ ادارہ مؤثر ثابت نہیں ہوگا۔ آپ کے خیال میں اقوام متحدہ میں کن اصلاحات کی ضرورت ہے؟ ساتھ ہی یہ بھی لکھیں کہ کن حالات میں اقوام متحدہ کو کسی ملک میں مداخلت کرنے کا حق ہونا چاہئے؟ اب یہ فورم بند ہو چکا ہے۔قارئین کی رائے سے ایک انتخاب نیچے درج ہے۔
شعیب، بنوں: اقوام متحدہ میں کمزور ملکوں کو بھی برابر کا حق ملنا چاہئے۔ ویٹو کیا ہیں، کمزور کو مزید کمزور بناؤ، طاقتور مزید طاقتور، نیوکلیئر ٹیکنالوجی کسی بھی غریب کا حق نہیں، صرف ویٹو جن کا حق ہیں، یہ اندھی دنیا ہے۔ کوئی آنکھ والا نہیں ہے۔۔۔۔فراز قریشی، کراچی: اقوام متحدہ پر تنقید کرتے ہوئے یہ بات یاد رکھیں کہ اگر اس کا ایک چہرہ دنیا کو برا لگتا ہے تو ایک دوسرا چہرہ بھی ہے۔۔۔ مشرقی تیمور، بوسنیا یا امریکہ کا عراق پر حملہ۔ کسی اور ادارے نے اتنی تنقید امریکہ پر نہیں کی جتنی اقوام متحدہ نے کی ہے۔ جو لوگ اقوام متحدہ کو ایک فیل ادارہ یا بڑی طاقتوں کا ادارہ سمجھتے ہیں میرا ان سے ایک سوال ہے کہ اگر ہم آج اقوام متحدہ کو ختم کردیں تو کیا دنیا کے پاس اس ادارہ جیسا کوئی اور منصوبہ ہے یا نہیں؟ اور وہ یقینا نہیں ہے۔ امجد علی، راولپنڈی: اس کو کارگر ادارہ بنانے کے لئے کم سے کم ایک بڑے مسلم ملک کو سلامتی کونسل کا مستقل رکن بنانا چاہئے۔ افتخار احمد شاعر، قطر: اقوام متحدہ میں اصلاحات بہت ضروری ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ اس ادارے کا بنیادی مقصد تھا وہ پورا نہیں ہوسکا۔ اس کی ایک وجہ بنیادی منشور سے انحراف ہے۔ صرف یہی ایک جگہ ایسی ہے جہاں سب ملکوں کے نمائندے مل بیٹھ کر چائے پی سکتے ہیں۔  | تمام ملکوں کو شامل کیا جائے  یو این میں اصلاحات تو کرنی چاہئے لیکن ایسی اصلاحات چاہئیں جس سے تمام ملک راضی ہوں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ پھر کسی بڑے ملکوں کو اقوام متحدہ کا مستقل ممبر بنادیا جائے اور وہ چھوٹے ملکوں کے حقوق کا خیال نہ کریں۔ اصلاحات میں تمام ملکوں کو شامل کیا جائے تاکہ اصلاحات کو دیرپا اور مفید بنایا جاسکے۔  نجم الحسن، ڈیرہ غازی خان |
نجم الحسن، ڈیرہ غازی خان: اقوام متحدہ کے بارے میں کسی نے کہا تھا کہ اگر پرابلم کسی دو بڑے ملکوں کے درمیان ہوتا ہے تو یو این کی وجہ سے پرابلم گم ہوجاتا ہے۔ اگر پرابلم کسی بڑے اور چھوٹے ملک میں ہوتا ہے تو چھوٹا ملک ہی گم ہوجاتا ہے۔ اور اگر پرابلم کسی دو چھوٹے ملکوں کے درمیان ہوتا ہے تو یو این ہی گم ہوجاتی ہے۔ یو این میں اصلاحات تو کرنی چاہئے لیکن ایسی اصلاحات چاہئیں جس سے تمام ملک راضی ہوں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ پھر کسی بڑے ملکوں کو اقوام متحدہ کا مستقل ممبر بنادیا جائے اور وہ چھوٹے ملکوں کے حقوق کا خیال نہ کریں۔ اصلاحات میں تمام ملکوں کو شامل کیا جائے تاکہ اصلاحات کو دیرپا اور مفید بنایا جاسکے۔ قیصر، بیجنگ: اقوام متحدہ کا اب کچھ نہیں کیا جاسکتا، اب صرف عالمی جنگ ہونی چاہئے تاکہ سب ٹھنڈے ہوجائیں اور جو بچ جائے وہ سکون کی زندگی گزار سکیں۔۔۔۔ فاروق میسین، کراچی: اقوام متحدہ نصف صدی پہلے بنا تھا اور یقینی طور پر یہ بےمعنی ہوگیا ہے کیوں کہ کئی نئی ممالک بنے ہیں۔ کوفی عنان دوسرے ممالک کو شامل کرنے کی بات کرتے ہیں لیکن پچپن مسلم ممالک کو نظرانداز کردیتے ہیں۔ سکیورٹی کونسل میں ان کی مستقل رکنیت کے بارے میں کوئی بات نہیں کرتا۔ سکیورٹی کونسل کی توسیع سے پہلے تمام پرانے تنازعات جو جو سلامتی کونسل کی قراردادوں میں ہیں، حل کرنے کی ضرورت ہے، فوجی مداخلت کے ذریعے۔ اقوام متحدہ کے ذریعے طاقت کے استعمال سے مالتا کی ریاست قائم ہوسکتی ہے، کئی بڑے تنازعات ہیں جن کا میں ذکر نہیں کرنا چاہتا لیکن عراق، اسرائیل اور کشمیر کے معاملے میں اقوام متحدہ کی کوئی قدر نہیں رہی۔۔۔۔ سارہ خان، پشاور: اقوام متحدہ صرف نام ہی کی اقوام متحدہ ہے۔ تمام ممبر ممالک ہمیشہ ایک دوسرے کو زیر کرنے کے درپے ہوتے ہیں۔ لہذا نام بدل کر اقوام نامتحدہ رکھنا چاہئے۔ جہاں زیب سلیم، لاہور: میرے خیال میں اقوام متحدہ میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے کیوں کہ ویٹو پاور والے ممالک اسے اپنے مفاد کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ مثال کے طور پر امریکہ چاہتا ہے کہ اسرائیل بچا رہے اس لئے وہ ہمیشہ اسرائیل کے خلاف قراردادوں پر ویٹو کا استعمال کرتا ہے۔ یہ سب کیا ہے؟ کیا کسی ملک کو اختیار نہیں ہے کہ وہ ان ممالک کے خلاف کچھ کہے؟ میرے خیال میں ویٹو والے ممالک کی تعداد میں اضافہ ہونا چاہئے۔ ویٹو ان ممالک کو ملنا چاہئے جو اعتدال پسند ہیں لیکن انڈیا کو نہیں۔ ان ممالک کو ویٹو نہیں ملنا چاہئے جو اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر نہیں کرسکتے۔ سید عمران، کویت: سلامتی کونسل اب بےکار ہوچکی ہے۔ اس میں اصلاحات کا کوئی فائدہ نہیں ہےْ بش نے پھر بھی اپنی مرضی ہی کرنی ہے۔ عبدالاسحاق، قندھار: اقوام متحدہ صحیح کام کررہا ہے۔ اور ہم امید کرتے ہیں کہ یہ دوسرے مسلم ممالک کے لئے بھی اچھا کام کرے گا۔  | پاکستان کا پہلا حق  اگر ویٹو اور مستقل رکنیت دینی ہے تو پاکستان کا پہلا حق ہے کیوں کہ وہ ساری مسلم دنیا کا نمائندہ ایٹومِک اور میزائل پاور ہے۔ یہ کیا ہوا کہ سارے ہی غیرمسلم مسلمانوں کو مارنے کے لئے ہر طرح کا حق حاصل کرلیں؟  علی عمران شاہین، لاہور |
علی عمران شاہین، لاہور: اقوام متحدہ اگر مسلمانوں کے حق میں منظور کی گئی قراردادوں پر عمل درآمد نہیں کرواسکے تو ہمارا خیال ہے کہ اس کا وجود بھی بےمعنی ہے۔ لگتا ہے کہ یہ مسلمان کو منظم اور قانونی طریقے سے مارنے کا ادارہ ہے۔ کشمیر، فلسطین کی قراردادوں پر ویسے عمل کوئی نہیں ہوا یا ہوتا جیسے عراق یا افغانستان یا لیبیا کے حوالے سے ہوتا ہے۔ اگر ویٹو اور مستقل رکنیت دینی ہے تو پاکستان کا پہلا حق ہے کیوں کہ وہ ساری مسلم دنیا کا نمائندہ ایٹومِک اور میزائل پاور ہے۔ یہ کیا ہوا کہ سارے ہی غیرمسلم مسلمانوں کو مارنے کے لئے ہر طرح کا حق حاصل کرلیں؟ کیا دنیا میں صرف غیرمسلموں کو ہی جینے کا حق ہے؟ یاسر، میرپور: میرے خیال میں اقوام متحدہ کے ہر چارٹر پر بحث کرنے کی ضرورت ہے۔ شاہد ارشاد، خانپور،پاکستان: اقوام متحدہ کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ اس ادارے نے اب تک غریب اور چھوٹے ممالک کے فائدے کےلیے کچھ نہیں کیا۔یہ اب تک امریکہ اور یورپ کے مفادات کا تحفظ کرتا رہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ ادارہ انصاف کے اصولوں کے تحت کام کرے اور صرف انصاف کے حصول کے لیے ملکوں کے داخلی معاملات میں مداخلت کرے۔ سید فرحت علی، نیوساؤتھ ویلز، آسٹریلیا: میرے خیال میں بھارت، جاپان اور جرمنی جیسے ملکوں کو مستقل رکنیت دینے کے بارے میں کچھ کرنا چاہیے لیکن سیکیرٹی کونسل کے ضوابط میں بھی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ سیکیورٹی کونسل کے کسی مستقل رکن کو ایسی قرارداد کو ویٹو کرنے کااختیار نہیں ہونا چاہیے جس میں وہ ملک خود ایک فریق ہو۔ مشرف حسین سید، وہاڑی، پاکستان: وقت آگیا ہے اقوام متحدہ میں بنیادی تبدیلیاں کی جائیں تاہم یہ تبدیلیاں میرٹ کی بنیاد پر ہونا چاہئیں۔ مسلمان اس ادارہ کا ایک بڑا حصہ ہیں اس لیے انہیں بھی سلامتی کونسل کی رکنیت ملنی چاہیے ۔اس کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کو طاقت کے استعمال کا اختیار بھی ہونا چاہیے تاکہ یہ اپنی بات منوا سکے۔ احمد رضا، پشاور، پاکستان: اقوام متحدہ تو امریکہ کے طابع ہے، اس کی اپنی کوئی حیثیت نہیں۔ فیصل چانڈیو، حیدر آباد: ہم اقوام متحدہ کی بےبسی پر ہنس ہی سکتے ہیں۔ جاوید اقبال ملک، چکوال،پاکستان: امریکہ کی ’بدمعاشی‘ کے بعد اقوام متحدہ کا کردار ختم ہو چکا ہے۔ علیم اختر، گجرات، پاکستان: ویٹو کی طاقت نے اقوام متحدہ کو کمزور کر رکھا ہے، اور یہ کہاں کا انصاف ہے دنیا کی تقدیر پانچ ملکوں کے قبضے میں دے دی جائے۔اب ایک انقلاب کی ضرورت ہے کیونکہ سپر پاوروں نے غریب اور مظلوم ملکوں کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ زوار حسین، خیرپور، پاکستان: جن مقاصد کے لیے اقوام متحدہ بنی تھی وہ آج ان سے کوسوں دور دکھائی دیتی ہے۔جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا سلسلہ جوں کا توں جاری ہے۔یہ کیسا انصاف ہے کہ دوسو ملک ایک طرف ہوں اور ایک ویٹو ان سب کو رد کردے۔ عبدالعلی، برگڈورف، سوئٹزرلینڈ: اقوام متحدہ کو ختم کر دینا چاہیے کیونکہ روس کے رہنما لینن نےصحیح کہا تھا کہ یہ ’کچن آف تھیوز‘ ہے۔ ہارون رشید، سیالکوٹ: جب سے یہ ادارہ بنا ہے اس کو پانچ طاقتوں نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ اگر ہم اس تنظیم کو چلانا چاہتے ہیں تو ہم سب کو برابری کی بنیاد پر چلنا ہوگا۔ آفتاب جبار قریشی، دھورو نارو، پاکستان: اقوام متحدہ کا کردار اسلام دشمنی پر مبنی رہا ہے جس کی وجہ سے آج تک کشمیر اور فلسطین کے مسئلے حل نہیں ہو سکے۔ اس کا کردار بہتر کرنے کے لیے بھارت اور پاکستان جیسے ممالک کو مستقل رکنیت ملنی چاہیے۔
 | بندر بانٹ  قراداد پاس کرنے کا عمل مکمل طور پر جمہوری ہونا چاہیے ورنہ اقوام متحدہ ایک بندر بانٹ ہے اور اندھے کے ہاتھ میں بندوق۔  اسد علی، چنیوٹ |
نیاز کشمیری، ابوظہبی: صرف ان ممالک کو مستقل نشست ملنی چاہیے جو اپنے ہمایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتے ہوں اور انسانی حقوق کی پاسداری کرتے ہوں۔اسد علی، چنیوٹ، پاکستان: تمام ممبروں کو ووٹ کا برابر حق ہونا چاہیے اور قراداد پاس کرنے کا عمل مکمل طور پر جمہوری ہونا چاہیے ورنہ اقوام متحدہ ایک بندر بانٹ ہے اور اندھے کے ہاتھ میں بندوق۔ محمد ندیم، ٹورانٹو، کینیڈا: میں محمد احمد مفتی صاحب کی بات سے متفق ہوں کہ اقوام متحدہ کو ایک فلاحی ادارہ بنا دینا چاہیے۔ عبدالرؤف ڈتھو، ٹورانٹو، کینیڈا: اقوام متحدہ بنانے کا جو اولین مقصد تھا وہ تو پورا نہیں ہوا بلکہ تشدد اور دہشت گردی فروغ پا رہی ہے۔ اگر اقوام متحدہ کا کردار صحیح ہوتا تو شاید آج دنیا کی یہ حالت نہ ہوتی۔ آج حالت یہ ہے اقوام متحدہ وہی کرتا ہے جو امریکہ چاہتا ہے اور اس کے ممبر ممالک اپنے ہاں چھوٹی قوموں کو حقوق دینا نہیں چاہتے۔ نوید نقوی، کراچی: اقوام متحدہ میں ابھی کسی فوری تبدیلی کی ضرورت نہیں اور اگر واقعی تبدیلی لانا ضروری ہو چکا ہے تو مسلم دنیا کے کسی طاقتور ملک کو سلامتی کونسل میں نشست ملنی چاہیے۔ پاکستان سے بڑھ کر اس وقت کوئی مسلمان ملک اس کے لیے مناسب نہیں۔ اس سے اقوام متحدہ پر مسلمانوں کا اعتماد بحال ہوگا۔ کسی ملک میں اقوام متحدہ کو صرف اس وقت مداخلت کرنی چاہیے جب وہاں پر خانہ جنگی کی صورت حال ہویا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہو۔
 | کامیاب ادارہ  اقوام متحدہ بنانے کا مقصد امن و اتحاد اور تیسری دنیا میں جنگ کو روکنا تھا اور یہ حقیقت ہے کہ یہ تیسری دنیا میں جنگوں کو روکنے میں کامیاب رہا ہے۔  آصف رفیق،لائبیریا |
آصف رفیق، لائبیریا،لائبیریا: اقوام متحدہ بنانے کا مقصد امن و اتحاد اور تیسری دنیا میں جنگ کو روکنا تھا اور یہ حقیقت ہے کہ یہ تیسری دنیا میں جنگوں کو روکنے میں کامیاب رہا ہے۔ ایک بہت بڑی تنظیم ہونے کے ناطے کہ جس میں مختلف سیاسی، جغرافیائی اور مذہبی پس منظر اور نظریات کے ملک شامل ہوں، ہم آہنگی پیدا کرنا مشکل کام ہے۔ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ طاقتور کی رائے کمزوروں پربہرحال حاوی ہوتی ہے۔اقوام متحدہ پر تنقید کرتے ہوئے بہرحال ہمیں صبر کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ تیسر دنیا میں مہاجرین، خوراک، رہائش کے مسائل حل کرنے اورامن قائم رکھنے کے سلسلے میں اقوام متحدہ کا کردار تعریف کے قابل ہے۔ سید رضوی، اسلام آباد: میں یو این او کو صرف ایک فقرے میں بیان کروں گا اور وہ یہ ہے ’ یو ایس اے کا یو ہے اس میں، باقی سب نو ہی نو‘۔ سید حیدر علی، منڈی بہاوالدین، پاکستان: اقوام متحدہ کا کوئی کردار ہی نہیں ہے، یہ ایک کٹھ پتلی ہے دنیا کی بڑی طاقتوں کے ہاتھ میں۔ غریب ملکوں کے لیے اقوام متحدہ نے کیا کیا ہے؟ مسلمان ملکوں کے ساتھ تو اس کا سلوک سوتیلی ماں سے بھی برا ہے۔ کشمیر، فلسطین، عراق، بوسنیا کے لیے کیا کیا ہے؟ اقوام متحدہ نے عراق پر حملے کی مخالفت کی لیکن امریکہ نے اس کی نہیں سنی۔ اس ادارے کو تو اب ختم کر دینا چاہیے ورنہ اس کا حال بھی لیگ آف نیشن جیسا ہی ہو گا۔ محمد ایاز اعوان،اسلام آباد: اقوام متحدہ کے ذرائع اور اس کے اختیارات میں بہت سی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ یاد رہے، اقوام متحدہ صرف غریب ملکوں کے لیے نہیں بلکہ دنیا کے تمام ملکوں کے لیے ہے۔ کامران، لاہور، پاکستان: بڑی طاقتوں کے خلاف اقوام متحدہ کو مضبوط ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ غریب ملکوں کے لیے اقوام متحدہ کی حیثیت خدا جیسی ہے۔ ندیم رانا، بارسلونا، سپین: اقوام متحدہ کو بڑھانے کی کوئی ضرورت نہیں، جس بات کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ اسے زیادہ موثر اور طاقتور بنایا جائے۔ اقوام متحدہ میں توازن لانے کی ضرورت ہے۔ اکرم رامے، ٹورانٹو، کینیڈا: اقوام متحدہ کسی طور بھی صحیح کام نہیں کر رہا۔ جب تک کچھ ممالک کو ویٹو کا حق رہے گا اس وقت تک کوئی فیصلہ انصاف پر نہیں ہو سکتا۔ میں سیکٹری جنرل صاحب سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب پہلے ہی پانچ تھانیدار موجود ہیں تو وہ اقوام متحدہ میں مزید ممالک کو لا کر کیا کرنا چاہتے ہیں۔  | سیاسی کردار ختم  میرے خیال میں اقوام متحدہ کے سیاسی کردار کو ختم کردینا چاہئے۔ طاقت کا جواب صرف طاقت ہی ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ کی تاریخ سے اخذ کی جاسکتی ہے۔ اقوام متحدہ نے بوسنیا، کشمیر، عراق اور فلسطین میں کیا کر لیا؟  محمد احمد مفتی، کینیڈا | محمد احمد مفتی، کینیڈا: میرے خیال میں اقوام متحدہ کے سیاسی کردار کو ختم کردینا چاہئے۔ طاقت کا جواب صرف طاقت ہی ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ کی تاریخ سے اخذ کی جاسکتی ہے۔ اقوام متحدہ نے بوسنیا، کشمیر، عراق اور فلسطین میں کیا کر لیا؟ شرم کی بات ہے کہ عراق کے معاملے پر تو اقوام متحدہ لفظی مذمت تک نہ کرسکی۔ یہ ایک ناکام تصور پر مبنی ادارہ ہے۔ اس کو ہمیشہ مغربی طاقتوں نے استعمال کیا ہے۔ میرے خیال میں دنیا کے مظلوموں کو یہ ادارہ انصاف اور تحفظ نہ دے سکا ہے اس کے لئے بہترین اصلاح یہ ہے کہ اس کا کردار صرف رفاحی کردیا جائے۔
شیر یار خان، سنگاپور: دنیا کے حالات گزشتہ ایک صدی سے مسلسل غیرسکونی اور تشدد پزیر ہوتے جارہے ہیں اور اقوام متحدہ جیسا ادارہ بھی بالکل بےبس سا ہوکر رہ گیا ہے۔ اقوام متحدہ میں اصلاحات کی ضرورت پچھلے پچاس سالوں سے ناگزیر ہوچکی ہے اور اب تو اس ادارے کو ترجیحی بنیادوں پر نئے تقاضوں کے مطابق بدلنا چاہئے۔ دنیا کے سب ممالک کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ پہلے تو اقوام متحدہ کے بنیادی اصولوں کو بدل کر اسے حقیق ویسٹرن جموہری طرز پر ڈالا جائے کہ کوئی بھی ملک ویٹو اور سکیورٹی کونسل جیسے سیسٹم کی ضرورت محسوس نہ کرے۔ ایک تجویز یہ بھی ہے کہ موجودہ یو این او کو ایسے ہی چلنے دیں اور اس کے مقابلے میں ایک اور اقوام متحدہ جیسا ادارہ قائم کیا جائے جو کہ ویٹو اور سکیورٹی کونسل جیسا نہ ہو۔۔۔۔ گل انقلابی سندھی، دادو: اقوام متحدہ میں اصلاحات کی ضرورت ہے: اس میں چوتھی دنیا کے قوموں کو شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ چوتھی دنیا کے وہ ملک ہیں جو آزاد ہیں لیکن غربت کے تحت دبے ہوئے ہیں۔ یہ اقوام ہیں بلوچستان، کشمیر، سندھ، کردستان، وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ نا معلوم: میرے خیال میں سکیورٹی کونسل کو کشمیر میں منعقد کیا جانا چاہئے۔ اصغر خان، چین: مجھے انتہا پسند نہیں کہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اقوام متحدہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کن حقوق کا تحفظ کیا ہے اقوام متحدہ نے اپنے قیام سے اب تک؟ دوسری بات یہ کہ ویٹو پاور کچھ ملکوں کے ہاتھ میں ہے، جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔۔۔۔۔ عبدالغفور، ٹورانٹو: اقوام متحدہ جیسے ادارے میں یوں تو بےشمار اصلاحات کی ضرورت ہے مگر سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسے امریکہ جیسے طاقتور ملک کے اثر سے نکال کر غیرجانبدار ادارہ بنایا جائے۔ اگر ایسا ممکن نہیں تو پھر اس ادارے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ جہاں تک بات سکیورٹی کونسل کی توسیع کی تو میرے خیال میں بھارت کا مستقبل ممبر ہونے کا مطلب کوئی ایسا غلط نہیں لگتا۔ مگر اس بات کی کون ضمانت دے گا کہ بھارت اس پوزیشن کو اپنے ہمسائے ممالک پر دباؤ بڑھانے میں استعمال نہیں کرے گا؟ ملک، لاہور: میرے خیال میں پہلے اقوام متحدہ کو جمہوری ہونے کی ضرورت ہے۔ ویٹو پاور پر پابندی ہونی چاہئے کیوں کہ اس کے ذریعے تنازعات کو جاری رکھنے کا طریقہ حاصل ہوجاتا ہے۔ ویٹو فطرت سے غیرجمہوری ہے۔ علی چشتی، کراچی: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی توسیع نہیں کی جانی چاہئے کیوں کہ ایک ملک نے دوسرے ملک کو تباہ کرنے کا ذریعہ حاصل کرلیا ہے جیسے نیوکلیئر بم۔ سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت ان ممالک کو دی جائے جو جموریت ہیں اور انسانی حقوق میں ان کا ریکارڈ اچھا ہے، ان کی معیشت بہتر ہے اور ایسے ملک جو سفارت کاری میں یقین کرتے ہیں نہ کہ جنگ میں۔ بدقسمتی سے انڈیا جیسے ممالک کو ویٹو پاور نہیں مل سکتا کیوں کہ وہ کشمیر کے معاملے میں سلامتی کونسل کی قراردادوں کو نظرانداز کرتے رہے ہیں۔۔۔۔۔ |