 |  لندن میں دھماکوں پر جی ایٹ کا بیان جاری کرنے کے بعد جی ایٹ رہنما |
چھ سے آٹھ جولائی کے درمیان برطانیہ کے شہر گلین ایگل میں منعقد ہونے والے امیر ممالک کی تنظیم جی ایٹ کے اجلاس کے موقع پر بی بی سی کے قارئین نے دنیا بھر سے جی ایٹ رہنماؤں کو افریقہ میں غربت اور درجۂ حرارت میں تبدیلی جیسے معاملات پر بی بی سی کی مختلف زبانوں کی ویب سائٹوں کے ذریعے اپنے پیغامات بھیجے ہیں جو حسب ذیل ہیں۔
کینٹ، کینیڈا: یہ اچھی بات ہے کہ طاقتور ممالک غریب افریقیوں کی مدد کررہے ہیں۔ لیکن سوال ہے کہ کیا صحیح میں اس سے غربت کا حل مل جائے گا؟ اگر پانچ سالوں میں افریقہ مزید امیر نہیں ہوتا تو اس مدد سے کیا مل جائے گا؟ عارضی مدد کچھ ایسے ہی ہے جیسا کہ ڈاکٹر کی بجائے کوئی پجاری مدد کرے۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ غریب ممالک کی حکومتیں کیا سوچتی ہیں۔ روس کی جانب سے مدد کے بارے میں کیا سوچتے ہیں جسے اندرون ملک ہی مدد کی ضرورت ہے؟ اگر قرضے واپس نہیں ملنے والے ہیں تو معاف ہی کیوں نہ کردیں؟ ووڈی، روس: جب ہم دیکھیں گے کہ جدید معاشرے میں جیپسی لوگوں کو قبول کرلیا گیا ہے تب مجھے یقین ہوجائےگا کہ کہیں سے غربت کے خاتمے کی بات سمجھ میں آنے والی بات ہے۔ ہمیں اپنے یہاں سے ہی شروع کرنا چاہئے۔ سویٹلانا سیڈی، یوکرین: میں امید کرتی ہوں کہ جی ایٹ کے رہنما زندگی میں یقین کریں، اور انسانی فطرت کے ساتھ زیادتی نہ کریں۔ انسان ہمیشہ سے امن اور خوشی کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں، اور صرف ووٹر کی حیثیت سے نہیں جن کی قیادت کسی بھی سمت میں کی جائے۔ دنیا کو امن کی ضرورت ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ کی نہیں۔ دہشت گردی کی بنیادیں ملٹری انڈسٹری کی لالچ میں ہیں، جو سیاست دانوں اور ٹیکس دینے والوں کے ذہن پر اثرانداز ہوتی ہے، جن کے لئے دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک منظمانہ پاگلپن ہے۔ اسی لئے دہشت گردی مخالف جنگ دہشت گردی سے بھی بری دوا ہے۔ امن کو موقع دیں! جی ایٹ کے رہنما آج کے فیصلوں کے لئے خدا اور انسانیت کے سامنے جوابدہ ہیں۔ عبداللہ، تریپولی، لیبیا: میرے خیال میں غریب ممالک کو پیسے دینا ایک مجرمانہ کام ہے۔ امیر ممالک کو چاہئے کہ غریب ملکوں کو لون نہ دیں کیوں کہ یہ ان تک نہیں پہنچتا ہے۔ پیسہ مقامی بااثر طبقے کے ہاتھوں میں پہنچ جاتا ہے، جبکہ لوگوں کو سب کچھ بھگتنا پڑتا ہے۔ ان ممالک میں لوگوں کے حق میں جو منصوبے ہیں ان میں انویسٹمنٹ ہونی چاہئے، امداد دینے والے ممالک کی نگرانی میں۔ جونی ویلائریس، کوسٹا ریکا: جی ایٹ رہنماؤں کو ایک چھوٹا سا پیغام: کچھ دنوں کے لئے دنیا کے غریب ترین علاقوں میں جاکر زندگی گزاریں اور عوام کے زمینی مسائل کو دیکھیں، محسوس کریں اور مطالعہ کریں جنہیں آپ صرف اعداد و شمار کے ذریعے ہی جانتے ہیں۔ الیکس اوساچوف، روسی: غربت انسانیت کے لئے ایک بڑا حادثہ ہے۔ ایک بڑے حادثے میں لوگ اس کے بارے میں بات نہیں کرتے، اس کی نشاندہی نہیں کرپاتے۔ روس قوت میں بڑھ رہا ہے، ہمیں افریقی بچوں کی مدد کرنی چاہئے، ہمیں جی ایٹ ممالک کے صف میں کھڑا ہونا ہے۔ ابیلینو بوکالاندرو، کیوبا: میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں: پھر دوبارہ نہ ملیں کیوں کہ آپ کے اجلاس ایک بین الاقومی سیاست شو ہیں۔ میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں: آپ ترقی پزیر ممالک کے بیرونے قرضے کب معاف کریں گے، آپ عراق سے کب باہر ہوں گے، اور افریقہ میں صحت عامہ کی مالی مدد کب کریں گے؟ ایس ایرگونیوف، روس: بہت لڑائی ہوچکی۔ اس کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ حالات خراب ہی ہورہے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ لوگ غریب اور دہشت گرد ہیں۔ اور ان کوششوں نے فطرت کے ساتھ کیا کیا ہے؟ علم طبیعات کا قانون ہے کہ ہر اقدام کا ایک الٹا رژلٹ ہوتا ہے۔ صرف ایک ہی حل ہے: لائحۂ عمل میں تبدیلی کریں۔ ہمیں غربت کے خلاف لڑائی کی ضرورت نہیں، مدد اور ہمدردی کی ضرورت ہے۔ دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے بندوق کی ضرورت نہیں، علقمندی اور قوت برداشت کی ضرورت ہے۔ لیکن اس سب کا اب کوئی مطلب نہیں ہے۔ ہم فطرت کے ساتھ نہیں چل رہے ہیں۔ ہمیں ایسا کرنا چاہئے تھا۔ دنیا کا انتظام عقلمند لوگوں کے ہاتھ میں ہونا چاہئے، نہ کہ لالچی لوگوں کے ہاتھ میں۔ میشا، اسرائیل: ماحول میں تبدیلی اور غربت کے خلاف جنگ کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ دونوں کے درمیان واحد فرق یہ ہے کہ غربت سبجیکٹِو ہے جبکہ درجۂ حرات میں تبدیلی آبجیکٹِو حقیقت ہے۔ لیکن نتیجہ بالکل ایک ہی ہے، اعداد و شمار نہیں بدلتے، لیکن میرا ایک سوال ہے: ایسا کیوں ہے کہ سامراجیت کے خاتمے کے چالیس سال بعد بھی آزادی اور دیگر معیار پر افریقہ کی حالت خراب ہی ہوئی ہے؟ مزید یہ کہ پورا براعظم ہی تباہ ہوگیا ہوتا اگر جمہوری ممالک نے ان کی مدد نہیں کی ہوتی۔ سرجیو، ایسٹونیا: میں جی ایٹ کے رہنماؤں کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا کہ وہ صرف اپنے ہی ممالک کے مسائل کا حل نہیں کررہے، بلکہ دوسرے لوگوں کے مسائل کا حل کررہے ہیں۔ انہیں مجھ سے زیادہ معلوم ہے کہ کیا کرناچاہئے۔ روس ایک امیر ملک ہے جو صرف غریبوں کی ہی مدد نہیں کرتا بلکہ امیر ممالک کی بھی مدد کرتا ہے۔ وہ اس قابل ہے۔ ہیکٹر جے، بوگوٹا: امریکہ: عراق کو تیل اور امن واپس کریں۔ جی ایٹ کو: ماحولیات کی تباہی اور دنیا سے غربت کے خاتمے کو روکنے کے لئےاقدامات کریں۔ یعقوب عبدالغنی، مراکش: غریب ممالک کو ملنے والے لون کا بیشتر حصہ بیرون مملک واقع بینکوں میں ان غریب ممالک کے حکمرانوں کے کھاتوں میں پہنچ جاتا ہے۔ آپ کو یہ معلوم ہونا چاہئے: ان ممالک کے رہنما جی ایٹ اجلاس کی کامیابی کی دعا کرتے ہیں، اسی کامیابی سے تو ان کا پاکٹ بھرتا ہے۔ جہاں تک غریب لوگوں کی بات ہے تو وہ جہنم میں جائیں! ہوزے الیاگا، پرو: دنیا میں امن قائم کریں، ہتھیار بنانا بند کریں جو غریب ممالک کے دوسرے کو تباہ کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں، تیسری دنیا میں ترقی کو فروغ دیں، گورنمنٹ کرپشن کے خاتمے کے لئے اقدامات کریں۔ |