BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 03 August, 2005, 09:00 GMT 14:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ میں لندن دھماکوں کی گونج

امریکی مسلمان
امریکی مسلمان ہر طرح سے عام امریکی آبادی کو باور کروانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ امریکہ کے پر امن شہری ہیں
اگر امریکی میڈیا امریکی عوام کی ترجمانی کر رہا ہے تو یہ امر واضح ہے کہ لندن میں دہشت گردی کے واقعات کا برطانیہ سے زیادہ اثر امریکہ پر نظر آرہا ہے۔

اکثر مسلمانوں کو ایسا محسوس ہورہا ہے کہ اگر 11/9 یا 7/7 سے بھی بہت کم اہمیت کا واقعہ امریکہ میں ہوگیا تو اس ملک میں مسلمانوں کا رہنا دوبھر ہو جائےگا۔

ویسے تو ایسی حرکت کرنے والے مذہبی جنونیوں کی کمی نہیں ہے لیکن مسلمانوں کو خدشہ ہے کہ ضروری نہیں کہ اس طرح کا واقعہ کوئی مسلمان دہشت گرد تنظیم ہی کرے: ایسے مسلمان دشمن گروہوں کی کمی نہیں ہے جو مسلمانوں کو امریکہ سے دیس نکالا دلوانا چاہتے ہیں۔

بہرحال اگر امریکی مسلمانوں کے خدشات سچے ثابت ہوئے تو اس کا حل پاکستان کے سابق سفیر جنرل جہانگیر کرامت کے پاس بھی دعا کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔

لندن میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد امریکہ میں مسلمانوں اور اسلام کے خلاف جس طرح نفرت کا کھلم کھلا اظہار کیا گیا وہ تو 11/9 کے بعد بھی نہیں ہوا تھا۔

مسجدوں پر حملے تو ہوئے ہی کولوراڈو کے ایک کانگرس مین ٹام تنکریڈو نے برملا تجویز دی کہ اگر مسلمان امریکہ پر کوئی دہشت گرد حملہ کریں تو امریکہ کو مکہ معظمہ اور دوسرے متبرک مقامات پر حملہ کر دینا چاہئیے۔

مسلمان تنظیموں نے بہت شور مچایا لیکن موصوف نے اپنا بیان واپس لینے یا معذرت کرنے سے انکار کردیا۔

اسی طرح واشنگٹن کے ڈبلیو ایم اے ایل ریڈیو کے ایک میزبان مائیکل گراہم نے کہا کہ مسئلہ صرف مسلمان دہشت گرد تنظیموں کا نہیں ہے بلکہ مسئلہ اسلام کا ہے جو کہ ایک دہشت گرد نظام ہے۔

انہوں نے یہ جملہ بار بار دہرایا اور کانگرس مین کی طرح ہی معذرت کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ اسی نقطہ نظر کو عالمانہ انداز میں پیش کرتے ہوئے نیویارک ٹائمز کے مشہور کالم نگار تھامس فریڈمین نے کہا کہ دہشت گردی کو روکنا تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔

اگر امریکہ جناب فریڈمین کی منطق کو اپنا لے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر کوئی ایک نام نہاد مسلمان بھی دہشت گردی کا ارتکاب کرے تو اس کی سزا سارے امریکی مسلمانوں کو دی جائے۔

یہ وہ ماڈل ہے جو کہ اسرائیل نے فلسطینیوں کے خلاف استعمال کیا ہے۔ امریکی سیکورٹی کے معاملات میں اسرائیل کو گرو مانتے ہیں اور زیادہ امکان یہی ہے کہ وہ بالآخر انہی کی تقلید کریں گے۔ یعنی پوری اسلامی دنیا کو فلسطین سمجھ کر حکمت عملی ترتیب دی جائے گی۔

انہی خطرات کو بھاپنتے ہوئے فقہ کونسل آف نارتھ امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف فتویٰ جاری کیا ہے ۔ اس فتویٰ کو امریکی مسلمانوں کی 120 تنظیموں کی حمایت حاصل ہے۔ فتویٰ میں مندرجہ ذیل تین نکات پیش کیے گئے ہیں۔

اول: دہشت گردی کے وہ تمام افعال حرام قرار دئیے جاتے ہیں جن کا مقصد معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا ہے ۔

دوئم: دہشت گردوں کے ساتھ تعاون کرنے والے بھی حرام فعل کے مرتکب قرار دئیے جائیں گے۔

سوئم: یہ مسلمانوں کی مذہبی اور معاشرتی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔

فتویٰ کے علاوہ بہت سی مسلمان تنظیموں نے دہشت گردی کے خلاف جلسے کئے ہیں اور جلوس نکالے ہیں۔ غرضیکہ امریکی مسلمان ہر طرح سے عام امریکی آبادی کو باور کروانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ امریکہ کے پر امن شہری ہیں۔

عام امریکی شاید ان پر یقین بھی کر لیں لیکن امریکی میڈیا (بالخصوص فوکس اور سی این این ) کا کیا جائے جو ہر پندرہ منٹ کے بعد لوگوں کو مسلمان دہشت گردوں کی یاد دلا رہے ہیں۔ شاید یہ میڈیا ان مفادات کی نمائندگی کر رہا ہے جس کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ اس کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہے کہ عام مسلمان کس حد تک دہشت گردی کے واقعات کا حصہ ہیں۔

مسلمان سوئے ہوئے امریکیوں کو تو جگا لیں گے لیکن ان کو کیسے جگائیں جو پہلے سے ہی جاگ رہے ہیں۔

اس سلسلے میں پاکستان کے سفارت کار بھی سوائے پریشان ہونے کے کچھ نہیں کر سکتے۔ ان میں کچھ حضرات تو یہاں تک بھی کہتے ہیں کہ امریکہ میں 7/7 جیسا واقعے کا ہونا ناگزیر ہے، سوال صرف یہ ہے کہ یہ آفت کب ٹوٹتی ہے۔

جان بولٹن کی تقرری
واشنگٹن کے سفارتی حلقے جان بولٹن کی اقوام متحدہ میں تقرری کو بھی کسی آفت سے کم نہیں سمجھتے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ تقرری بش انتظامیہ کے غیر جموری رویے کا ایک اور ثبوت ہے۔ یعنی بش ہر قیمت پر اپنے نظریاتی ایجنڈے کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے لیے یہ اہم نہیں ہے کہ وہ اپنا مقصد جموری یا غیر جمہوری ڈھنگ سے حاصل کرتے ہیں۔

مبصرین کا یہ بھی خیال ہے کہ جناب جان بولٹن کو اقوام متحدہ کی اصلاح کے لیے تو بھیجا نہیں جا رہا کیونکہ وہ ملک اقوام متحدہ کی کیا اصلاح کرے گا جس کے دامن پر اپنے ملک کے اینران جیسی بدعنوانی کا دھبہ لگا ہوا ہو یا جو خود عراق کے آٹھ بلین ڈالر کا حساب نہ دے سکتا ہو۔

اس لیے واضح ہے کہ جان بولٹن کو اسی کام کے لیے اقوام متحدہ میں بھیجا جا رہا ہے جس کے لیے وہ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں بد نام تھے۔

ان کی وجہ شہرت یا بدنامی یہ ہے کہ وہ اختلاف رائے رکھنے والے ہر شخص کو انتہائی ذلت سے اپنے راستے سے ہٹا دیتے ہیں۔ وہ سچائی کی بجائے اپنے نظریے کو فوقیت دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ دنیا میں امریکہ کے علاوہ کسے ملک کے بھی مفادات نہیں ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے ممالک کو سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ماتحتوں کی طرح ڈراییں دھمکائیں گے۔

تجزیہ نگاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ ان کواتنی شد و مد سے اس لیے بھیجا جا رہا ہے کہ وہ ایران کو اقوام متحدہ کے کٹہرے میں کھڑا کریں اور اس پر ہر طرح کی پابندیاں لگوائیں۔

وہ واشنگٹن میں نیو کانز کا حصہ سمجھے جاتے ہیں اور وہ انہی کے ایجنڈے پر کام کریں گے۔ یہ تو سب کو معلوم ہی ہے کہ عراق پر حملے کے بعد ایران نیو کانز کے ایجنڈے پر سر فہرست ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد