واشنگٹن ڈائری منظور اعجاز |  |
 |  اگرچہ بلیئر الیکشن جیت چکے ہیں لیکن لیبر کیمپ میں فتح کا جشن نہیں منایا گیا |
برطانیہ میں الیکشن کی رات بڑے بڑے امریکی ٹی وی چینل گھما گھما کر دیکھے لیکن کوئی بھی نتائج کا اعلان نہیں کر رہا تھا۔ اگلی صبح ٹی وی ریڈیو اور اخباروں میں برطانوی الیکشن کے بارے میں اسی طرح خبریں دیکھنے میں آئیں جس طرح ایسے موقع پر کسی بھی دور دراز کے غیر متعلقہ ملک کے بارے میں خبر دی جاتی ہے۔ ان طرح کی کوریج سے ایسا ہرگز نہیں لگا کہ امریکہ کے قریب ترین اتحادی ملک اور اس کے وزیر اعظم کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا تھا۔ دفتر پہنچے تو کسی ایک شخص نے بھی برطانوی انتخابات کا ذکر نہیں کیا ۔ تھوڑا سا کریدنے پر پتہ چلا کہ کسی کو علم ہی نہیں کہ برطانیہ میں الیکشن ہورہے ہیں۔ اس لئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ امریکہ میں برطانوی انتخابات کے ردعمل کی اصل کہانی یہ ہے کہ عوامی سطح پر اسے مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔ واشنگٹن پوسٹ کے صفحہ اول پر وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور ان کی اہلیہ کی تصویر دیکھ کر حوصلہ ہوا کہ امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن سے شائع ہونے والے اخبار میں تو برطانوی انتخابات اداریے کا موصوع بنے ہوں گے لیکن وہاں تو امیگریشن سے متعلقہ نئے قوانین اور ماحولیات کو موضوع بنایا گیا تھا۔ ایک آدھ کالم نظر آیا لیکن اس کو پڑھ کے لگا کہ یہ نہ ہی ہوتا تو بہتر تھا۔ نیویارک ٹائمز اور دوسرے اخباروں کا بھی یہی حال نظر آیا۔ بہت سے لوگ کہیں گے کہ آخر یہ بات حیرت انگیز کیوں ہے؟ چودھریوں کے گھر میں ہونے والی تقریبات کا تو سارے گاؤں کو علم ہوتا ہے لیکن یہ تو ضروری نہیں ہے کہ چھوٹے لوگوں کی زندگی کی واردات کا چودھریوں کےگھر میں بھی علم ہو؟ امریکہ کے انتخابات میں تو سارے جہان کو دلچسپی اس لئے ہوتی ہے کہ اس کے نتائج یہ بتائیں گے کہ اگلے چار سال میں کونسے اور کتنے ملکوں پر حملہ ہونا ہے یا کتنے ملکوں کی حکومتوں کا اکھاڑ پچھاڑ ہونا ہے۔ اب برطانیہ کے انتخابات میں (یا کسی بھی اور ملک کے) امریکی کیوں دلچسپی لیں جب ان کو معلوم ہے کہ جو بھی آئے گا ان کا تابع دار ہوگا یا بنا لیا جائے گا۔ امریکی عوام کے ذہن میں ان کا ملک اپنی ذات میں ایک ایسا عالم ہے جس کا باقی دنیا سے کسی طرح کا تعلق ہونا ضروری نہیں ہے۔ امریکہ میں ہونے والے تمام طرح کے مقابلے عالمی کہلاتے ہیں حالانکہ ان میں امریکہ کے علاوہ کوئی ٹیم یا تنظیم حصہ نہیں لے رہے ہوتی۔ پورا امریکہ کیا جنوبی اور شمالی ریاستوں والے اپنے اپنے ’عالمی‘ مقابلے ایک دوسرے کو شامل کئے بغیر بھی کروا سکتے ہیں۔ امریکہ کے مقبول ترین کھیل تک اپنے ہیں ۔ ان کا ہاتھوں سے کھیلا جانے والا ’فٹ بال‘ اور بیس بال دنیا میں کم ہی کھیلا جاتا ہے اور یورپ اور باقی دنیا میں کھیلے جانے والا فٹ بال یا ساکر بال امریکہ میں صرف بچے کھیلتے ہیں۔ برطانیہ اور اس کی نو آبادیات (امریکہ کو چھوڑ کر ) کی مقبول کھیل کرکٹ بھی امریکہ میں کہیں نہیں کھیلی جاتی۔ امریکہ نے اپنے سابقہ نو آبادیاتی آقا کی تقلید تو کیا اس کی زد میں قواعد و ضوابط بنائے ہوئے ہیں: اگر انگریز بائیں طرف چلتا ہے تو ہم دائیں طرف چلیں گے، اگر وہ بٹن دبا کر بجلی آن کرتا ہے تو ہم بٹن اٹھا کر کریں گے اور اگر وہ پاؤں سے فٹ بال کھیلتا ہے تو ہم ہاتھوں سے فٹ بال کھیلیں گے بیشک اس میں لفظی تضاد پیدا ہو جائے۔ ان سب تضادات کے باوجود امریکہ اور برطانیہ کے حکمران طبقے ہمیشہ سے ایک دوسرے کے معاون رہے ہیں۔ ٹونی بلیر کی جگہ کوئی اور بھی ہوتا تو بھی امریکہ کی دوستی کے لئے اتنے ہی جھوٹ بولے جاتے۔ ٹونی بلیر کو بخوبی علم تھا کہ اس دوستی کے لئے ان کو اپنا سیاسی مستقببل داؤ پر لگانا ہوگا۔ ان کے لئے اس الیکشن میں لیبر پارٹی کا جیت جانا ہی بہت بڑی بات تھی اگرچہ لاس اینجلس ٹائمز کی سرخی کہتی ہے کہ ’لیبر پارٹی ماند پڑ گئی ٹونی بلیر جیت گئے‘۔ ٭٭٭٭ روس کے صدر ولادمیر پوتن نے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ اپنی جمہوریت اپنے پاس رکھے کیونکہ اس جمہوریت کے اپنے شدید مسائل ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار سی بی ایس ٹی وی کے پروگرام سِکسٹی منٹ کے مائیک والس کے ایک سوال کے جواب میں کیا۔ان سے پوچھا گیا تھا کہ پہلے روس میں ہر صوبے کا گورنر منتخب ہوتا تھا مگر انہوں نے اس میں تبدیلی کرکے یہ حق اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ جناب پوتن نے کہا کہ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور اس میں گورنر منتخب نہیں ہوتی بلکہ مقرر کئے جاتے ہیں۔ جب ہندوستان پر کوئی اعتراض نہیں ہے تو روس پر اس طرح کا اعتراض کیوں کیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جناب پوتن اس سوال پر کافی برہم ہوئے اور انہوں نے مائیک والس سے کہا کہ آپ بالکل غلط بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’ آپ (امریکہ) کی جمہوریت میں بہت سے مسائل ہیں۔ آپ پہلے الیکٹرز منتخب کرتے ہیں اور پھر وہ صدر کا انتخاب کرتے ہیں جبکہ روس میں صدر کا انتخاب براہ راست ساری آبادی کرتی ہے۔ یہ زیادہ جمہوری طریقہ ہے۔‘ اس کے علاوہ جناب والس کو جواب د یتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چار سال پیشترامریکی صدارتی انتخاب کا فیصلہ عدالت نے کیا تھا۔ عدالتی نظام کو دخل اندازی کرنا پڑی تھی۔ لیکن ہم آپ کے جمہوری معاملات میں ناک نہیں گھسیڑنا چاہتے۔ اس کا فیصلہ امریکی عوام کو کرنا ہے۔ روسی صدر کا خیال تھا کہ جمہوریت کو دوسرے ملک میں بر آمد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ ہر ملک کے حالات کے مطابق پنپتی ہے۔ اسی لئے وہ شروع سے عراق میں مداخلت کی مخالفت کرے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب امریکہ کا عراق کو ان حالات میں چھوڑ کر چلے آنا دوسری بڑی غلطی ہوگی۔ امریکہ اور روس کے درمیان یہ اختلافات صدر بش کے دورہ روس سے پہلے سامنے آ رہے ہیں۔ صدر بش روس نازی جرمنی کی شکست کی تقریبات میں حصہ لینے جا رہے ہیں۔ لیکن وہ روس کی ناراضگی کے باوجود جارجیا اور لٹویا کا دورہ کر رہے ہیں کیونکہ ان ملکوں نے روس میں ہونے والی تقریبات کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ نازیوں کی شکست سے ان ملکوں کو آزادی نہیں ملی تھی کیونکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد روس نے ان پر قبضہ کر لیا تھا۔ روسی وزیر خارجہ نے صدر بش کے ان ممالک کے دورہ کا اعلان ہوتے ہی امریکہ کو احتجاجی خط لکھا تھا جس کے جواب میں کانڈولیزا رائس نے جواب دیا کہ صدر بش جس ملک کا چاہیں دورہ کر سکتے ہیں۔ روس سے متعلقہ ماہرین کا کہنا ہے امریکہ اور روس کے تعلقات میں مسلسل تناؤ بڑھ رہا ہے۔ |