BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 30 April, 2005, 06:14 GMT 11:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تارکین وطن کیلئے وبال جان بِل

News image
امریکی کانگریس نے ’حقیقی شناخت ایکٹ‘ کے نام سے ایک قانون منظوری کی لئے سینیٹ کو بھیجا ہے جس کے تحت تارکین وطن کے لئے ڈرائیونگ لائسنس بنوانا یا سیاسی پناہ حاصل کرنا بہت مشکل ہو جائے گا۔

اس قانون کے ناقدین کا کہنا ہے کہ امریکی خانہ جنگی کے بعد پہلی مرتبہ کوئی ایسا قانون منظور کیا جائے گا جس کے تحت تارکین وطن سے حبس بے جا کے خلاف اپیل کا قانونی حق چھین لیا جائے گا۔ یہ نیا قانون پرائیویٹ پولیس کو امیگریشن قانون کے نفاذ کاحق بھی دے گا۔

مزید برآں یہ قانون ان ریاستوں کو ڈرائیونگ لائسنس جاری کرنے سے منع کر دے گا جہاں غیر قانونی تارکین وطن کو بھی ڈرائیونگ لا ئسنس جاری ہو جاتا تھا۔

امریکی کانگریس نے اس قانون کو عراق اور سونامی فنڈ کی منظوری کے قانون کے ساتھ مشروط کر دیا ہے جس کا مطلب ہے کہ اگر حکومت عراق جنگ اور سونامی کے لئے فنڈ لینا چاہتی ہے تو ’حقیقی شناخت ایکٹ‘ منظور کرنا پڑے گا۔
یہ قانون اس قدر غیر منصفانہ اور تارکین وطن کے خلاف ہے کہ حکمران ریپبلکن پارٹی کے چھ سینیٹروں نے اپنے سپیکر بل فرسٹ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس بل کو پیش نہ کریں کیونکہ یہ انتہائی پیچیدہ معاملہ ہے اور جب تک اس مسئلے پر ماہرین کی رائے معلوم نہ کر لی جائے، کوئی قدم اٹھانا غیر مناسب ہوگا۔

امریکی سینیٹ اور کانگریس میں کسی بھی سنجیدہ معاملے پر قانون سازی سے پیشتر ماہرین کی رائے معلوم کی جاتی ہے جس میں مخالف آراء کے حامل ماہرین بھی اپنی اپنی رائے دیتے ہیں۔

’حقیقی شناخت ایکٹ‘ پر اس طرح کی کوئی سماعت نہیں ہوئی لیکن ریپبلکن پارٹی کے کانگریس میں تارکین وطن کا مخالف دھڑا موقع کو غنیمت جان کر اس قانون کو منظور کروانا چاہتا ہے جو بہت مرتبہ ٹھکرایا جا چکا ہے۔

فیملیز فار فریڈم کی نمائندہ آرتی شاہانی کا کہنا ہے یہ قانون مضحکہ خیز حد تک نامعقول ہے کیونکہ اس کے تحت ایسا ماحول پیدا ہوگا کہ نہ صرف پولیس افسر بلکہ پرائیویٹ پولیس بھی تارکین وطن کو نشانہ بنا سکیں گے، ان کو پکڑوانے کے لئے مہم جوئی کریں گے تاکہ وہ انعام و اکرام حاصل کر سکیں۔

ان کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کو اس قانون کو روکنے کی مقدور بھر کوشش کرنا چاہیے۔ میکسیکن امریکن لیگل ڈیفنس اینڈ ایجوکیشنل فنڈ کا کہنا ہے کہ اس قانون کے نتیجے میں تارکین وطن کے خلاف متعصبانہ رویہ بڑھے گا جس کا شکار نہ صرف غیر قانونی لوگ ہوں گے بلکہ وہ تارکین وطن بھی جو کہ مستقل رہائشی ہیں یا امریکہ کی شہریت اختیار کر چکے ہیں۔

66مفاہمت کی مجبوری
ہندوستان و پاکستان کے بہتر ہوتے تعلقات
66پاکستانی معیشت
ترقی کی رفتارعارضی یادیرپا؟ منظور اعجاز
66پوپ اورذرائع ابلاغ
پوپ یا سیکولر ریاست کا جنازہ: منظور اعجاز کا کالم
66واشنگٹن ڈائری
شوکت عزیز ہیں توفکرکیسی:منظور اعجاز
66دیس پردیس ہوگیا
فطرت سے اجنبیت اور بےوطنی پر منظور اعجاز
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد