BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 March, 2005, 12:42 GMT 17:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پال کے ذاتی دوست شوکت عزیز

 شوکت عزیز
پال ولفوز شوکت عزیز کواپنا ذاتی دوست تصور کرتے ہیں۔
ڈاکٹر کونڈا لیزا رائس کے لیے دورہ ایشیا کافی اہم ہے کیونکہ امریکہ کی سپر پاور بنے رہنے کی جنگ اسی علاقے میں لڑی جائے گی۔

ٹوکیو میں متعدد جاپانیوں نےاظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے دنوں میں چین دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہوگی جبکہ ہندوستان دوسرے نمبر پر ہوگا اور امریکہ تیسری پوزیشن کے لیے تگ و دو کرے گا۔ ڈاکٹر رائس اس نقطہ نظر سے اتفاق کرتی ہوں یا نہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ چین ان کے ذہن پر بھی اتنا ہی سوار ہے جتنا کہ جاپانیوں اور ہندوستانیوں کے سر پر۔

چین سے نپٹنے کے لیے ہی ڈاکٹر رائس ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سمجھوتے کے حق میں ہیں اور اسی لیے وہ دونوں ملکوں کو ایف سولہ دینے کی پیشکش کر رہی ہیں۔ انہوں نے 2000 میں بش کے پہلے الیکشن کے دنوں میں فارن افیئرز میگزین میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ امریکہ میں زبردست رجحان ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے بارے میں کشمیر یا جوہری توانائی کے باہمی مقابلے کے حوالے سے ہی سوچا جاتا ہے لیکن ہندوستان تو چین کے مستقبل کے تخمینوں کا اہم عنصر ہے ، اس لیے اسے امریکی تخمینوں کا بھی حصہ ہونا چاہئیے۔ ہندوستان ابھی تک بڑی طاقت نہیں ہے لیکن اس میں بڑی طاقت بننے کی صلاحیت موجود ہے‘۔

سونامی طوفان کی تباہ کاریوں کے موقع پر ڈاکٹر رائس نے کہا تھا کہ یہ امریکی پالیسی کے لیے ایک سنہری موقع ہے جس پر سینیٹر باربرا باکسر نے انہیں بے درد اور بے ضمیر ہونے کا طعنہ بھی دیا تھا۔ اس سنہری موقع کو ڈاکٹر رائس نے اس طرح استعمال کیا تھا کہ جاپان، ہندوستان اور انڈونیشیا کا مشترکہ بحری بیڑہ تیار کرنے کی تجویز دی تھی جس سے امدادی کام کیا جا سکے۔ اصل میں امدادی کام کے بہانے بحری مشقوں کی تجویز تھی جس کو ہندوستان نے منظور نہیں کیا تھا۔

ہندوستان بھی اپنی معاشی ترقی کو جاری رکھنے کے لئے چین کے خلاف ’پنگا‘ نہیں لینا چاہتا بلکہ اس کے الٹ چین سے دوستانہ تعلقات استوار کر کے اپنی معاشی طاقت بڑھانا چاہتا ہے۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے پیچھے بھی یہی محرکات ہیں۔ اس عالمی سیاست کی شطرنج پر ہر طاقت اپنے مفادات کو مد نظر رکھ کر آگے بڑھ رہی ہے۔

کسی بھی پہلو سے دیکھا جائے امریکہ کے مفادات کا تقاضہ ہے کہ وہ چین کو گھیرا ڈالنے کے لیے ہندوستان اور پاکستان کا چین مخالف اتحاد قائم کرے۔
ڈاکٹر رائس کے دورے کو اسی سیاق و سباق میں دیکھا جانا چاہیے۔ وہ چین کا بھی دورہ کریں گی اور شاید چینیوں کو تائیوان کے خلاف فوج کشی کے بارے میں تنبیہہ کریں گی۔

ہندوستان اور پاکستان کو تو مستقبل میں استعمال کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ پاکستان اور ہندوستان کو ایف سولہ ایک دوسرے کے خلاف استعمال کے لیے نہیں کسی تیسری طاقت کے خلاف استعمال کے لیے دیے جا رہے ہیں۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

جنوبی ایشیا میں چین کے خلاف متحدہ محاذ بنانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں تو مشرق وسطی میں نام نہاد جمہوری دور قائم کرنے کا کھیل جاری ہے۔ بیروت میں شامی فوج کو نکال باہر کرنے کے لیے نکالے جانے والے جلوسوں کی یوکرین کے جلوسوں سے کس قدر مشابہت تھی؟ یوکرین ہی نہیں بلکہ ونزویلا میں بھی امریکہ کے ایما پر صدر ہوگو شاوز کے خلاف بھی جو جلوس نکالے گئے وہ بھی بیروت کے مظاہروں سے کافی مماثلت رکھتے تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ شامی فوجیں امریکہ کی رضامندی سے ہی بیروت میں مقیم تھیں اس لیے ان کا انخلاء امریکہ کے لیے نئی کامیابی نہیں ہے جیسا کہ بش انتظامیہ اور امریکی میڈیا پیش کر رہا ہے۔ البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ رفیق حراری کا قتل اور جلسے جلوس شام کے ساتھ نئی معاملہ بندی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

 پاکستان کو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے جب تک شوکت عزیز وزیرِاعظم ہیں کیونکہ پال ولفوز ان کو اپنا ذاتی دوست تصور کرتے ہیں۔

غالبا نئی پالیسی یہ ہے کہ شام کو ٹھکانے لگانے کے لئے (یا ڈرانے دھمکانے کے لئے) اور اس سے گولان پہاڑیوں پر اسرائیلی تسلط تسلیم کروانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس کا ہمسائیگی میں اثر و رسوخ زائل کیا جائے۔

اس کے علاوہ امریکی پالیسی کا ایک بہت بڑا مقصد حزب اللہ کو ختم کرنا بھی ہے جو کہ اسرائیل کے لیے مستقل خطرہ بنی ہوئی ہے۔ حزب اللہ کو ہی ختم کرنے کے لیے ایران اور شام پر ہر طرح کا دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور لبنان سے شامی انخلاء اسی کا حصہ ہے۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ شامی انخلاء کا بنیادی مقصد ہی حزب اللہ کا خاتمہ ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ حزب اللہ کو ختم کرنا یا اسے ایک دہشت گرد تنظیم قرار دینا آسان کام نہیں ہے کیونکہ حزب اللہ ایک بڑی سیاسی پارٹی ہے اور اس کے الیکشن میں جیتنے کے امکانات بھی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ پہلو بھی غور طلب ہے کہ شام کے انخلاء کے بعد لبنان میں خانہ جنگی شروع ہو گئی تو اسے روکنے والا کوئی نہیں ہوگا۔

بنیادی طور پر شامی فوج خانہ جنگی کو روکنے کے لئے لبنان بھیجی گئی تھی۔ اب شام کو نکال کر خانہ جنگی کے امکانات بڑھا دیے گئے ہیں۔ اس وقت یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ امریکی پالیسی ساز کس طرح حزب اللہ کا خاتمہ چاہتے ہیں اور کس لیے لبنان میں خانہ جنگی کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔

اس بارے میں بھی کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ لبنان کی ممکنہ خانہ جنگی کس طرح مشرق وسطیٰ میں جمہوریت کو آگے بڑھانے کا باعث ہوگی اور یہ خانہ جنگی کس ہمسایہ ملک کو فائدہ پہنچائے گی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

مشرق وسطیٰ کا نقشہ تبدیل کرنے والے اور امریکہ کو عراق کی جنگ میں جھونکنے والے امریکہ کے نائب وزیر دفاع جناب پال ولفوز کا نام ورلڈ بینک کی صدارت کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ ولفوز اس تھینک ٹینک کے بانیوں میں سے ہیں جن کو نیوکانز (نئے قدامت پرست) کہا جاتا ہے۔ انہی کے مشورے پر بش انتظامیہ نے دنیا میں امریکی برتری کی پالیسی مرتب کی تھی اورمشرق وسطی میں اکھاڑ پچھاڑ شروع کی تھی۔

اس گروپ کا فلسفہ ہے کہ امریکہ کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے دنیا کے کسی بھی ملک پر حملہ کرنے کا حق ہے۔ اس کو سیاسی زبان میں حفظ ماتقدم کے تحت حملے کے حق کا نام دیا گیا ہے اور یہ تصور امریکی سیاست میں بڑا متنازعہ مسئلہ ہے۔

سوال یہ ہے کہ اس گروپ کے سب سے بڑے نمائندے پال ولفوز ورلڈ بینک میں اس کا کیا اطلاق کریں گے؟ ایک بینک اہلکار نے نیم سنجیدگی سے کہا کہ پال ولفوز بینک میں آتے ہی ان ملکوں کی لسٹیں نکلوائیں گے جنہوں نے عراق جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیا تھا یا اس کی مخالفت کی تھی۔ امریکہ کے حامیوں کو نوازیں گے اور اس کے مخالفین کو مالیاتی سزا دلوائیں گے۔

خیر ایسا ہوا تو فرانس اور جرمنی کا تو کچھ ہو نہیں سکتا کیونکہ وہ ورلڈ بینک سے ادھار لیتے ہی نہیں ہیں لیکن مارے جائیں گے بیچارے چھوٹے ملک جو یہ نہیں جانتے تھے کہ ورلڈ بینک کو بھی پینٹاگون ہی کنٹرول کرتا ہے۔

پینٹاگون سے ورلڈ بینک کا کنٹرول کوئی نئی بات بھی نہیں ہے کیونکہ ویت نام جنگ میں امریکہ کے وزیر دفاع رابرٹ میکنامارا بھی ورلڈ بینک کے صدر بنائے گئے تھے۔ اس لئے عراق جنگ کے داعی پال ولفوز کی تقرری عین روایات کے مطابق ہے۔

اگر پال ولفوز اپنے نئے قدامتی فلسفے پر قائم رہے تو امریکہ ورلڈ بینک کی وساطت سے حفظ ماتقدم کا حق استعمال کرتے ہوئے دوسرے ملکوں کی مالیاتی منڈیوں پر کھلے حملوں کو بڑھاوا دے گا اور دنیا کی منڈیوں سے عراق جیسی خبریں آیا کریں گی۔ کسی دن یہ پتہ چلے گا کہ کسی چھوٹے ملک کا بینکاری نظام ناکام بنا دیا گیا تو کبھی یہ پتہ چلے گا کہ کہ فلاں ملک کی کرنسی بیٹھ گئی۔

پاکستان کو اس وقت تک فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے جب تک شوکت عزیز وزیرِاعظم ہیں کیونکہ پال ولفوز ان کو اپنا ذاتی دوست تصور کرتے ہیں۔

اسلام آباددیس پردیس ہوگیا
فطرت سے اجنبیت اور بےوطنی پر منظور اعجاز
شناخت کا بحران
خاتون پولیس اہلکار اور نقاب: منظور اعجاز کا کالم
کونڈالیزا رائس اور ہیلری کلنٹنواشنگٹن ڈائری
آئندہ امریکی صدر پر نئی بحث: منظور اعجاز
اسامہاسامہ مزید مہنگے
خوش قسمتی یا بے وفائی کس کے نام؟ منظور اعجاز
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد