آئندہ امریکی صدر کون؟ نئی بحث | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی صدر کونڈی رائس؟ بہت عرصہ سے یہ اشتہار ویب سائٹوں پر جھلملاتا رہتا تھا کہ ’ کون بنے گا صدر؟ ہیلری کلنٹن یا کونڈالیزا رائس (عرف کونڈی)‘ لیکن یہ اشتہار صرف ان ویب سائٹوں تک محدود تھا جو خاص الخاص خبروں کے چوہوں کے لیے بنائی گئی ہیں۔ کونڈی رائس کے وزیر خارجہ بننے اور یورپ کے طوفانی دورے کے بعد معاملہ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ اب تو ریپبلکن پارٹی کے سنجیدہ کالم نگار یہ درفنتنیاں چھوڑ رہے ہیں کہ ہیلری کلنٹن کو صرف کونڈی رائس ہی صدر بننے سے روک سکتی ہیں۔ کانگرس اور سینیٹ کے بارے میں شائع ہونے والے جریدے ’دی ہل‘ میں کالم نگار ڈِک مورس نے لکھا ہے کہ ’ کونڈی رائس ایسی سپرسٹار ہیں جو میڈیا کے دل کی دھڑکن بن چکی ہیں۔ وہ جب جرمن چانسلر گرہارڈ کی مزاحیہ انداز میں امریکہ دشمن پالیسیوں میں نرمی لانے کی کوشش کر رہی ہوں، روس کو جمہوریت کا سبق سکھا رہی ہوں یا اسرائیل کو آنے والے زمانے کی تلخ حقیقتوں کے بارے میں بتا رہی ہوں تو ایسا لگتا ہے جیسے ایک سیاسی ستارہ جنم لے رہا ہے۔‘
ریپبلکن پارٹی کے کرتا دھرتا اس فکر میں غلطاں ہیں کہ اگر سابقہ خاتون اول ہیلری کلنٹن صدارتی امیدوار ہوئیں تو وہ ان کی پارٹی کے لیے شدید مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔ ان کو اقلیتوں اور خواتین کا ووٹ بھاری تعداد میں ملے گا۔ اس لیے اگر ان کے مقابلے میں کونڈی رائس ہوں تو اس طرح کے سارے ووٹ وہ لے جائیں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کے شدید قدامت پرست مذہبی، اسقاط حمل کے مخالف، گن کنٹرول اور مساوی مواقع کے مخالف ان کو بہت چاہتے ہیں اور ان کی امیدواری کو خوش آمدید کہیں گے۔ یعنی انتہا پسند قدامت پرست حلقہ بھی ان کو ووٹ دے گا اور اقلیتیں بھی۔ کونڈی رائس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اگر وہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم کرانے کے قابل ہوگئیں اور ایران اور شمالی کوریا کا قضیہ بھی نمٹا سکیں تو ان کا سیاسی قد بہت بڑھ جائے گا۔ ان کا سٹینفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کا تجربہ بھی ان کی ویسے ہی مدد کرے گا جیسے وڈرو ولسن اور آئزن ہاور کی مدد ان کی پرنسٹن اور کولمبیا یونیورسٹی کی صدارتوں سے ہوئی تھی۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ان کو صدر بنا کر امریکہ اپنے نسل پرستی کے گناہ بھی دھو سکتا ہے۔ ٭٭٭٭٭
صدر بش کی جنرل مشرف کے ساتھ دوستی اپنا رنگ دکھا رہی ہے۔ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جنرل مشرف بش کی تقلید کرتے ہیں لیکن فیصلہ کرنے سے پہلے امریکہ کے نئے بجٹ پر نظر ڈالیے اور دیکھیے کہ کس پروگرام کی کٹوتی ہو رہی ہے اور کس مد میں خرچ بڑھایا جا رہا ہے تو آپ خود ہی بول اٹھیں گے کہ ’بشرف‘ کی اصطلاح ایسے ہی نہیں گھڑی گئی۔ صدر بش کے نئے بجٹ میں کوئی ڈیڑھ سو پروگراموں میں بھاری کٹوتی کا اعلان ہوا ہے۔ ان میں تمام پروگرام ایسے ہیں جن کا کسی نہ کسی طرح عوام کو فائدہ تھا۔ ان میں صحت، تعلیم، ماحولیات اور غربت ختم کرنے کے پروگرام شامل تھے۔ بجٹ کا اہم ترین پہلو یہ ہے کہ فوجی اخراجات کو بڑھا دیا گیا ہے۔ اب امریکی بجٹ پاکستان کے بجٹ سے کافی مشابہ ہو گیا ہے۔آ ئندہ سالوں میں یہ رجحان جاری رہے گا اور اب اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ صدر کس پارٹی کا ہے۔ ریپبلکن پارٹی کی دیرینہ خواہش تھی کہ امریکہ کے لنگڑے لولے فلاحی نظام کو ختم کیا جائے اور معیشت کی وافر پیداوار (منافع جات) کو سرمایہ دار گروہ کے تصرف میں دیا جائے۔ اس کے لیے چال یہ چلی گئی کہ پہلے سرمایہ داروں کا ٹیکس کم کردیا جائے تاکہ بجٹ کا خسارہ اتنا بڑھے کہ ہر کوئی پکار اٹھے کہ ہمیں بجٹ کم کر کے خسارے کو گھٹانا چاہیے۔ جب یہ مطالبہ عام ہو جائے تو عوام کے فلاحی پروگرام میں تخفیف کر دی جائے۔ اگر کوئی شور مچائے تو اسے غدار کا لقب دے کر کہا جائے کہ یہ قوم کے بجٹ کا بوجھ کم نہیں کرنا چاہتے۔ فوج کا بجٹ اس لیے بڑھانے کی ضرورت ہے کہ اول تو ملٹری انڈسٹریل کمپلکس کا تقاضا ہے کہ اس کے منافع کو بڑھانے کی لیے حکومتی سرمائے کی فراہمی بڑھائی جائے۔ دوسرے امریکہ کے حکمران طبقے کو دنیا کو فتح کرنے کے لیے اور اپنے لیے منڈیاں کھلی رکھنے کے لیے فوجی طاقت کی شدید ضرورت ہے۔اس طرح کی جڑواں پالیسی ہر بڑی طاقت نے استعمال کی ہے اور اسی کو ہی استعمال کرتے ہوئے اس کو زوال آیا ہے۔ یہ بھی کوئی نئی بات نہیں ہے کہ فوجی مہمات کی قیمت ہمیشہ عوام ہی ادا کرتے ہیں۔ اس کے بارے میں پاکستانی عوام سے زیادہ اور کون جانے گا؟ ٭٭٭٭٭
پاکستانی عوام کے فوجی اخراجات کا ہی ذکر واشنگٹن پالیسی انیلیسز گروپ کی ایک میٹنگ میں ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کی گفتگو کا موضوع تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب کے گیارہ اضلاع (لاہور، قصور، اوکاڑہ وغیرہ) میں فوج کو پچاسی لاکھ ایکڑ اراضی الاٹ کی گئی ہے۔ اس میں مغربی پنجاب اور سندھ کے اعداد و شمار شامل نہیں ہیں جہاں فوج کو وسیع و عریض قطعات دیئے گئے ہیں۔ ڈاکٹر صدیقہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صرف فوج ہی ایسا ادارہ ہے جس کا ہر نئی آباد ہونے والی زمین میں قانونی حصہ مقرر ہے۔ ان کے کہنے کے مطابق 1912 کے لینڈ کالونائزیشن ایکٹ کے مطابق آباد ہونے والی نئی زمین پر فوج کو 20 فیصد حصہ خود بخود مل جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اعلیٰ فوجی افسروں کی زمینیں عوام کے وسائل سے آباد کی جاتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جنرل مشرف کی بہاولپور میں دو مربع زمین پر لہلاتے کھیت اس کا ثبوت ہیں کہ کس طرح سے فوجی افسروں کو ترجیحی بنیادوں پر سہولیات فراہم کی جاتی ہیں اور کس طرح عوام ان سہولتوں سے محروم رہتے ہیں۔ ڈاکٹر صدیقہ نے تجویز کیا کہ فوج کو ملنے والے پوشیدہ فوائد کو جاننے کے لیے ان کو دی جانے والی سہولتوں کی قیمت مقرر کی جائے تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ اصل میں ایک فوجی افسر کیا پاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت جنرل کو ملنے والے فوائد کی قیمت 20 کروڑ روپے ہے جبکہ میجر جنرل اور لیفٹیننٹ جنرل دس اور پندرہ کروڑ روپے تک کا مفاد حاصل کرتے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ فوج میں ترقی پانے کا سیدھا سیدھا مقصد معاشی فوائد کا بڑھنا ہے۔ ڈاکٹر صدیقہ کا خیال ہے کہ فوجی افسروں کے فوائد کی قیمت کا حساب کرکے ان سے بات چیت کے جائے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستانی فوج ترکی کی بجائے انڈونیشیا اور چین کے ماڈل کی پیروی کر رہی ہے جس میں معاشی اداروں کا براہ راست کنٹرول شامل ہے۔ ٭٭٭٭٭
امریکہ میں رِئیلیٹی شو (حقیقی زندگی میں ڈرامہ) اپنے جوبن پر ہیں۔ شاید ٹی وی شو میں کروڑ پتی کی بیویاں بننے کا تماشہ ختم ہو گیا ہے لیکن اب بھی کسی شو میں عام لوگوں کو جنگل میں مہم آزمائی کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے تو کہیں یہ تجربہ ہو رہا ہوتا ہے کہ اگر بیویاں بدل دی جائیں تو کیا ہوگا؟ کل ایک شو پر نظر پڑی جس میں سچ مچ کی بیویاں بیچی جا رہی تھیں۔ ابھی ہم ’محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی‘ والا گھسا پٹا شعر یاد کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ سونامی ریلیف فنڈ کی لیے کیے جانے والے بولی وڈ کے شو میں مختلف ستاروں کی بولی کے سین دکھائے جانے لگے۔
ایشوریہ رائے کے ساتھ چائے پینے کے ساڑھے تین لاکھ، شاہ رخ کے ساتھ دن گزارنے کے چار لاکھ (یا کچھ اور)۔ بولیاں دینے والے بھی کھلم کھلا اپنی ناآسودہ حسرتوں اور ضرورت سے زیادہ جمع کی ہوئی دولت کا اظہار کر رہے تھے اور ستارے بھی اپنی قدر و قیمت کا ناپ تول کروا رہے تھے۔ اب تو معزز ترین مرد و خواتین بغیر کسی احساس گناہ کے کھلم کھلا ڈیٹ مار سکتے ہیں۔ بس شرط صرف یہ ہے کہ آپ مال دار ہوں اور کسی جگہ زلزلہ یا طوفان آیا ہوا ہو۔ پتہ نہیں کون کس کی نقل کر رہا ہے کہ ہالی وڈ کے ستاروں نے بھی بولی لگوانی شروع کر دی ہے۔ ابھی وہ ڈیٹ کی بولی تو نہیں لگوا رہے صرف اپنا وہ لباس بولی پر بیچ رہے ہیں جو وہ آسکر اکیڈمی ایوارڈ کی تقریب میں پہنیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||